پُراعتمادی اور رعونت کالم نگار | نصرت جاوید

نوازشریف جب سے اس ملک کے تیسری بار وزیراعظم منتخب ہوئے ہیں، میری ان سے صرف ایک بار تقریباً 10مہینے پہلے اسلام آباد کے ایک سکول کی تقریب میں سرسری ملاقات ہوئی تھی۔ مجھے اس بات کا لہٰذا ہرگز کوئی علم نہیں کہ اس بار اقتدار و اختیار کو مکمل طورپر اپنے قابو میں رکھنے کیلئے وہ کونسی حکمت عملی اپنائے ہوئے ہیں۔ گزشتہ دو حکومتوں میں بھی وہ زیادہ سے زیادہ اختیارات اپنے پاس رکھنے کو بے چین رہے تھے۔ ان کی اس بے چینی کو میں نے ’’امیر المومنین‘‘ بننے کی خواہش لکھا تھا۔ وہ اور ان کے مصاحبین میری اس جسارت پر بہت ناراض ہوئے تھے۔ مجھے ’’سبق‘‘ سکھانے پر تُل گئے‘ میں لیکن سدھرنہ پایا۔
بادشاہوں جیسا اختیار حاصل کرنے کی اس لگن کے باوجود نوازشریف کی ہمیشہ یہ خواہش رہی کہ وہ صرف خلقِ خدا کی بہتری کیلئے ایک طاقتور مگر فیاض حکمران بنتے نظر آئیں۔ ایک رحم دل بادشاہ جو جدید سڑکیں اور مواصلاتی نظام متعارف کروانا چاہ رہا ہے۔ صرف اس مقصد کی خاطر کہ لوگوں کو روزگار کے نئے امکانات ملیں۔ ان کی عمومی زندگیوں میں بہتری اور خوش حالی آئے۔ پاکستان معاشی حوالوں سے ترقی کا سفر چھلانگیں لگاتے ہوئے طے کرتا نظر آئے۔
نوازشریف کے بار ے میں مذکورہ بالاتاثر بنانے میں میڈیا کا کردار بہت اہم تھا۔ وزیر اعظم اور ان کے ساتھی Positive Imageبنانے کو بے تاب رہتے۔ ان کے بارے میں لکھی تنقید چھوٹے سے اخبار میں بھی چھپ جاتی تو طوفان کھڑا ہوجاتا۔ کسی ’’منفی‘‘ خبر یا کالم کو جھٹلانے کیلئے بھرپور جوابی بیانیے تیار ہوتے۔ انہیں بہت اہتمام کے ساتھ مختلف اخبارات میں چھپوانا یقینی بنایا جاتا۔
اب کی بار بھی نوازشریف کے پاس اپنی حکومت کا میڈیا کے روبرو دفاع کرنے کیلئے ایک ٹیم نہیں بلکہ بہت بڑا ہجوم موجود ہے۔ یہ ہجوم مگر ایک غول کی مانند ہمہ وقت عمران خان پر حملہ آور ہوا نظر آتا ہے۔ روزمرہّ کے حکومتی معاملات کے بارے میں چند بنیادی سوالات کے جوابات البتہ کہیں میسر نہیں۔ میڈیا کو قطعی رعونت کے ساتھ نظرانداز کرتے ہوئے بجلی اور تیل و گیس جیسے اہم محکموں کے وزراء اپنے تئیں کچھ فیصلے کر لیتے ہیں۔ میڈیا میں ہوئی بحثوں کے ذریعے ہمیں ان فیصلوں کیلئے تیار نہیں کیا جاتا۔ بس ایک نوٹیفیکیشن جاری ہو جاتا ہے۔ یہ حکم کیوں صادر ہوا یہ سمجھانے کو کوئی تیار نہیں ہوتا۔
چند روز قبل اچانک اعلان ہوگیا کہ بجلی، گیس اور پٹرول کی قیمتوں کا تعین کرنے والے ریگولیٹری ادارے اب ’’خودمختار‘‘ نہیں، اپنی مادر وزارتوں کے زیرنگین کام کریں گے۔ اوگرا جیسے ادارے پرویزمشرف کے معاشی نابغوں نے متعارف کروائے تھے۔ ان دنوں ورلڈ بینک پوری دنیا میں ایسے ’’خودمختار‘‘ ادارے دیکھنا چاہ رہا تھا۔ مقصد اس کا مارکیٹ میں بنیادی ضرورتوں سے متعلق اجناس اور سہولتوں پر چند کاروباری اداروںکا اجارہ روکنا بتایا گیا تھا۔ ساتھ ہی اس بات کا اہتمام بھی کہ یہ اجناس اور سہولتیں فراہم کرنے والے صارفین سے من مانی قیمتیں نہ وصول کرنا شروع ہوجائیں۔
بظاہر ایک نیک مقصد کی خاطر قائم ہوئے یہ ’’خودمختار‘‘ ادارے مگر اپنی افادیت کبھی ثابت نہ کر پائے۔ LPG پر اجارہ داری ایک مخصوص فرد کے ساتھ ہی منسوب رہی۔ CNG سٹیشن قائم کرنے کی اجازت کو سیاسی رشوت کے طورپر استعمال کیا گیا۔ ان اداروں میں اپنے من پسند افراد کی تعیناتی حکمرانوں کی ’’دوست نوازی‘‘ کو عیاں کرتی رہی۔
عوام کے ووٹوں سے منتخب ہوئی حکومت سے مجھ ایسے سادہ لوح افراد کی توقع یہ تھی کہ وہ ان اداروں کو واقعتاً بااثر اور خلقِ خدا کی حقیقی خدمت کا ذریعہ بنائیں گے۔ حالیہ فیصلہ اس خواہش کے بالکل برعکس نظر آرہا ہے اور کوئی ایک وزیر بھی عوام کے دلوں میں اُبلتی بدگمانیوں کو دور نہیں کرپایا ہے۔
منگل کی شب پیپلزپارٹی کے نویدقمر نے جو خود بھی بجلی اور گیس کے وزیر رہے ہیں، ایک پوائنٹ آف آرڈر کے ذریعے قومی اسمبلی میں اس مسئلہ کو اٹھانے کی کوشش کی تھی۔ خواجہ آصف نے تفصیلی اور اطمینان بخش جواب دینے کی بجائے ایک ’’ٹیکنوکریٹ‘‘ کی طرح نوید قمر کو یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ حکومت نے ریگولیٹری اداروں سے Regulationکا حق نہیں چھینا ہے۔ صرف ان کا Administrativeکنٹرول متعلقہ وزارتوں کے حوالے کیا گیا ہے۔ میڈیا میں اس فیصلے کی بابت مچی دہائی پر کمال رعونت سے خواجہ صاحب نے سپیکر صاحب کو صرف یہ کہا کہ ’’آپ اور ہم‘‘ سب جانتے ہیں کہ میڈیا کے من میں جو آئے کہتا رہتا ہے۔ المختصر، میڈیا میں اچھالی باتوں کو بقول خواجہ آصف سنجیدگی سے نہیں لینا چاہیے۔ صحافی جو چاہے لکھتے اور بولتے رہیں۔ حکومتی کارواں کو ان کی یاوہ گوئی (جو لفظ میں استعمال کرنا چاہ رہا تھا شاید چھپ نہ پائے) کو نظرانداز کرتے ہوئے آگے بڑھتے رہنا چاہیے۔
بدھ کی سہ پہر لیکن میں نے اپنی ایک ساتھی اینکر کو کیمرے کے ساتھ مختلف CNG سٹیشنوں پر بھیجا۔ وہاں موجود ہر شخص حکومت کے خلاف بھڑاس نکالنے کو تُلابیٹھا تھا۔ اجتماعی طورپر ان سب کا خیال تھا کہ چونکہ آئندہ آنے والے کئی برسوں تک LPG وغیرہ صرف ایک ملک-یعنی قطر- سے آئے گی، لہٰذا اس ملک سے آئی گیس کو چند من پسند ڈیلرز کے ذریعے من مانی قیمتوں پر منڈی میں فروخت کیا جائے گا۔ اوگرا کی جانب سے قیمت کا تعین نہ ہونے کی وجہ سے ہر CNG سٹیشن اپنی مرضی کے دام وصول کرے گا۔
لوگ یہ شکوہ کرتے ہوئے پریشان تو ضرور نظر آئے مگر حیران ہرگز نہیں تھے۔ نوازشریف ان کی نظر میں صرف کاروباری افراد کے مفادات کی نگہبانی کو ترجیح دیتے ہیں۔ قطر تو ویسے بھی ان کے بہت قریب ہے۔ وہاں کے ایک شہزادے نے پانامہ کے حوالے سے ایک چٹھی بھی لکھ دی ہے۔ اس کے بعد ذکر سیف الرحمان کا بھی ہوا۔ یہ ساری کہانی خواہ کتنی ہی بے بنیاد کیوں نہ ہو ہر CNG صارف کے دل کی آواز نظر آئی۔
اس وقت ملک میں 25 لاکھ کے قریب لوگ CNG استعمال کرتے ہیں۔ اوسطاًَ ان افراد کا قریبی تعلق محض چار افراد سے بھی ہو تو مجموعی طورپر ایک کروڑ ممکنہ ووٹرز ریگولیٹری اداروں کی ’’خودمختاری‘‘ ختم ہونے کے بارے میں ناراض نظر آئے۔ ان کا غصہ شاید وقتی ہو۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ حالیہ فیصلے کے بعد CNG ضرورت سے بھی زیادہ میسر ہوجائے اور وہ بھی ارزاں یا کم از کم قابلِ برداشت نرخوں پر۔ فی الوقت حالیہ فیصلے کو مگر as it isنہیں لیا گیا ہے۔ قطر اور سیف الرحمن اس فیصلے سے منسوب ہوچکے ہیں۔’’ایمپائر‘‘ کو خیروعافیت سے گھر بھیج کر‘ لیکن یہ حکومت ضرورت سے زیادہ پُراعتماد ہوچکی ہے۔ یہ اعتماد بہت تیزی سے رعونت کی صورت اختیار کررہا ہے۔ پتہ نہیں کیوں اس اعتماد نے مجھے ذوالفقار علی بھٹو کے دسمبر 1976ء کی یاد دلادی ہے جس کا انجام جولائی 1977ء میں دیکھنے کو ملا تھا۔