ہمارے ”بقراط عصر“نصرت جاوید

راولپنڈی کی لال حویلی سے اُٹھے بقراطِ عصر نے اعلان کردیا ہے کہ بلوچستان سے متعدد بار قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہونے والے محمود خان اچکزئی بھارتی خفیہ ایجنسی ”را“ کے ایجنٹ ہیں۔ ”را“ کے دئیے مبینہ پیسوں سے شاید اچکزئی کا گزارہ نہیں ہوتا اس لئے Sideپرانہیں ”خاد“ نامی کسی ادارے کے لئے بھی کام کرنا پڑتا ہے۔
”خاد“ روسی قبضے کے دوران افغانستان کی خفیہ ایجنسی کا نام ہوا کرتا تھا۔ان دنوں اسے NDSکہا جاتا ہے۔ راولپنڈی کی لال حویلی سے اُٹھے بقراطِ عصر مگر ہمارے ایک مشہور لطیفہ کے اس کردار کی مانند ہیں جسے اس کے ایک دوست نے بارہا یہ پوچھتے ہوئے بیزار کردیا کہ ہاتھی انڈہ دیتا ہے یا بچہ؟۔ بالآخر تنگ آکر وہ کردار یہ جواب دینے پر مجبور ہوا کہ ”ہاتھی ایک بڑا جانور ہے۔ اس کی مرضی ہے کہ انڈہ دے یا بچہ“۔
ہاتھی کی طرح راولپنڈی کی لال حویلی سے اُٹھے بقراطِ عصر بھی ایک بڑے سیاستدان ہیں۔ عمران خان کو نواز حکومت گرانے کے لئے کوئی اہم موڑلینا ہو تو ان کی فراست سے رجوع کرتے ہیں۔ساری زندگی کتابیں لکھنے اور اسلام کی تبلیغ کی خاطر پا کستان چھو ڑ کر اپنے عالمی دوروں کے لئے ویزا اور امیگریشن سے جڑی چخ چخ سے نجات پانے کے لئے ملکہ برطانیہ سے وفاداری کا حلف لینے کے بعد کینیڈین پاسپورٹ حاصل کرنے والے شیخ السلام علامہ طاہر القادری نے بھی حال ہی میں ہمارے بقراطِ عصر کو اپنی قصاص تحریک کے لئے دوسری سیاسی جماعتوں سے روابط استوار کرنے کی ذمہ داری ہمارے بقراط عصراسی ہر دلعزیز سیاستدان کو سوپنی ہے۔
پانامہ پیپرز کے نام پر شریف خاندان کی غیر ملکی جائیدادوں کے ”ثبوت“ منظرِ عام پر آئے تو قومی اسمبلی میں قائدِ حزب اختلاف خورشید شاہ کو ہرگز سمجھ نہ آئی کہ وہ ان ”ثبوتوں“ کے طشت از بام ہوجانے کے بعد نوازشریف کو نااہل کرواکر گھر کیسے بھیجیں۔ یہی پریشانی میرے دوست اور بھائی چودھری اعتزاز احسن کوبھی لاحق ہوئی۔
چودھری صاحب کیمرج کے ہونہار طالب علم رہے ہیں۔ صفِ اوّل کے بیرسٹر ہونے کے ساتھ ہی ساتھ وہ شاعری بھی فرماتے ہیں۔ قیامِ پاکستان کو ٹھوس جغرافیائی بنیادوں پر ایک تاریخی سیاسی عمل ثابت کرنے کے لئے بے تحاشہ تحقیق کے بعد انہوں نے ”انڈس ساگا“ کے عنوان سے ایک بھاری بھر کم کتاب بھی لکھ رکھی ہے۔محترمہ بے نظیر بھٹو کی پہلی وزارتِ عظمیٰ میں ایک تگڑے وزیر داخلہ بھی تھے۔ عدلیہ بحالی کی تحریک میں آن،بان اور شان ہرگز نظر نہ آپاتی اگر وہ افتخار چودھری کے ”انکار“ کے بعد فوراََ لاہور سے اسلام آباد پہنچ کر سابق چیف جسٹس کے وکیل اور ڈرائیورنہ بنتے۔ ان دنوں چودھری صاحب ایوانِ بالا میں قائدِ حزب اختلاف بھی ہوا کرتے ہیں۔ ان کا زرخیز ذہن بھی مگر یہ معلوم نہ کرپایا کہ پانامہ پیپرز کے نام پر ہوئے انکشافات کو نواز حکومت کے خلاف ایک جاندار تحریک چلانے کے لئے کیسے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اپنے ذہن کی اس ضمن میں کج رفتاری کو دریافت کرنے کے بعد چودھری صاحب،خورشید شاہ کو ہمراہ لے کر لال حویلی جانے کے بعد بقراطِ عصر کے روبروحاضر ہونے پر مجبور ہوگئے۔
بیرسٹر اعتزاز احسن سے کئی برس پہلے اگرچہ ہماری ٹی وی سکرینوں پر عقلِ کل بنے اینکرخواتین وحضرات نے بقراطِ عصر کی فراست کو اپنے تئیں دریافت کرلیا تھا۔ اسی باعث وہ تقریباََ ہر ہفتے اپنی نوکریوں کو شاندار ریٹنگ دکھاکر بچانے کے لئے ان سے ”ون آن ون“ انٹرویو کرنے کو بے چین رہتے ہیں۔ وہ اگر “NDS”کو ”خاد“کہتے ہیں تو ہمیں تسلیم کرنا ہوگا کہ ایسا کوئی ادارہ شاید اب بھی موجود ہے اور محمود خان اچکزئی اس کے لئے کام کرتے ہیں۔
ایک نہیں بلکہ دوغیر ملکی ایجنسیوں کے لئے کام کرنے کے باوجود محمود خان اچکزئی نے وزیر اعظم نواز شریف سے بھی بقول بقراطِ عصر بے شمار فوائد اٹھائے ہیں۔سوال اٹھتا ہے کہ پاکستان کا تیسری بار وزیر اعظم منتخب ہونے والے نواز شریف کو چودھری نثار علی خان اور ان کی بتائی 26ایجنسیاں اب تک کیوں نہیں بتاپائیں کہ محمود خان ”را“ اور ”خاد“ کے لئے کام کرتے ہیں۔
آئین کا آرٹیکل 62واضح لفظوں میں اس شخص کے رکن اسمبلی بننے کی راہ روکتا ہے جو غیر ملکی ایجنسیوں کا کارندہ ہو۔ سوال اٹھتا ہے کہ محمود خان اچکزئی نے جب بھی قومی اسمبلی کا رکن بننے کے لئے اپنے کاغذات داخل کئے تو اس آرٹیکل کو ان کی راہ روکنے کے لئے استعمال کیوں نہیں کیا گیا۔
آرٹیکل 62کے ہوتے ہوئے بھی اگر کوئی ”غیر ملکی ایجنٹ“ قومی اسمبلی کارکن بن جائے تو آرٹیکل 63کے ذریعے اس کے خلاف ایک ریفرنس داخل کرکے سپیکر قومی اسمبلی کو اسے De-Seatکرنے کا عمل شروع کرنے پر مجبور کیا جاسکتا ہے۔ راولپنڈی کی لال حویلی سے اٹھے بقراطِ عصر موجودہ قومی اسمبلی میں ہال کے ہمارے لئے انتہائی دائیں اور سپیکر کے سامنے انتہائی بائیں جانب، موجود قطارِ اوّل میں محمود خان اچکزئی کے ساتھ والی نشست پر موجود ہوتے ہیں۔
مجھے امید ہے کہ منگل کی سہ پہر اچکزئی کی بابت بقراطِ عصر نے جن”حقائق“ کا انکشاف کیا ان کا سہارالیتے ہوئے وہ بذاتِ خود سپیکر ایاز صادق کے روبرو آرٹیکل 63کو بروئے کار کر ”را“ اور ”خاد“ کے اس مبینہ ایجنٹ کی نااہلی کے لئے ٹھوس قدم اٹھائیں گے۔ بیرسٹر چودھری اعتزاز احسن اور خورشید شاہ کی معاونت بھی انہیں میسر ہونا چاہیے۔وہ دونوں تعاون کرنے سے انکار کردیں تو بقراطِ عصر کو آئندہ انہیں اپنے نسخہ ہائے کیمیا مفت فراہم نہیں کرنا چاہئیں۔
راولپنڈی کے بقراطِ عصر مجوزہ قدم اٹھاتے ہیں یا نہیں یہ میرا دردِ سر نہیں۔ مجھے دُکھ ہے تو صرف اس بات کا کہ سانحہ کوئٹہ کے بعد تھوڑی دیر کو دہشت گردی کیخلاف متحد نظر آئی قوم اب اپنی ہی صفوںمیں”را“ اور ”خاد“ کے ایجنٹ تلاش کرنے میں مصروف ہوگئی ہے۔ کوئٹہ میں دہشت گردی کا اصل منصوبہ ساز کون تھا؟ کن افراد نے اس کی معاونت کی؟ ان لوگوں کے سہولت کار کون تھے؟ ان سب سوالوں کا جواب ڈھونڈنا فی الحال نظرانداز کردیا گیا ہے۔