ہائی کورٹ :تلو رشکار کیس میں محکمہ وائلڈ لائف کی رپورٹ مسترد، برڈ لائف انٹرنیشنل سے رپورٹ طلب

لاہور(ڈیلی خبر ) چیف جسٹس لاہورہائیکورٹ مسٹر جسٹس سید منصور علی شاہ نے عرب ممالک کے مہمانوں کو تلور کے شکار کی اجازت دینے کے خلاف دائر درخواست پر محکمہ وائلڈ لائف کی پیش کردہ رپورٹ مسترد کرتے ہوئے برڈ لائف انٹرنیشنل سے رپورٹ طلب کرلی ہے ۔ تلور کے شکار کی اجازت کے حوالے سے پنجاب کابینہ کی منظوری کی سمری بھی عدالت میں پیش کر دی گئی ۔درخواست گزار کلیم الیاس ایڈووکیٹ نے عدالت کے روبرو موقف اختیار کیا کہ پنجاب وائلڈ لائف ایکٹ کے تحت تلور سمیت دیگر نایاب پرندوں کو تحفظ فراہم کیا گیا ہے اور قانون ایسے پرندوں کے شکار کی اجازت نہیں دیتا جن کو تحفظ فراہم کیا گیا ہو،مخصوص موسم میں بڑی تعداد میں ہزاروں میلوں کا سفر کر کے پرندے ہجرت کر کے بھی پاکستان آتے ہیں اور جن جن ممالک سے یہ پرندے گزرتے ہیں ان بھی انکے شکار کی ممانعت ہے لیکن حکومت نے ملکی قانون کی نفی کرتے ہوئے قطر کے شاہی خاندان کے افراد کو شکار کی کھیلنے کی اجازت دی ہے،ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے پنجاب کابینہ کی جانب سے تلور نسل کے شکار کی اجازت کی سمری عدالت میں پیش کر دی، وائلڈ لائف کی جانب سے عدالت کو آگاہ کیا گیا کہ شکار کرنے سے تلور نسل کی بقاءکو کوئی خطرہ نہیںجس پر عدالت نے محکمہ وائلڈ لائف کی رپورٹ مسترد کرتے ہوئے برڈ لائف انٹرنیشنل سے رپورٹ طلب کر لی۔عدالت نے کیس کی مزید سماعت 10فروری تک ملتوی کر دی۔