چین نے امریکہ کا آبی ڈرون واپس کر دیا
Banner

بیجنگ (ڈیلی خبر) چین نے امریکہ کو اس کا آبی ڈرون واپس کر دیا ہے اور پینٹاگون نے اس کی تصدیق کر دی ہے۔ یہ آبی ڈرون اس جگہ کے قریب امریکہ کو واپس کیا گیا جہاں سے اسے قبضے میں لیا گیا تھا۔چین نے گزشتہ جمعرات کو یہ آبی ڈرون بین الاقوامی پانیوں سے ایسے حالات میں قبضے میں لیا تھا جب دنیا کی 2 بڑی طاقتوں کے درمیان دہائیوں کی سب سے بڑا کشیدگی جاری ہے۔ چین کی وزارت دفاع کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ چینی اور امریکی وفد کے درمیان دوستانہ مذاکرات کے بعد آبی ڈرون کی واپسی کا عمل کامیابی سے مکمل ہوا۔پینٹا گون کا کہنا ہے کہ آبی ڈرون (جسے اَن مینڈ انڈر واٹر وہیکل کے طور پر جانا جاتا ہے) کو جب چین کی جانب سے قبضے میں لیا گیا، اس وقت یہ سائنسی تحقیق لے جا رہی تھی۔ تازہ ترین بیان میں یہ بھی کہا گا ہے کہ یہ حادثہ بین الاقوامی قوانین اور بحری افواج کے درمیان کوڈ آف کنڈکٹ سے مطابقت نہیں رکھتا اور اس کی تحقیق بھی کی جائے گی۔ چینی وزارت دفاع کے مطابق یہ آب ڈرون چین کے ایک بحری جہاز نے شمالی چین کے سمندر میں فلپائن کے قریب سے پکڑا تھا اور اسے وہاں سے گزرنے والی دیگر ’بحری ٹریفک‘ کی حفاظت کو یقینی بنانے کیلئے اس کی جانچ پڑتال کی گئی۔ اگرچہ ڈرون کی واپسی کا معاہدہ آسانی سے طے پا گیا اور اس کیلئے تلخ بیانات کا تبادلہ بھی نہ کرنا بلکہ امریکہ کو تو سفارتی شکایت کا موقع بھی نہیں ملا لیکن اس کے باوجود نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین پر ”چوری“ کا الزام لگایا ہے۔ انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ٹوئٹر‘ پر ایک بیان جاری کیا اور کہا کہ ”ہمیں چین کو یہ بتانا چاہئے کہ ہم وہ آبی ڈرون واپس نہیں لینا چاہتے جو اس نے چرایا ہے۔ وہ انہیں رکھنے دو۔“اس بیان کے بعد چینی وزارت دفاع نے امریکی ردعمل کو ”غیر مناسب“ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ آبی ڈرون مناسب انداز میں ہی واپس کیا جا ئے گا۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ چین کے اس اقدام سے شمالی چین کے سمندروں میں چینی فوج کی تعمیرات کے امریکی خدشات میں مزید اضافہ ہو گا۔ چین نے خطے کے مختلف حصوں پر علاقائی حقوق کا دعویٰ کر رکھا ہے تاہم کئی ممالک نے چین کے اس دعوے کو مسترد کیا ہے۔