چین میں سابق جنرل کو کرپشن پر عمر قید،اثاثے منجمد کرنے کا حکم
Banner

بیجنگ(نیوز ڈیسک)چین کی فوج عدالت نے سابق جنرل گوو بوکسیونگ کو کرپشن کا جرم ثابت ہونے پر عمر قید کی سزا سنا دی ہے۔برطانوی خبررساں ادارے کے مطابق74 سالہ سابق جنرل گوو بوکسیونگ پر الزام تھا کہ انھوں نے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے رشوت لے کر دوسروں کو ترقیاں دی تھیں۔سرکاری میڈیا کا کہنا تھا کہ سابق جنرل سے تمام اعزازات واپس لے لیے گئے ہیں اور ان کے تمام ذاتی اثاثے بھی منجمد کردیے گئے ہیں۔واضح رہے چین کے صدر شی جن پنگ نے 4 سال قبل عہدہ سنبھالتے ہی ملک میں انسداد کرپشن کی اہم مہم شروع کی تھی جس کے بعد درجنوں اعلیٰ سرکاری عہدیداران کو اس سلسلے میں جیل بھیج دیا گیا ہے۔سابق جنرل گوو 2002 سے 2012 تک چین کی ملٹری کمیشن کے وائس چیئرمین رہے، اس عہدے پر فائز شخص پیپلز لیبریشن آرمی کا ذمہ دار ہوتا ہے جو دنیا کی سب سے بڑی فوج ہے۔چین کے سابق صدر ہوجن تاؤ کے دور میں اپنی سروس کے دوران وہ کمیونسٹ پارٹی ‘پولیٹبورو’ کی 25 رکنی تنظیم کا حصہ تھے تاہم کمیونسٹ پارٹی نے انھیں گزشتہ سال جماعت سے علیحدہ کردیا تھا۔گوو کے خلاف عدالتی کارروائی خفیہ رکھی گئی اور ان کے کرپشن کے حوالے سے مزید تفصیلات بھی نہیں بتائی گئیں۔چین کے اخبار نے رواں سال اپریل میں خبر دی تھی کہ گوو پر ایک کروڑ 23 لاکھ ڈالر رشوت لینے کا الزام ہے جبکہ یہ ان کے اثاثوں کا ایک نہایت ہی چھوٹا سا حصہ ہے۔چینی سرکاری ایجنسی شن ہوا کے مطابق گوو نے اعتراف جرم کرتے ہوئے اپنی غلطی کو تسلیم کیا اور معافی مانگی جبکہ عدالتی فیصلے کے خلاف اپیل نہ کرنے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔سابق جنرل کا ایک بیٹا چین کی فوج میں میجرجنرل کے عہدے پر فائز ہے اور کرپشن کے الزامات میں زیر تفتیش ہیں۔واضح رہے چین میں ایک اور سابق جرنیل زو کائی ہو پر ترقیاں دینے کے لیے رشوت لینے کا الزام تھا تاہم وہ گزشتہ سال عدالتی کارروائی کے سامنا کرنے سے قبل ہی انتقال کرگئے تھے۔سرکاری میڈیا کا کہنا تھا کہ سابق جرنیل زو کی نقد، زیورات سمیت دیگر جائیداد کے شمار کے لیے ایک ہفتہ لگا تھا اور ان کی اس جائیداد کو وہاں سے ہٹانے کے لیے 12 ٹرک درکار تھے۔