کراچی والوں سے معذرت کے ساتھ یاسر پیرزادہ

اللہ کو جان دینی ہے، مزاح کے حوالے سے جو برتری پنجاب والوں کو حاصل ہے اس کا کوئی مقابلہ نہیں۔ ایک شہر کراچی ہے جو اس میدان میں چیلنج کرنے کی کوشش کرتا ہے مگر باوجود کوشش کے بات نہیں بنتی۔ انور مقصود کی شکل میں البتہ اس شہر کے پاس ایک جاندار مزاح نگار ضرور موجود ہے۔ انور مقصود نے یوں تو اداکاری بھی کی ہے اور کمپیئرنگ کے جوہر بھی دکھائے ہیں مگر اصل وجہ شہرت اُن کے کاٹ دار اور طنز سے بھرپور تیکھے جملے ہیں جنہیں وہ حسب ضرورت و ذائقہ اپنے پروگراموں میں استعمال کرتے ہیں۔ جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے انور مقصود کو پہلی مرتبہ ڈرامہ ’’آنگن ٹیڑھا‘‘ سے شہرت ملی، اس ڈرامے میں مرحوم سلیم ناصر کا کردار بہت مقبو ل ہوا، تاہم میری رائے میں یہ اوسط درجے کا کھیل تھا جو بہرحال ہِٹ ہوگیا۔ انور مقصود نے اس کے بعد پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا، معین اختر اور بشری انصاری کے ساتھ مل کر انہو ں نے لاتعداد پروگرام کئے، خاص طور سے معین اختر کے ساتھ اُن کےمزاحیہ ٹاک شوز عوام میں خاصے مقبول ہوئے جیسے کہ Loose Talk، اسٹوڈیو 2½ وغیرہ۔ طنز و مزاح کے پروگرام ہوں یا ٹاک شوز، انور مقصود کو اُن میں اپنا نام دہرانا بہت پسند تھا (اسی وجہ سے میں بھی بار بار اُن کا نام دہرا رہا ہوں)، وہ ہر دو تین منٹ بعد معین اختر سے کہلواتے کہ ’’کیا نام بتایا آپ نے اپنا؟‘‘ اور جواب آتا ’’انور مقصود‘‘ ذاتی طور پر مجھے ان کا لکھا ہوا ڈرامہ 84’’مرزا اینڈ سنز‘‘بہت پسند ہے جو لاہور ٹی وی نے پیش کیا، لاہور کے اسٹار اس ڈرامے میں تھے جیسے قوی خان، منور سعید، انور علی، اورنگزیب لغاری، خیام سرحدی، ثمینہ احمد اور نگہت بٹ۔ اگر اُ ن کے کام کا بے لاگ جائزہ لیا جائے تو یہ کہنا مناسب ہوگا کہ انور مقصود نے ٹیلی وژن کو اچھا اور شستہ مزاح دیا، اُن کے ڈرامےاور پروگرام مقبول ہوئے، عوام نے انہیں بے حد پذیرائی دی۔
یہ کالم لکھنے کی ضرورت اس لئے پیش آئی کیونکہ گزشتہ ہفتے لاہور میں کراچی والوں کا ایک کھیل دیکھنے کا اتفاق ہوا، یہ ڈرامہ اُن لڑکے لڑکیوں نے پیش کیا جنہیں ہم عرف عام میں ’’ممی ڈیڈی‘‘ کہتے ہیں، ماڈ سکاڈ اپر کلاس لوگ جو پیدا پاکستان میں ہوتے ہیں مگر بات انگریزی میں کرتے ہیں، اسی وجہ سے ڈرامے کو کارپوریٹ کلچر کا پورا تعاون حاصل تھا اور کمپنیوں کے اسپانسرز کی بھرمار تھی۔ ڈرامے میں کہانی نام کی کسی شے کا وجود نہیں تھا، بس ایک واضح پیغام اِس ڈرامے میں دیا گیا کہ ملک کے تمام سیاست دان کرپٹ، بے ایمان، چور اچکے، لفنگے اور پرلے درجے کے احمق ہیں، ہرسیاست دان کا دل کھول کر تمسخر اڑایا گیا، ان کی ذات پر رکیک حملے کئے گئے، انہیں آخری ممکنہ حد تک ذلیل کیا گیا، اُن کے لئے ’’پِلّے‘‘ (کتے کا بچّہ) کا لفظ استعمال کیا گیا، حتّیٰ کہ دو سیاست دانوں کی فیملیز پر بھی کیچڑ اچھالا گیا اور یہ سب کچھ ’’شستہ مزاح‘‘ کے نام پر ایک پڑھی لکھی کارپوریٹ کلاس نے انور مقصود جیسے لکھار ی کے ساتھ مل کر کیا۔ تاہم ایک بات کا خاص خیال رکھا گیا کہ سیاست دانوں کی اس مرمت میں اُس سیاست دان پر بے حد ہلکا ہاتھ رکھا جائے جس کے گُن آج کل یہ کلاس گا رہی ہے، اُس سیاست دان کو ایک ’’لیڈی کلر‘‘ کے طور پر پیش کیا اور اُس کی ذات پر کوئی قابل اعتراض جملہ نہیں کسا گیا۔
کچھ سوال یہاں پیدا ہوتے ہیں۔ مثلاً، اِس ڈرامے کا مقصد کیا تھا؟ نام نہاد پڑھی لکھی کارپوریٹ کلاس اس کھیل کے ذریعے کیا پیغام دینا چاہتی تھی؟ ہزار برائیاں ہیں سیاست دانوں میں جن پر سنجیدہ اور طنزیہ دونوں انداز میں تنقید ہوتی ہے اور ہونی چاہئے مگر گالم گلوچ اور بازاری زبان کا کلچر کب سے مزاح ہو گیا؟ ایک عمر رسیدہ سیاست دان کے مرنے کی دعا کرنا کب سے مزاح ہو گیا؟ سیاست دانوں کے بچے بچیوں کے نام لے کر اُن پر قابل اعتراض فقرے کرنا کب سے مزاح ہو گیا؟ اگر یہ مزاح ہے تو پھر’’جاہلوں‘‘ کے اسٹیج ڈراموں کی فحش جگتیں بھی مزاح ہیں۔ یہ عجیب تماشہ ہے کہ اپر کلاس کے ڈرامے میں اگر ’’ٹوائلٹ جوکس‘‘ ہوں تو ٹھیک، اُس پر تالیاں بھی بجائیں اور لافٹر بھی دیں، لیکن یہی باتیں اگر دیسی ڈراموں میں ہوں ناک سکیڑ کر ’’Bloody illetrate people‘‘ کہہ دیں۔ واضح رہے کہ میں آج کل کے فحش اسٹیج ڈراموں کا دفاع ہرگز نہیں کر رہا، نکتہ صرف یہ ہے کہ پڑھی لکھی کارپوریٹ کلاس نے مزاح کے نام پر جو کچھ پیش کیا اور جس انداز میں سیاست دانوں کی کردار کشی کی وہ بھی ویسی ہی ’’فحاشی‘‘ ہی کی ایک قسم تھی۔ یہ درست ہے کہ دنیا بھر میں سیاست دانوں کو جگتیں لگائی جاتی ہیں، اُن کی موجودگی میں اُن پر فقرے کسے جاتے ہیں، پاکستان کے بیشتر ٹی وی پروگراموں میں بھی ایسا ہوتا ہے مگر کراچی کا یہ ڈرامہ تہذیب کی وہ تمام حدود پار کر گیا جن کا کچھ نہ کچھ خیال ہمارے ٹی وی چینلز رکھتے ہیں۔
آخری دو باتیں بھی کر ہی دینی چاہئیں۔ تین دہائیوں سے زائد عرصے تک کراچی میں جس تنظیم کا راج رہا اُس کے سربراہ کے خلاف ایک جملہ لکھنے یا بولنے کی زحمت اس ڈرامے کے لکھاری نے کبھی نہیں کی، البتہ جب سے ’’بھائی‘‘ غیر موثر ہوئے ہیں تب سے ہر کسی کو جابر سلطان کے سامنے کلمہ حق کہنا یاد آ گیا ہے، اِس ڈرامے میں یہ ’’کلمہ حق‘‘ رائٹر نے اپنے کرداروں کے منہ سے کہلوایا اور بھائی پر اتنی جگتیں کیں کہ اگر اُن کا پانچ فیصد بھی وہ پانچ برس قبل کرتا تو امر ہو جاتا۔ اور آخری بات یہ کہ اس ملک میں عوام کو جمہوری نظام سے متنفر کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ سیاست دانوں کی جی بھر کے کردار کشی کرو، یہی کچھ ان نام نہاد پڑھے لکھے نوجوانوں نے کیا۔ کتنا اچھا ہوتا اگر یہ نوجوان پرویز مشرف کے دور میں آمریت کے خلاف ڈرامہ لکھتے اور اگر یہ ممکن نہیں تھا تو جمہوری دور کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اب آمریت کے خلاف کوئی کھیل بناتے، مگر نہیں، آپ نے جمہوری دور میں سیاست دانوں کی بدترین تصویر کشی کرنے کا آپشن چنا۔ آئی ایم سور ی کراچی والو، آپ سے یہ امید نہیں تھی!