جب پگ گروی رکھنی پڑتی ہے…..! رؤف کلاسرا

سوچ رہا ہوں میری نظروں کے سامنے گھر کی بنیادوں کو دیمک کھا رہی ہو تو مجھے کیا کرنا چاہیے؟ کیا مجھے وہی کچھ کرنا چاہیے جو اس ملک کے ساتھ ہمارے طاقتور ادارے کررہے ہیں؟ دیمک کو اپنے کام پر لگے رہنے دینا چاہیے یہ سوچ کر یہ اللہ کی مخلوق ہے۔ اللہ نے اسے بھی کسی مقصد کے لیے پیدا کیا ہے۔ اس نے بھی آخر کہیں سے اپنا پاپی پیٹ بھرنا ہے۔ اگر میرے گھر کی دیوار کو نہیں کھائے گی تو بھوکی مرے گی۔کھانے دو۔خیر ہے ایک اور دیوار کھڑی کر لیں گے یہ اور بات ہے کہ ایک دن وہی دیوار پورے گھر کو دھڑام سے نیچے لے آئے گی اور میرے اوپر ہی گرے گی۔
پہلے قومی اسمبلی روزانہ جارہا تھا۔ وہ اجلاس سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے اس وقت ڈر کے مارے ختم کردیا جب اسدعمر نے ہائوس میں نواز شریف کی تقریر پر بات کرنے کی کوشش کی۔ ایاز صادق نے کوئی درجن بار اسد عمر کو وارننگ دی کہ اگر نواز شریف کی تقریر پر بات کی تو وہ سیشن ختم کردیں گے۔ اب جب بھی تحریک انصاف پارلیمنٹ کے اجلاس کو ختم کرانے کا فیصلہ کرے تو اتنا کرے کہ کوئی ایک ممبر اٹھ کر کہے اس نے نواز شریف کے پارلیمنٹ میں بولے گئے جھوٹ پر بات کرنی ہے۔ ایاز صادق ڈر کے مارے فورا اجلاس ختم کردیں گے۔ویسے سپیکر بے چارے نے بہت کوشش کی اسد عمر اور دیگر اپوزیشن ارکان چوہدری نثار علی خان کی طرف اپنی توپوں کا رخ کریں جو اس وقت ہائوس میں موجود تھے۔ ایاز صادق نے کئی دفعہ اپوزیشن کو کہا وہ کوئٹہ عدالتی کمشن پر بات کیوں نہیں کرتے جس کی رپورٹ نے چوہدری نثار کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور ان کے بڑے بڑے دعوے ایک لمحے میں زمین پر دھول چاٹ رہے ہیں۔
عمران خان اپنی پرانی دوستی نبھانے کے چکر میں ہیں لہٰذا تحریک انصاف چوہدری نثار علی خان کی طرف تنقید کا رخ نہیں کررہی اور نہ ہی عمران خان نے چوہدری نثار کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا ہے۔ عمران خان نے کوئٹہ کمشن پر بھی نواز شریف کا استعفیٰ مانگا ہے۔ جس چوہدری نثار علی خان کے خلاف چارج شیٹ جاری کی گئی ہے اس کا وہ ذکر کہیں نہیں کرتے۔ عمران خان بھی بھولے نہیں‘ سب سمجھتے ہیں۔ عمران خان بھی پرانی یاریاں نبھانا جانتے ہیں۔
سینیٹ میں گیا تو وہاں جو باتیں آپ کو سننے کو ملتی ہیں آپ کا دماغ بھک سے اڑ جاتا ہے۔ تحریک انصاف کے سینیٹر نعمان وزیر خٹک نے سینٹ میں انکشاف کیا کہ چینی کنٹریکٹر کوئی بھی چیز پاکستان سے نہیں خرید رہے۔ وہ سب سامان چین سے لارہے ہیں۔ لوکل مارکیٹ کو ان کی سرمایہ کاری کا کوئی فائدہ نہیں ہورہا‘ جس پراجیکٹ پر جائیں ہر جگہ آپ کو چینی نظر آتے ہیں۔ سب نوکریاں چینی لوگوں کو دی گئی ہیں‘ اوپر سے نیچے تک چینی ہی چینی نظر آتے ہیں۔ نعمان وزیر حیران ہورہے تھے کہ اگر چین نے ہمیں بھاری قرض دے کر اس پر ملازمتیں بھی چینیوں کو ہی دینی ہیں، اور سود سمیت قرضہ ہم نے ادا کرنا ہے تو پھر یہ کس قسم کا سودا ہم نے کیا ہے؟ یہ کس طرح کی سرمایہ کاری ہورہی ہے جس میں سارا فائدہ چینی ورکرز، کمپنیوں اور کنٹریکٹرز کو ہورہا ہے۔ نعمان وزیر نے جو ابھی اس کمیٹی کا حصہ تھے‘ سی پیک منصوبے کا جائزہ لینے کے لیے باقاعدہ ایک وفد کی صورت دورہ کیا حیران تھے‘ مقامی لوگوں کو کہیں بھی چینی جاب نہیں دے رہے۔ اگر کوئی جاب پٹھانوں کو مل رہی ہے تو وہ چوکیدار کی نوکری ہے۔ پٹھان چوکیداری کرے گا اور چینی وہاں کاروبار کرے گا ۔سینیٹر تاج حیدر حیران تھے دوبئی میں سولر پراجیکٹ لگانے کے بعد بجلی کا ریٹ تین سینٹ یا تین روپے دیا گیا ہے جب کہ پاکستان میں سولر بجلی کا ریٹ چودہ روپے مانگا جارہا تھا ۔ نیپرا نے کہا آٹھ روپے دیں گے تو اسے فوراً وزارت پانی و بجلی کے نیچے کر دیا گیا ۔کیا پاکستان ایک چرا گاہ ہے؟ اگر سولر بجلی کا ریٹ بھی چودہ روپے فی یونٹ ہوگا تو پھر تھرمل کا ریٹ تیس روپے فی یونٹ ہوگا یا پھر نندی پور کی طرح اکتالیس روپے کا ریٹ مانگا جائے گا ۔
ویسے اگر آپ 2018ء تک ہمیں بجلی دے دیں، لوڈشیڈنگ ختم کردیں تو کون زندہ رہے گا تیس روپے فی یونٹ بجلی خریدنے کے لیے؟ میرے اپنے ڈرائیور کا بل سردیوں میں سولہ ہزار روپے آیا ہے‘ جب کہ گرمیوں میں اس کا بل پندرہ سو روپے آرہا تھا ۔ سولہ ہزار روپے کا ڈاکا ہے جو ایک غریب کی جیب پر ڈال کر سولر پراجیکٹ کے مالکان کو دیا جارہا ہے جنہیں سولر بجلی کا ریٹ چودہ روپے مانگتے ہوئے شرم تک نہیں آتی۔ اس سے زیادہ شرم ان کو نہیں آئی جنہوں نے نیپرا کے انکار کے بعد اسے فوری طور پر خواجہ آصف کی وزارت کے ماتحت کردیا کہ اب وزیر موصوف خود اپنی مرضی کا ریٹ طے کریں گے۔
ویسے کب تک یہ کام چلے گا؟ بلوچستان کا ایک سیکرٹری چالیس ارب روپے لوٹ لیتا ہے اور اب دو ارب روپے پر رہا کیا جارہا ہے۔ یہ ہم کس طرف چل پڑے ہیں ؟
دوسری طرف جو ذہین لوگ ہیں ۔ جو اس ملک اور قوم کا سرمایہ ہوسکتے تھے۔ اپنی ذہانت کے استعمال سے اس ملک کو ایک نیا مستبقل دے سکتے تھے وہ اس وقت بدترین کرپٹ لیڈروں کا دفاع کرنے میں مصروف ہیں۔ ان کے لیے قومی اسمبلی یا سینٹ کی ایک سیٹ سے ملک کی تباہی میں فرق نہیں پڑتا ۔ انہیں ایک وزارت دے دو، وہ آپ کی اربوں روپے کی کرپشن اور آف شور کمپنیوں کا دفاع ساری عمر کرتے رہیں گے۔ اعتزاز احسن کو سینیٹ کی ایک سیٹ کے لیے زرداری کے حکم پر ڈاکٹر عاصم حسین کو ایوان بالا میں سیاسی قیدی کہتے ہوئے فرق نہیں پڑتا ، تو دانیال عزیز کو قومی اسمبلی کی ایک سیٹ کے لیے نواز شریف کے بچوں کی پانامہ کمپنیوں سے کوئی غرض نہیں۔ دانیال عزیز ایک ذہین انسان ہیں۔ حیرانی سے انہیں ہائوس آف شریف کی کرپشن کا دفاع کرتے دیکھ کر ماتم کرتا رہا۔ کیا فائدہ ہوا ان کے امریکہ پڑھنے کا اگر لوٹ کر نواز شریف کے بچوں کی کرپشن کا دفاع کرنا ہے؟ کیا یہ وہی دانیال عزیز نہ تھے جو جنرل مشرف دور میں ایک ٹی وی پروگرام میں پوری قوم کو اسحاق ڈار کے ساتھ بیٹھ کر رائے ونڈ کی جائیداد کی کرپشن سنا رہے تھے؟ اب وہی دانیال عزیز نواز لیگ کے ارکان سے شاباش لے رہے تھے۔یعنی واہ واہ نواز شریف کے حق میں تحریک انصاف کو کیا منہ توڑ جواب دیا ہے۔کیا فائدہ ایسی تعلیم کا اور ذہانت کا ؟
اور سنیں ۔ چوٹی زیریں کے سردار اویس خان لغاری ‘جن کی گریجویشن تقریب میں ان کے والد فاروق لغاری جو اس وقت صدر پاکستان تھے خصوصی جہاز میں امریکہ تشریف لے گئے تھے، انہوں نے قومی اسمبلی میں دانیال عزیز کی پیٹھ ٹھونکی کہ کیا خوبصورت طریقے سے نواز شریف پر لگنے والے الزامات کا دفاع کیا تھا۔
جمال خان لغاری اور اویس خان لغاری کیسے بھول گئے کہ یہی نواز شریف تھے جو ان کے والد کے خلاف رضی فارم ہائوس کا سکینڈل لائے تھے اور پورا ایک قافلہ لے کر ڈی جی خان ان کے گھر تک گئے تھے۔ نواز شریف نے ثابت کیا تھا فاروق لغاری نے بدنام زمانہ بنکر یونس حبیب کے ساتھ مل کر اپنی ناقص اور بنجر زمین کو مہنگے ہاتھوں بیچ کر لمبا مال کمایا تھا۔ اگرچہ فاروق لغاری کے مخالف بھی ان کی کرپشن کا نہیں مانتے تھے۔ اگر کسی دن اویس لغاری مجھے اجاز ت دیں تو انہیں ان دنوں کے خبروں کا ریکارڈ بھیج دوں کہ کیسے بلوچ سردار کے گھر کے سامنے کھڑے ہو کر انہیں گالیاں دی گئیں۔کیسے ذلیل کرکے ایوان صدر سے نواز شریف نے ان سب کو نکالا تھا ۔ اویس اور جمال خان کو وقت ملے تو کسی وقت اپنے سابق انکل شاہد حامد سے لاہور میں مل کر فاروق لغاری کے ایوان صدر میں آخری دنوں کی کہانی سن لیں ۔ اگر ان کے انکل شاہد حامد ان سے ملنے کو تیار نہ ہوں تو پھر میری کتاب ایک سیاست، کئی کہانیاں میں شاہد حامد پر لکھے گئے میرے باب کا مطالعہ کر لیں۔انہیں دانیال عزیز کو ان کی سیٹ پر جا کر نواز شریف کے لیے لڑنے پر داد دینے پر شاید کوئی پچھتاوا ہو۔
ہم تو سمجھتے تھے کہ بلوچ سردار صدیوں تک دشمنیاں قائم رکھتے ہیں ۔ جو زخم کھاتے ہیں اسے ہرا رکھتے ہیں۔ اب سمجھ میں آیا کہ یہ دشمنیاں علاقے کے کمزور کسانوں اور ہاریوں کے ساتھ رکھی جاتی ہیں، ورنہ ہم نے دیکھا کیسے چند برسوں میں جمال لغاری پنجاب اسمبلی میں شہباز شریف کی شان میں قصیدے پڑھ رہے تھے تو اویس لغاری قومی اسمبلی میں اسی نواز شریف کو کورنش بجا لارہے تھے جو چوٹی زیریں ان کے گھر جلوس لے کر گئے تھے۔اویس لغاری کو دانیال عزیز کو داد دیتے دیکھ کر سوچ رہا تھا اپنے اپنے علاقے میں کمزور، بے بس اور غریب لوگوں پر حکومت کرنے اور جھک کر سلام کرانے کے لیے کیسے کیسے معززین کو اسلام آباد سے لے کر لاہور تک اپنی سرداری ، تمن داری ، میلوں تک پھیلی کلف دار پگ اور دور نیلگوں آسمان تک پہنچی انا تک گروی رکھنی پڑتی ہے!!