’میں حاملہ تھی اور بچے کو جنم دینے سے2 گھنٹے پہلے ڈاکٹر نے میرے پیٹ کا معائنہ کیا اور ایسی خوفناک بات کہہ دی کہ واقعی میری دنیا گھوم گئی، بچہ تو صحت مند تھا لیکن۔۔۔‘

پرتھ (نیوز ڈیسک) بیماری معمولی ہو یا جان لیوا، یہ اچانک رونما نہیں ہوتی بلکہ ہمیں بہت سے اشارے دیتی ہی مگر بدقسمتی سے ہم ان اشاروں کو نظر انداز کرتے رہتے ہیں۔اکتیس سالہ آسٹریلوی خاتون کم میکولن نے بھی یہی غلطی کی، اور اس غلطی کا نتیجہ بھی بے حد خوفناک نکلا۔ ڈیلی میل کی رپورٹ کے مطابق کم میکولن نے بتایا کہ انہیں حمل کے تمام عرصے کے دوران کچھ پریشان کن علامات کا سامنا رہا لیکن وہ کلونو سکوپی ٹیسٹ کروانے سے گریز کرتی رہیں کیونکہ انہیں خدشہ تھا کہ اس کی وجہ سے بچے کی قبل از وقت پیدائش کا مسئلہ لاحق ہوسکتا ہے۔ بالآخر زچگی کا وقت قریب آن پہنچا تو انہوں نے ٹیسٹ کروانے کا فیصلہ کیا اور بچے کی پیدائش سے محض دو گھنٹے قبل ان کا کلونوسکوپی کا ٹیسٹ کیا گیا۔ کم کا کہنا ہے کہ جب ٹیسٹ کی رپورٹ آئی تو انہیں ایک ایسے صدمے کا سامنا کرناپڑا کہ جس کی تکلیف وہ آج بھی بھول نہیں پائی ہیں۔ ڈاکٹر نے انہیں بتایا کہ ان کی آنتوں پر 11سینٹی میٹر کی ایک رسولی بن چکی تھی اور خدشہ تھا کہ اس کی وجہ سے آنتوں میں سوراخ ہوسکتا تھا۔ 63
بچے کی پیدائش کے فوری بعد انہیں سی ٹی سکین کے لئے ایک اور ہسپتال منتقل کیا گیالیکن یہاں انہیں پہلے سے بھی زیادہ دردناک خبر ملنے والی تھی۔ انہیں بتایا گیا کہ یہ کینسر کی رسولی تھی جو چوتھے مرحلے میں داخل ہوچکا تھا اور اب اس کے اثرات جگر تک بھی پہنچ رہے تھے۔ اگلے دن ان کا آپریشن کیا گیا اور ان کی آنتوں کا ایک بڑا حصہ کاٹ کر نکال دیا گیا جبکہ جگر سے بھی دو حصے کاٹے گئے۔ 62
ان کی کیموتھیراپی ابھی بھی جاری ہے جبکہ وہ ماہرین غذائیات نیٹلی اینڈ سٹورنٹ میک انٹوش کی ہدایت پر تقریباً تمام غذائیں پکائے بغیر استعمال کررہی ہیں۔ ان کی کل غذا کا تقریباً 90 فیصد وہ پکائے بغیر کھاتی ہیں جبکہ ذہنی صحت کا ایک ماہر بھی مسلسل انہیں مشاورت فراہم کررہا ہے۔ 64
کم کا کہنا تھا کہ وہ اپنی کہانی سب کو اس لئے سنارہی ہیں کہ حاملہ خواتین اپنی علامات کو سنجیدگی سے لیں اور اگر خدانخواستہ کسی کو ان جیسے مسئلے کا سامنا کرنا پڑے تو علاج کے ساتھ غذا اور ذہنی صحت کے پہلو کو بھی بھرپور توجہ دیں تاکہ پوری طاقت سے بیماری کا شکست دے سکیں۔