سردار خفا ہو گئے۔۔۔!

ایک سردار جب بھی کپڑے دھونے لگتا موسلا دھار بارش شروع ہو جاتی۔ ایک دن موسم صاف دیکھ کر سردار نے کپڑے دھونے کا سوچا اور دکان سے سرف خریدنے چلا گیا۔ جیسے ہی سردار دکان میں داخل ہوا تو بہت زور سے بادل گرجا۔ سردار نے بادل کی طرف دیکھ کر کہا ’’کدر؟ میں تے نمکو لین آیا واں‘‘۔۔۔ سرداروں کے لطیفوں کا غیر زبان میں ترجمہ کریں تو لطیفے کا سواد ختم ہو جاتاہے۔ پٹھانوں اور سرداروں پر زیادہ لطیفے بنائے جاتے ہیں، اس کی وجہ خدا نخواستہ ان لوگوں کو احمق ثابت کرنا نہیں بلکہ ان اقوام کا لہجہ لطیفے کو چار چاند لگا دیتا ہے۔ ایک پٹھان اپنی بھابھی کو خوب مار رہا تھا، لوگوں نے پوچھا کہ تم اپنی بھابھی کو کیوں مار رہے ہو؟ پٹھان ’ہمارا بھابھی اچھی عورت نہیں ہے۔‘ لوگوں نے پوچھا تمہیں کیسے پتا چلا؟ پٹھان ’او یارا میں جس دوست سے بھی پوچھتا ہوں کہ تم کس سے فون پر بات کر رہے ہو، وہ یہی کہتا ہے کہ (تیری بھابھی سے)۔۔۔! ہم نے یہ لطیفہ جب ایک پٹھان دوست کو سُنایا تو وہ بولے ’’اس لطیفے میں ٹیکنیکل فالٹ ہے، پٹھان کا معلوم نہیں ہوتا، پٹھان ہوتا تو بھابھی کی بعد میں خبر لیتا، پہلے ان دوستوں کا بھرکس نکالتا جو اسکی بھابھی سے بات کر رہے تھے‘‘! پشتو اور پنجابی اقوام پر زیادہ لطیفے بنائے جاتے ہیں اور اس میں بُرا ماننے کی بات نہیں۔ ساس بہو اور میاں بیوی پر بھی لطیفے بنائے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ میراثی اور شیخ بھی لطیفوں کی گرفت میں رہتے ہیں۔ جو طبقہ یا برادری کسی خاص وجہ سے مشہور ہو گئی، اس پر محاورے اور لطیفے بنا ئے جانے لگے۔ پٹھان کی مذکر مونث اردو میں از خود ایک لطیفہ ہوتی ہے اس لئے اس دلچسپ انداز کلام کو لطیفوں میں استعمال کیا جانے لگا۔ سرداروں کا پنجابی لہجہ بھی دلفریب ہے، ویسے بھی پٹھان اور سردار سادہ دل لوگ ہوتے ہیں، مشکل بات بھی بڑی سادگی سے کہہ جاتے ہیں۔ لطیفہ شائستہ اور شگفتہ ہو تو پٹھان اور سردار اپنے لطیفوں پر خود بھی محظوظ ہوتے ہیں، غیر مہذب لطیفہ ہر برادری میں ہتک آمیز سمجھا جاتا ہے۔ بلاشبہ سب سے زیادہ لطیفے سرداروں پر بنائے گئے۔ جب سے سکھ وکیل مس چودھری نے سردار وں پر لطیفے بنانے کے خلاف دہلی سپریم کورٹ میں مقدمہ دائر کیا ہے، سرداروں کے لطیفوں پر ہنسی کے ساتھ خفگی محسوس ہونے لگی ہے۔ سردارنی برا ہی مان گئی حالانکہ پاک و ہند میں سرداروں کے علاوہ بھی بہت سے دلچسپ لوگ ہیں جن پر لطیفے بنائے جاتے ہیں مثلاً شیخ، پٹھان، بیوی، ساس، بٹ، چودھری، میراثی وغیرہ مگر یہ وکیل سردارنی تو خفا ہی ہو گئی اور سپریم کورٹ میں مقدمہ دائر کر دیا کہ سرداروں پر لطیفوں سے ہندوستان کے 20 کروڑ سکھوں کی دل آزاری کی جا رہی ہے۔ سرداروں پر لطیفوں کی کتابیں شائع کی جاتی ہیں اور اب 5 ہزار ویب سائٹس بن چکی ہیں۔ وکیل مس چودھری نے کہا کہ ’’انف از انف‘‘ میرے بچے سکھ شناخت سے شرمساری محسوس کرنے لگے ہیں۔ درسگاہوں میں سکھوں پر لطیفوں سے سکھ بچوں کے جذبات مجروح ہوتے ہیں۔بھارت میں سردار وں پر لطیفوں کی ایک نئی بحث شروع ہو چکی ہے، دیکھا دیکھی اگر پاکستان کے سردار، شیخ، پٹھان بھی غصہ کھا گئے تو لطیفوں کا کاروبار ٹھپ ہو نے کا اندیشہ ہے۔ لندن کی طرح نیویارک بھی سرداروں سے بھرا پڑا ہے اور یہ بات بھی ہمیں ایک سردار جی نے بتائی کہ ’’آلو اور سردار پوری دنیا میں پائے جاتے ہیں‘‘۔ مکھن سنگھ ایک پلمبر ہے، ہم نے اس سے پوچھا آپ کی ووٹی اپ کو نام سے پکارتی ہے؟ اس نے کہا نہیں تو ہمیں گھسا پٹا لطیفہ یاد آ گیا کہ ایک سردارنی کے شوہر کا نام مکھن سنگھ تھا۔ لسی بلو رہی تھی، پاس بیٹھے بیٹے نے پوچھا ’اماں لسی کے اوپر یہ کیا چیز تیر رہی ہے تو اماں نے کہا ’پتر تیرا (ابا) تیر رہاہے۔‘ سردار نے لطیفہ سنا تو ایک زوردار قہقہ لگایا اور خوش ہوتے ہوئے ہمیں بھی ایک لطیفہ سُنا ڈالا کہ ایک سردار اپنی ایک دن کی بیٹی کو گود میں لے کر رو پڑا اور کہا ’’نی جھلیے جے ایک سال پہلے پیدا ہو جاندی تے ماں پیو دا ویاہ ای ویکھ لیندی۔‘‘
پرانی بات ہے ہم ایک محفل میں پنجابی لطیفے سُنا رہے تھے کہ ایک سردار جی ہمارے پاس آئے اور کہا ’’تہانوں دیکھ کے مینوں اپنی مری بھُوا جی یاد آ گئے۔‘‘ ہم نے اسّی سالہ سردار انکل کی طرف دیکھا اور بھنویں سکیڑتے ہوئے پوچھا ’’بھُوا جی؟ سردار جی نے وضاحت کرتے ہوئے کہا ’’عمر سے نہیں شکل سے۔‘‘ ہم نے زبردستی مسکراتے ہوئے کہا ’’آپاں وی جاٹ آں، بھوا جی نال شکل تاں ملنی سی‘‘۔۔۔ سردار قوم چلتے پھرتے مزاح کو دعوت دیتی ہے ورنہ لطیفے ہر قوم پر بنائے جاتے ہیں۔ ایک میاں بیوی میں لڑائی ہو گئی، شوہر غصے سے ’تجھ جیسی مجھے ہزاروں مل جائیں گی‘۔ بیوی فخریہ ہنسی ہنستے ہوئے ’ابھی بھی مجھ جیسی ہی چاہتے ہو‘‘۔۔۔ پٹھان عرب گیا، ٹیکسی میں بیٹھا اور جب منزل پر پہنچنے والا تھا تو بہت پریشان ہُوا کہ عربی میں ٹیکسی روکنے کو کیا کہتے ہیں۔ بہت سوچنے کے بعد ڈرائیور کے کندھے پر ہاتھ رکھ کے بولا ’’صدق اللہ العظیم‘‘۔ ایک شیخ حالت نزع میںتھا، سارا خاندان اس کے اطراف سوگوار بیٹھا تھا۔ شیخ نے اکھڑی سانسوں سے بیوی سے پوچھا، سارے بچے کہاں ہیں، بیوی نے کہا سب بچے آپ کے پاس بیٹھے ہیں، ملازمہ کا پوچھا، بتایا وہ بھی ادھر بیٹھی ہے، شیخ نے برہم ہوتے ہوئے کہا ’’پھر ساتھ والے کمرے کا پنکھا کیوں چل رہا ہے۔‘‘ ایک میراثی آخری سانسیں لے رہا تھا۔ سب میراثی باپ کی چارپائی کے پاس خاموش بیٹھے تھے، صبح سے دوپہر ہو گئی، ایک میراثی نے کہا ’’ویلے جو بیٹھے آں، پولی پولی ڈھولکی نہ وجا لیئے‘‘۔۔۔ لطیفے ہر قوم اور ہر ذات و برادری پر بنائے جاتے ہیںلہٰذا سکھ وکیل کو اتنا جذباتی ہونے کی ضرورت نہیں کہ سپریم کورٹ دہلی میں سرداروں پر لطیفوں کے خلاف مقدمہ دائر کر کے پاک و ہند کو مسکراہٹ سے محروم کر دے۔