پاکستان میں کرپشن کیخلاف اقدامات کی حمایت کرتے ہیں، سعودی سفیر

لاہور:(ڈیلی خبر) پاکستان میں تعینات سعودی عرب کے سفیر نواف بن سعید احمد المالکی نے کہا ہے کہ کرپشن یہ ایک کینسر ہے جس کے خاتمے کیلیے سعودی عرب میں کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا جب کہ پاکستان میں کرپشن کے خلاف ہونے والے اقدامات کو سپورٹ کرتے ہیں۔
پاکستان میں کرپشن کے خلاف اقدامات کے حوالے سے نواف بن سعید احمد المالکی نے کہا کہ سعودی عرب ان اقدامات کو سپورٹ کرتا ہے۔ پاکستان میں عوام کے ووٹ سے آنے والے ہرشخص کی سعودی عرب حمایت کرے گا۔ سعودیہ یمن کشیدگی کے معاملے پر انھوں نے کہا کہ اس کے پیچھے ایران ہے، ہمارے نزدیک سعودی عرب کی سالمیت اہم ہے لہٰذا یہ مداخلت برادشت نہیں کریںگے۔ خطے کی صورتحال پر اظہار خیال کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ایران کو ہمسایہ ممالک میں مداخلت نہیں کرنا چاہیے۔سعودی عرب میں کرپشن کے خلاف جاری احتساب کے حوالے سے ایک سوال پر نواف بن سعید احمد المالکی نے کہا کہ کرپشن کے معاملے پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، یہ ایک کینسر ہے جسے ختم کیے بغیر کوئی ملک استحکام حاصل نہیں کرسکتا اور نہ ہی ترقی کرسکتا ہے، کرپشن کرنے والا چاہے کتنا ہی بااثر کیوں نہ ہو، اسے بخشا نہیں جائے گا، اس حوالے سے ولی عہد محمد بن سلمان کی سربراہی میں بننے والی کمیٹی انشا اللہ اپنے مقاصد میں کامیاب ہوگی۔ گرفتار شہزادوں کا مسئلہ بھی جلد حل ہو جائے گا۔

اسلامی فوجی اتحاد میں ایران کی شمولیت کے حوالے سے ایک سوال پر سعودی سفیر نے کہا کہ میں اس کی امید کرتا ہوں۔ ایک سوال پر انھوں نے کہا کہ سعودی عرب اور اتحادی افواج نے یمن کے بحری اور زمینی راستے بند نہیں کیے بلکہ سعودی عرب نے انسانی بنیادوں پر یمن کے شہریوں پر8 ارب ڈالر خرچ کیے ہیں۔ قطر ہمارا بھائی ہے، بھائیوں سے ناراضی بھی ہوجاتی ہے اور انھیں سزا بھی دی جاتی ہے لیکن وہ پھر بھی ہمارا بھائی ہے، انشا اللہ معاملات جلد ٹھیک ہوجائیں گے۔سعودی سفیرنواف بن سعید احمد المالکی نے کہا کہ دہشت گردی اور امن و امان کے حوالے سے پاکستان کا جو امیج پیش کیا جاتا ہے وہ بالکل غلط ہے، پاکستان ایک پر امن ملک ہے اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ میں بغیر سیکیورٹی کے سفر کر رہا ہوں لہٰذا پاکستانی میڈیا کو بھی چاہیے کہ وہ پاکستان کا مثبت امیج دنیا کے سامنے پیش کرے۔ انہوں نے کہ اکہ سی پیک منصوبہ اور گوادر پاکستان کی ترقی کے ضامن ہیں، یہ بہترین منصوبہ ہے جس سے پاکستان میں بہتری آئے گی، ہم اس حوالے سے پاکستان کی مدد کرنے کیلیے تیار ہیں۔نواف بن سعید احمد مالکی نے کہا کہ میں پاکستان سے محبت کرتا ہوں، سعودی عرب پاکستان کے ساتھ معیشت، تعلیم، صحت، کلچر اور کھیل کے شعبوں میں تعاون چاہتا ہے، میں پاکستان کی بزنس کمیونٹی سے ملاقاتیں کررہا ہوں کیونکہ سعودی عرب میں صرف تیل کی تجارت ہی نہیں ہے بلکہ وہاں کاروبار کے بہت سارے مواقع موجود ہیں۔ انھوں نے کہا کہ بھارت کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں، اس کی وضاحت میں انھوں نے کہا کہ بھارت میں 300 ملین مسلمان ہیں جنھیں نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔مریکا سعودی عرب تعلقات کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ امریکا کے ساتھ ہمارے تعلقات ٹھیک ہیں، امریکا ایک سپر پاور ہے ظاہر ہے اس سے تعلقات بگاڑے نہیں جاسکتے۔ پاکستان پر ابھی امریکی دباؤ ضرور ہے لیکن امید ہے کہ آنے والے وقت میں پاک امریکا تعلقات ٹھیک ہوجائیںگے۔دوسری جانب فورم میں اظہار خیال کرتے ہوئے محمد علی درانی نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات مثالی ہیں، دونوں ممالک ایک دوسرے کے عوام اور میڈیا کے مابین روابط کا فروغ چاہتے ہیں، سعودی عرب چاہتا ہے کہ پاکستانی میڈیا پاکستان کا مثبت امیج دنیا کو دکھائے کیونکہ یہ ایک پر امن ملک ہے، سعودی عرب میں جو ڈیولپمنٹ ہورہی ہے، یہ دونوں ممالک کیلیے اہم ہے۔