مجھے بچپن سے ہی سکھایا جاتا رہا کہ مسلمان دہشت گرد ہوتے ہیں انکے قریب نہیں جانا لیکن قرآن مجید کو ہاتھ میں تھامتے ہی میرے ساتھ کیا ہوا؟ نو مسلم ہندو لڑکی کا ایمان افروز واقعہ

لاہور( مانیٹرنگ ڈیسک) سوشل میڈیا پر جاری ایک ویڈیو میں ہندوستان سے تعلق رکھنے والی ایک ہندو لڑکی نے قبولِ اسلام کا ایسا ایمان افروز واقعہ سنا دیا ہے جسے پڑھ کر آپکا بھی ایمان تازہ ہوجائے گا۔تفصیلات کے مطابق 27 سالہ مریم نے ویڈیو میں کہا ہے کہ میں ایک ہندؤں خاندان سے تعلق رکھتی تھی، میرے ذہن مین بچپن میں ہی ڈال دیا گیا تھا کہ مسلمان اچھے لوگ نہیں ہوتے اور ان سے دور رہنا چاہیئے۔ مریم کا کہنا تھا کہ مجھے اپنے مذہب کو لے کر ہمیشہ سے ہی شکوک و شبہات رہتے تھے لیکن میں اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں کچھ نہیں جانتی تھی ، میرے خاندان والے اور جس معاشرے میں میں پروان چڑھی ہوں اس میں مجھے یہ ہی تلقین کی جاتی تھی کہ مسلمان دہشتگرد ہوتے ہیں لہٰذا تم نے ان سے دور ہی رہنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے سب سے پہلے جس چیز نے متاثر کیا وہ مسلمانوں کا حسن و سلوک تھا کہ وہ معاشرے کے لوگوں کے ساتھ احسن طریقے سے گفتگو کرتے ہوئے معاشرتی امور کو سر انجام دیتے ہیں، پھر ایک دن میں قرآن مجید ہاتھ میں تھاما تو میری زندگی ہی بدل گئی اور جب میں نے اس پاک کلام کی تلاوت کی تو میری آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے۔اسکے بعد میں نے گوگل پر اسلام کے بارے میں سرچ کرنا شروع کر دیا اور میں حیران رہ گئی کہ دین اسلام ایسا نہیں ہے جیسے مجھے بتایا جاتا تھا یا کہا جاتا تھا، پھر میں نے مذہب اسلام کو قبول کرتے ہوئے اپنا نام مریم رکھ لیا اور ایک مسلمان کی حثییت سے زندگی کا آغاز کیا۔ آخر میں مرم کا کہنا تھا کہ مجھے اپنے ماضی پر افسوس ہوتا ہے کہ میں نے اپنی زندگی کے 26 سال کیسے ہندؤاِزم میں گزار دیئے ہیں، لیکن قبول اسلام کے بعد مجھے برادری اور گھر والوں کی جانب سے شدید تنقید اورسخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے