ہزاروں بے گناہوں کا قاتل: امیر طالبان کی بیٹی کی “لوسٹوری” منظر عام پر آگئی

راولپنڈی(مانیٹرنگ ڈیسک) کالعدم تنظیموں کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان نے انکشاف کیا ہے کہ حکیم اللہ کی ہلاکت کے بعد نئے امیر کے انتخاب کیلئے انتخابی مہم چلائی گئی ، عمرخالد خراسانی، خان سعید سجنا، مولوی فضل اللہ وغیرہ امیدواروں میں شامل تھے ، ہرکوئی اقتدار چاہتاتھاتوپھر شوریٰ نے فیصلہ کیا کہ قرعہ اندازی کی جائے جس کے ذریعے مولانا فضل اللہ امیر مقرر ہوئے ، ایسی تنظیم سے کیا توقع رکھیں جس کا امیر قرعہ اندازی کے ذریعے منتخب ہو، پھر امیر بھی ایسے شخص کو بنایاگیاجس کا کرداریہ ہے کہ انہوں نے اپنے استاد کی بیٹی کیساتھ زبردستی شادی کی اور پھر اپنے ساتھ لے گئے ، ایسی شخصیات اور لوگ اسلام کی خدمات کررہے ہیں اور نہ ہی کرسکتے ہیں ۔
تفصیلات کے مطابق اپنے اعترافی بیان میں کالعدم تنظیم کے سابق ترجمان اور مہمند ایجنسی کے رہائشی احسان اللہ احسان عر ف لیاقت علی نے بتایاکہ 2008ءکے اوائل میں تحریک طالبان پاکستان میں شمولیت اختیار کی ، کالج میں طالبعلمی کےزمانے سے ہی ٹی ٹی پی مہمند ایجنسی کا ترجمان تھااور بعدمیں ٹی ٹی پی کا مرکزی ترجمان بھی رہا، گرفتاری دینے سے قبل جماعت الاحرار کا بھی ترجمان رہا۔ احسان اللہ احسان کاکہناتھاکہ 9سالوں پر محیط اس زندگی میں بہت کچھ دیکھا، اسلام کے نام پر لوگوں بالخصوص نوجوان طبقہ کو گمراہ کرکے اپنے ساتھ ملایا، بھرتی کیا، ایسے نعرے لگاتے تھے جن پر یہ لوگ(کالعدم تنظیموں سے وابستہ افراد) خود بھی پورے نہیں اترتے تھے ، چند مخصوص ٹولہ امراءبنے بیٹھے ہیں ، لوگوں ، بے گناہ مسلمانوں سے بھتے لیتے ہیں ، قتل عام کرتے ہیں ، پبلک مقامات پر دھماکے کرتے ہیں، سکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں پرحملے کرتے ہیںحالانکہ اسلام اس چیز کادرس نہیں دیتا، قبائلی علاقوں میں آپریشن شروع ہواتوان لوگوں میں قیادت کی دوڑ مزید تیز ہوگئی، ہرکوئی چاہتا تھا کہ تنظیم کا لیڈر بنے ، بالآخر حکیم اللہ محسود کی ہلاکت کے بعدقرعہ اندازی کے ذریعے امیر چنا گیا اور اس کا کردار بھی مثالی نہیں۔