’اب اکثر کنواری لڑکیاں میرے پاس آکر کہتی ہیں کہ ہمارے لئے یہ شرمناک کام کردو‘ معروف ڈاکٹر نے ایسا انکشاف کردیا کہ جان کر ہر شخص پریشان ہوجائے

نئی دلی (نیوز ڈیسک) بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہر روز کہتے ہیں کہ ان کا ملک بے پناہ ترقی کررہا ہے، لیکن شاید ان کا اشارہ اس شرمناک ترقی کی جانب ہے جس میں بھارت اپنے مغربی آقاﺅں کو بھی پیچھے چھوڑتانظر آرہا ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق اس ملک کے بڑے شہروں میں ایک خاص قسم کی پلاسٹک سرجری تیزی سے عام ہو رہی ہے، جس کا مقصد کنوارہ پن کھوبیٹھنے والی لڑکیوں کے پوشیدہ حصے کا آپریشن کرکے انہیں دوبارہ ’کنوارہ‘ بنانا ہے۔اخبار ٹائمز آف انڈیا کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ چند سالوں کے دوران ”وجائنوپلاسٹی“ کہلانے والی سرجری کا رجحان بڑھتا چلا گیا ہے اور اب صورتحال یہ ہے کہ 20 سے 30 سال عمر کی بے شمار لڑکیاں یہ سرجری کروارہی ہیں۔ نوجوان لڑکیوں میں اس آپریشن کی مقبولیت کی کئی وجوہات ہیں جن میں سے ایک اہم وجہ یہ بھی ہے کہ بھارت کے روایتی معاشرے میں کنوارے پن سے محروم لڑکی کو شادی کے بعد شریک حیات کے بدترین ردعمل کا سامنا کرناپڑسکتا ہے، جس کا نتیجہ طلاق کی صورت میں بھی سامنے آسکتا ہے۔ حیدر آباد شہر کے علاقے بنجارہ ہلز سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون نے بتایا کہ انہوں نے حال ہی میں اپنی نوجوان بیٹی کا کنوارہ پن بحال کروانے کے لئے آپریشن کروایا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی بیٹی بیڈمنٹن کی کھلاڑی ہے اور اس کھیل کی وجہ سے پردہ بکارت سے محروم ہوگئی تھی۔ خاتون کا کہنا تھا کہ چونکہ انہیں خدشہ لاحق تھا کہ اس وجہ سے ان کی بیٹی کی ازدواجی زندگی خطرے میں پڑسکتی ہے لہٰذا انہوں نے آپریشن کروانا ضروری جانا۔سن شائن ہسپتال کے پلاسٹک سرجن بھوانی پرساد نے اس بارے میں بات کرتے ہوئے بتایا کہ پردہ بکارت ایک باریک جھلی ہوتی ہے جو صرف جنسی تعلق سے ہی نہیں بلکہ سخت ورزش یا اچھل کود سے بھی متاثر ہوسکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت میں وجائنو پلاسٹی سرجری کا رجحان بہت بڑھ چکا ہے اور وہ خود ہر سال تقریباً 50 ایسے آپریشن کر رہے ہیں۔ اس موقع پر انہوں نے خبردار کیا کہ وجائنو پلاسٹی کے بڑھتے ہوئے رجحان کی وجہ سے بہت سے ناتجربہ کار لوگ بھی یہ آپریشن کرنے لگے ہیں۔ ڈاکٹر بھوانی پرساد نے بتایا کہ یہ کام صرف ماہر پلاسٹک سرجن کرسکتا ہے لیکن بدقسمتی سے بھارت میں اس کی بڑھتی ہوئی مانگ کی وجہ سے کچھ گائناکالوجسٹ اور کچھ دیگر ڈاکٹر بھی اس شعبے میں کود چکے ہیں۔