پاکستان میں یہ کام بالکل بھی نہیں ہوتا ، چین کی مخالفت نے دشمنوں کو دھماکےدار جواب دیدیا
Banner

بیجنگ(ڈیلی خبر ) پاکستان کو دہشت گردوں کا معاون قراردینے کی ہر کاوش کی چین سختی سے مخالفت کرے گا، پاکستانی جنرل کی جانب سے پاک چین اقتصادی راہداری میں حصہ بننے کے لئے دی جانے والی دعوت بھارت کو قبول کر لینی چاہیے ۔چین کے سرکاری گلوبل ٹائمز کی جانب سے لکھے جانے والے آرٹیکل میں کہا گیا ہے کہ ایسی کسی بھی کاوش کی سخت مخالفت کی جائے گی جس کے تحت پاکستان کو دہشت گردوں کا معاون قراردیا جائے ۔ بھارت کو سی پیک کا حصہ بننے کے لئے دی جانے والی دعوت پر غور کرتے ہوئے اسے ضرور قبول کرنا چاہیے ، یہ موقع سرسری بھی ہوسکتا ہے اور اس کے واضح امکانات موجود ہیں کہ سی پیک کا حصہ بننے کے لئے بھارت کو دی جانے والی دعوت کا پاکستان کی حزب اختلاف کی جانب سے خوش آمدید کہا جا سکتا ہے تاہم اس کے لئے بھارت کو وقت پر صحیح فیصلہ کرنا ہوگا۔دونوں ممالک کے مابین مخاصمانہ رویے کا خاتمہ باہمی مفاد پر مشتمل معاشی تعاون کو مستحکم کر کے کیا جا سکتا ہے اور اتفاق رائے سے کیا حاصل نہیں کیا جا سکتا ۔ مضمون میں کہا گیا ہے کہ بھارت اپنی برآمدات کو فروغ دے سکتا ہے اور نئی تجارتی راہداریوں کے ذریعے تجارتی خسارے کو کم کر سکتا ہے اور یہ سب سی پیک سے ممکن ہے ۔ اس کے علاوہ بھارت کے شمالی علاقے جو کہ پاکستان اور جموں اور کشمیر سے ملحقہ ہیں وہ زیادہ معاشی فوائد حاصل کر سکتے ہیں ۔اخبار میں شائع ہونے والے ایک اور مضمون میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی جانب سے بھارت کو حیران کن طور پر سی پیک کا حصہ بننے کے لئے دی جانے والی دعوت ایک اچھا قدم ہے ۔بھارت کی سی پیک میں مداخلت کے بارے میں اشارہ کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ منصوبہ میں بھارت کی شرکت کو خوش آمدید کہا جائے گا ۔ پاکستان بھارت کو منصوبے سے باہر نہیں رکھنا چاہتا ۔ مضمون میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر کوئی بھی ملک پاکستان کو دہشت گردوں کا معاون قراردینے کی کوشش کرے گا تو چین اور دوسرے ممالک انصاف کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑیں گے اور ایسے اقدام کی سخت مخالفت کی جائے گی ۔ چینی صدر شی چن پھنگ کی جانب سے اپریل2015میں دورہ پاکستان کے بعد سی پیک میں مثبت پیش رفت سامنے آئی ہے تاہم کچھ بین الاقوامی طاقتیں اور خاص طور پر بھارت ون بیلٹ ون روڈ اور سی پیک کو جیو پولیٹیکل تناظر میں دیکھ رہے ہیں ایک طرف تو جیوپولیٹکل مقابلہ سازی کے ذہن کے لئے یہ مناسب ہے تاہم دوسری طرف سی پیک اور ون بیلٹ ون روڈ کے بارے میں مبالغہ آرائی سے تذویراتی پیچیدگیاں اس کا باعث ہیں ۔ سی پیک کو موثر طریقے سے آگے بڑھانے کے لئے یہ ضروری ہے کہ پاکستان میں مستحکم اور پرامن صورتحال موجود رہے ۔انسداد دہشت گردی ، افغان امن عمل اور کشمیر میں امن واستحکام کے حوالے سے پاکستان بین الاقوامی برادری کو امن کے لئے اپنی کاوشیں دکھانے کی بھرپورکوشش کر رہا ہے ۔ سی پیک صرف باہمی تعاون ہی نہیں ہے بلکہ طویل بنیادوں پر یہ ایک کثیر الجہتی منصوبہ ہے جس کے ذریعے معاشی طور پر علاقائی انضمام ممکن ہو گا اس لئے یہ ایک کھلا اور جامع منصوبہ ہے ۔ چین اور پاکستان کو امید ہے کہ بھارت ، افغانستان ، ایران اور وسطی ایشیائی ریاستیں سی پیک کا حصہ بنتے ہوئے اس کی شراکت دار بن سکتی ہیں ۔