پاکستان میں ’’را‘‘ کامیاب ہے اور آئی ایس آئی؟کالم نگار | ڈاکٹر محمد اجمل نیازی

میری ایک آنکھ کا آپریشن ہوا ہے۔ میں نے برادرم سعید آسی کو فون کیا تھا کہ میں آج بھی کالم نہیں لکھ سکوں گا۔ مگر یہ چند سطریں اپنے آپ ہی لکھی گئی ہیں۔ پاکستان میں بار بار دھماکے ہوئے ہیں اور ہر بار حکومت کے ذمہ داران کے بیانات آتے ہیں کہ ہم دہشت گردوں کو کیفر کردارتک پہنچائیں گے۔
ایک آدمی نے کسی دوسرے آدمی کو تھپڑ جڑ دیا۔ اس نے غصے میں کہا کہ اب کے مار کے دیکھ میں تیرا کیا حشر کرتا ہوں۔ اس نے دوسرا تھپڑ دے مارا تو اس آدمی نے مزید غصے سے کہا کہ اب کے مار اور پھر دیکھ۔ اس نے اس سے زیادہ قوت سے پھر تھپڑ جڑ دیا۔ تھپڑ کھانے والے نے پھر کہا کہ اب کے مار۔ اس نے چوتھا تھپڑ جڑ دیا۔ وہ آدمی بہت مستقل مزاج تھا۔ بار بار کہتا رہا کہ اب کے مار۔ وہ بار بار تھپڑ مارتا رہا۔ وہ بار بار کہتا رہا کہ اب کے مار۔ تھپڑ مارنے والا تھک ہار کر چلا گیا تو اس نے کہا بھاگ گئے ہو سالے وہ واپس آ گیا اور اس ڈھیٹ آدمی کے منہ پر تھپڑوں کی بارش کر دی۔
تو ہم پر بھی دھماکوں کی بارش ہو رہی ہے۔ بارش سے موسم خوشگوار ہو جاتا ہے۔ امن و امان کے ذمہ داران ہر بار کہتے ہیں کہ ہم دہشت گردوں کو کیفر کردار تک پہنچا دیں گے اور پھر دھماکہ ہو جاتا ہے۔
ہم ’’را‘‘ کا نام لیتے ہیں اور بھارت کے حکمران بالکل ناراض نہیں ہوتے۔ وہ اس کی تردید بھی نہیں کرتے۔ آرمی پبلک سکول میں قتل و غارت ہوئی۔ چھوٹے چھوٹے معصوم بچے خون میں لت پت ہو گئے۔ کئی شہید ہوئے۔ ہم آرمی پبلک سکول کی حفاظت بھی نہیں کر سکے۔ کہاں گئی ہماری انٹیلی جنس۔
جنرل راحیل شریف کی اہلیہ بھی متاثرہ خاندانوں کے پاس گئیں۔ یہ اچھی بات ہے تو دوسری جگہوں پر بھی بچے مرتے ہیں۔ وہاں سرکاری لوگ بھی نہیں جاتے۔ اس دوزخ بنتی ہوئی زمین پر بچے جنت کے باشندے ہیں۔ گلشن پارک لاہور میں بھی بچے خون میں نہا گئے تھے۔
چودھری نثار بڑے زبردست وزیرداخلہ ہیں مگر وہ اس طرح کے دھماکوں کے بعد اکثر خاموشی اختیار کرتے ہیں۔ یعنی ہم کچھ نہیں کر سکتے۔ یہ جو کچھ ہوتا ہے اس میں کچھ ذمہ داری ان کی بھی ہے۔ ایک لطیفہ سن لیں جو نواز شریف نے خود اپنی تقریر میں سنایا تھا۔ چودھری نثار اکثر نواز شریف کی باتوں کی طرف دھیان نہیں دیتے۔ تو مری بات ہی سن لیں۔ جنگل میں ایک بندہ اکیلا تھا اس کے پاس کوئی اسلحہ بھی نہ تھا۔ سامنے سے شیر آ گیا آدمی کے دل میں خیال آیا کہ اب کیا کروں۔ پھر فوراً دوسرا خیال آیا کہ میں نے کیا کرنا ہے جو کچھ کرنا ہے شیر نے کرنا ہے۔ شیر کے نام اور انتخابی نشان پر نواز شریف نے ووٹ لیے ہیں اور تیسری بار وزیراعظم بنے ہیں مگر دہشت گردی بڑھتی ہی جا رہی ہے۔ جو کچھ کر رہے ہیں دہشت گرد کر رہے ہیں اور وہ بقول ہمارے حکمرانوں کے ’’را‘‘ کے ایجنٹ ہیں۔ یہ بات کبھی نواز شریف نے نہیں کی۔
مارشل لاء نہ ہو مگر کوئی لا تو ہو۔ چودھری نثار کا اچھا خاصا تعلق فوج سے بھی ہے مگر وہ لاتعلق نہیں ہیں۔ کیا ہم ناکام ہو گئے ہیں؟ اللہ نہ کرے اور کیا ’’را‘‘ کامیاب ہو گئی ہے۔ اللہ نہ کرے مگر ہم بھی تو کچھ کریں؟
کوئٹہ میں پونے دو سو آدمی جان سے گئے اور ہم صرف بیانات دے رہے ہیں جو ہر بار اس طرح کے واقعے کے بعد دیتے ہیں۔ فضل الرحمن کہتے ہیں کہ ایجنسیاں کہاں تھیں؟ اچکزئی کہتے ہیں وزیراعظم تحقیقات نہ کر سکنے پر انٹیلی جنس سربراہوں کو ہٹا دیں۔ اس سے کیا ہو گا۔ اگر اچکزئی کو بھی لگا دیا جائے تو کیا کچھ نہیں ہو گا؟ کوئٹہ میں فرنٹیئر کور کے اہلکار جگہ جگہ موجود ہیں تو صدر بار ایسوسی ایشن کی ٹارگٹ کلنگ کیسے ہوئی اور سول ہسپتال میں دھماکہ کیسے ہو گیا۔ یہ بھی ’’را‘‘ کی کارروائی ہے تو بھارتی ایجنٹ کہاں تک گھسے ہوئے ہیں۔ یہ تو بتایا جائے کہ ہمارے مقامی لوگ کس قدر ملوث ہیں۔ ان کے تعاون کے بغیر اتنی بڑی کارروائی نہیں ہو سکتی ہے۔
عبدالستار باچانی نے کہا کہ اتنے بڑے واقعے کے بعد بھی وزیر داخلہ چودھری نثار نے اسمبلی میں آنے کی زحمت گوارا نہیں کی۔ دھماکے میں زخمیوں کیلئے نوازشریف‘ جنرل راحیل شریف‘ شہبا زشریف تو کوئٹہ گئے مگر چودھری نثار نہیں گئے۔ بھارتی وزیر داخلہ کو دوٹوک جواب ہمارے دلیر اور غیور وزیر داخلہ نے دیا تو کیا وہ کوئٹہ نہیں جا سکتے تھے۔ یہ بھی را کی کارروائی ہے اور چودھری صاحب نے پہلے ہی کہہ دیا ہے کہ پاکستان کے اندر ’’را‘‘ ملوث ہے۔ اس کے بعد ان کی ذمہ داری پوری ہو گئی ہے۔
وزیراعظم بھی شریف اور آرمی چیف بھی شریف ہیں تو یہ سب کیا ہو رہا ہے مگر وزیراعلیٰ پنجاب بھی شریف ہیں اور یہاں کوئی خاص دہشت گردی نہیں ہو رہی ہے۔ آرمی چیف کا بڑا چرچا ہوا تھا ان کی کارکردگی اور کامیابی سے لوگ خوش ہوئے۔ ان سے محبت کرنے لگے۔ محبت اب بھی ان سے قائم ہے مگر چرچا کچھ کم پڑ گیا ہے۔ ان کی ریٹائرمنٹ قریب آ رہی ہے۔ وہ کچھ تھکے تھکے لگتے ہیں۔ اللہ انہیں مزید ہمت دے۔