ایک سردار جی

ایک سردار جی کرکٹ میچ دیکھنے کے شوقین تھے۔ ان کے شہر میں ان کی پسندیدہ ٹیموں کا ون ڈے میچ ہو رہا تھا۔ خوشی خوشی سٹیڈیم پہنچے تو یاد آیا کہ ٹکٹ تو گھر بھول آئے ہیں۔اب گھر جانے کا وقت نہیں تھا۔ انہوں نے لائن میں کھڑے ہو کر نئی ٹکٹ خریدنے کا فیصلہ کیا۔ لائی بہت لمبئی تھی گھنٹے بعد ان کی باری آئی کہ کہیں سے آواز آئی۔ “اوئے بلبیر سنگھ” سردار جی لائن چھوڑ کر باہر نکلے تو آواز دینے والا نظر نہ آیا۔ اتنے میں جگہ پر ہو چکی تھی۔پھر لائن میں کھڑا ہونا پڑا۔ کئی گھنٹے بعد وہ ٹکٹ خرید کر پاپ کارن کی لمبی لائن میں کھڑے ہوئے۔ خدا خدا کر کے “پاپ کارن والے کے پاس پہنچ’ خریدنے ہی لگے کہ پھر کوئی چلایا” “اوے بلبیر سنگھ!” پھرلائن چھوڑ کر نکلے مگر آواز دینے والا نظر نہیں آیا۔ پھر سے لائن میں لگ کر انہوں نے پاپ کارن خریدے۔ میچ شروع ہو چکا تھا۔ دھکے کھاتے سردار جی اندر پہنچے’ بڑی مشکل سے اپنی سیٹ تلاش کی ابھی بیٹھ ہی رہے تھے کہ پھر کوئی دور سے چلایا۔ “اوے بلبیر سنگھ! اوئے” سردار جی نے اٹھ کر ہجوم کی طرف منہ کیا اور زور سے بولے۔ “اوئے میرا نام بلبیر سنگھ نہیں پرنام سنگھ ہے۔”