ایک شخص غریب ہے تو سب غریب ہیں کالم نگار | ڈاکٹر محمد اجمل نیازی

ڈاکٹر امجد ثاقب نے ایک جملے میں تقدیر تاریخ اور تہذیب کو سمو دیا ہے۔ یہ جملہ کتابوں پر بھاری ہے۔ ڈاکٹر امجد ثاقب فلاحی جذبوں سے بھرے ہوئے ہیں۔ مجھے لگتا ہے کہ وہ بھلائی سے بنے ایک بھرپور تخلیقی آدمی ہیں۔ جس آدمی کے دل میں درد و گداز اور سوز و ساز ہر وقت نہ تڑپتا ہو۔ وہ ایسا بامعنی اور بامراد جملہ نہیں کہہ سکتا۔ ڈاکٹر امجد ثاقب شعر و ادب کے بھٹکے ہوئے مسافر ہیں۔ یہ سچے مسافروں کا مقدر ہے کہ وہ خود بھٹکے ہوئے ہوتے ہیں مگر بھٹکے ہوﺅں کی رہنمائی اور رفاقت میں زندگی گزار دیتے ہیں۔
بہت بڑے انسان کے مرتبے پر فائز شخص بہت معمولی لوگوں کی دلجوئی اور خبر گیری میں لگا ہوا ہو۔ وہ نجانے کس جہان وگر سے ہمارے جہان خراب میں آیا ہے کہ ہر طرح سے غریبانہ ماحول کو اچھا کر دے۔
وہ کالم لکھتے ہیں اور خوب لکھتے ہیں۔ اس کا اندازہ کالم کے نام سے کریں۔ ”شہاب ثاقب“ گلگت بلتستان کے لوگوں سے ملنے جاتے ہیں اور ان کے لیے کالم لکھتے ہیں۔ گلگت کے وزیراعلیٰ سے کہا ترقی وہ نہیں جس کی روشنی چند گھروں تک پہنچے۔ اور اس کے بعد جو جملہ ہے وہ میرے آج کے کالم کا عنوان ہے۔ ”ایک شخص غریب ہے تو ہم سب غریب ہیں“۔
گلگت کے چیف سیکرٹری طاہر حسین کے لیے ڈاکٹر امجد ثاقب کی یہ بات ان کی تعریف کے لیے بہت کافی ہے کہ طاہر حسین اور میں ایک دن سول سروس میں آئے تھے۔ طاہر صاحب نے استعفیٰ نہ دیا تو پھر سول سروس میں وہ کچھ کر دکھائیں جو امجد ثاقب نے سروس سے باہر رہ کر کر دکھایا۔ اپنا ایک جملہ سارے بیورو کریٹس اور بالخصوص طاہر حسین کے لیے لکھ رہا ہوں۔ ”اگر ایک صوبے کا چیف سیکرٹری اور ایک ضلعے کا ڈی سی او طے کر لے تو وہ اپنے علاقے کو جنت بنا سکتا ہے تو اب تک ہمارا ملک دوزخ کیوں بنا ہوا ہے؟
طاہر صاحب نے بتایا کہ انہوں نے گلگت میں لوگوں سے پوچھا کہ اس دفعہ دس لاکھ سیاح آئے ہیں جبکہ ہمیشہ ان کی تعداد ہزاروں میں ہوتی ہے تو انہوں نے کہا کہ ہم نے لڑنا چھوڑ دیا ہے۔ بہت دنوں سے یہاں کرفیو نہیں لگا۔ یہ پیغام پاکستان کے سب علاقوں کے لوگوں کے لیے ہے۔ لڑنا بھڑنا چھوڑو اور جینا شروع کرو۔ اس سے ایک بھائی چارہ جنم لے گا اور جینا آسان ہو جائے گا۔ زندگی گزارنے کا لطف آ جائے گا۔
ڈاکٹر امجد ثاقب کی تنظیم ”اخوت“ کا یہی مقصد ہے۔ اخوت کے لفظ کے اندر وہ سب کچھ موجود ہے جو ڈاکٹر صاحب کی زندگی کا مقصد ہے۔ علامہ اقبال نے جسے اخوت کی جہانگیری کہا ہے۔ ترقی وہ نہیں جو چند گھروں کی روشنی تک محدود ہو۔
گوادر کی ایک بہادر بیٹی کے سوال پر شہباز شریف کھلکھلا کر ہنس دیے۔ وہ بڑے اچھے لگے کہ انہیں ہنستے ہوئے بہت کم لوگوں نے دیکھا ہے۔ وہ نجی محفلوں میں بالکل اور طرح کے انسان ہوتے ہیں۔ برادرم شاہین بٹ کی گھریلو محفل میں جو شاہین صاحب کے گھر پر کھانے کی دعوت کی صورت میں ہوتی ہے اس محفل میں وہ بہت بے تکلفی کے ماحول میں ہوتے ہیں مگر وہ وہاں بھی اس طرح کھل کر نہیں ہنستے جس طرح گوادر کی ایک معصوم لڑکی کی بے باکی پر ہنس دیے۔ میرا خیال ہے کہ اس کے علاوہ کوئی جواب میاں صاحب کے پاس نہ تھا۔
ایک دفعہ ہیلری کلنٹن ایک بے ساختہ اور بے خوف لڑکی کی اس بات پر ہنستے ہنستے بے حال ہو گئی اگر وہ بحال ہوتی تو اسے سوال کا جواب دینا پڑتا۔ اور اس سوال کا کوئی جواب نہ تھا۔ پاکستان کے ساتھ جو کچھ امریکہ نے کیا ہے۔ وہ بہت افسوسناک ہے کہ پاکستان امریکہ کا ساتھی ہے۔ لڑکی نے دریا کوزے میں بند کر کے ہیلری کے سر پر انڈیل دیا۔ آپ پاکستان کے لیے ایک ناراض ساس کی طرح ہیں اور پاکستان ایک کمزور بہو ہے۔ ہیلری صرف ہنس دی اور بات ہنسی میں اڑ گئی۔ یہ جرات شاید صرف لڑکیوں میں ہے کہ وہ لاجواب کرنا جانتی ہیں۔
ایک لڑکی نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ لیپ ٹاپ بلوچستان میں بھی دیے جائیں۔ ساتھ ہی ایک لڑکی کو شہباز شریف ایک تصویر میں لیپ ٹاپ دے رہے ہیں جو گوادر سے پنجاب کا دورہ کرنے آئی تھی مگر جو لڑکیاں گوادر سے آ کر پنجاب کا دورہ نہیں کر سکتیں۔ ان کا بھی حق ہے اور ضرورت بھی ہے انہیں بھی لیپ ٹاپ دینا چاہیے۔ انہیں یہ بھی بتایا جائے کہ لیپ ٹاپ کے استعمال سے غربت کس طرح ختم کی جا سکتی ہے۔ یہاں مجھے پھر ڈاکٹر امجد ثاقب کا یہ جملہ یاد آتا ہے۔
ایک شخص غریب ہے تو ہم سب غریب ہیں۔
میں نے ایک دفعہ جامعہ نعیمیہ میں ڈاکٹر راغب نعیمی کی سربراہی میں مہمان خصوصی وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ آپ لوگ غریب ختم کرنے کا اعلان کرتے رہتے ہیں۔ ہم غریبی ختم کر دیں گے۔ ہم غریبی ختم کر دیں گے۔ آپ غریبی ختم نہ کرو تھوڑی سی امیری ختم کر دیں۔ غریبی خود بخود ختم ہو جائے گی۔ پھر ایک بھی شخص غریب نہ رہے گا۔ غریب نہ ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ وہ امیر کبیر ہو۔ آدمی امیر نہ ہو مگر وہ کسی کا محتاج نہ ہو۔ رسول کریم نے ایک بار فرمایا زکوٰة دینے والے سے زکوٰة نہ دینے والا بہتر ہے کہ اس پر زکوٰة فرض ہی نہیں ہوتی۔