عمران خان سے جان چھڑانے کیلئے پیپلز پارٹی اور (ن) لیگ میں خفیہ ڈیل

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی میں عمران خان سے نجات، احتساب سے بچنے، سٹیٹس کو کا نظام بحال رکھنے، نواز شریف کی نا اہلی ختم کرانے اور مزید نا اہلیوں سے بچنے کیلئے اندرون خانہ معاملات طے پاچکے ہیں، جے یو آئیa(ف) کے مولانا فضل الرحمن، اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ، چیئرمین سینٹ رضا ربانی، وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق، سینیٹر پرویز رشید معاملات کو حتمی شکل دینے میں مصروف ہیں۔روزنامہ خبریں و نیا اخبار کے مطابق اندرونی حالات سے واقف کار ذرائع کے مطابق نواز شریف اپنی پارٹی کے کسی رہنما کو مستقل، با اختیار اور

طاقتور وزیر اعظم نہیں بنانا چاہتے اور مریم نواز کو وزیر اعظم تسلیم کرنے میں پارٹی کی سینئر قیادت آمادہ نہیں ہے۔ جس کے بعد سابق وزیر اعظم آئندہ ٹرم پیپلزپارٹی کو دینے کا اشارہ دے چکے ہیں، مرکز اور صوبوں میں آئندہ الیکشن کے بعد حکومت سازی کے معاملات پر بھی بات چیت کا سلسلہ جاری ہے۔ موجودہ اسمبلی کو ایک سال کی توسیع دینے پر بھی کام ہورہا ہے، جس کیلئے پیپلزپارٹی نے آمادگی ظاہر کردی ہے۔ تاہم نوازشریف کی نااہلی کے خاتمہ تک وزیراعظم پیپلزپارٹی سے ہو گا جبکہ نااہلی کے خاتمہ پر وزیراعظم خود نوازشریف بنیں گے۔ ن لیگ موجودہ اسمبلیوں کے ذریعے ہی سینیٹ الیکشن کرانا چاہتی ہے جبکہ پیپلزپارٹی کی خواہش ہے کہ یہ کام آئندہ اسمبلیوں پر چھوڑ دیا جائے۔ ذرائع کے مطابق نواز شریف چیئرمین سینیٹ کا عہدہ بھی پیپلزپارٹی کو دینے پر آمادہ ہیں اور آصف زرداری اس مقصد کیلئے اپنی بہن فریال تالپور کی راہ ہموار کررہے ہیں۔ جبکہ آصف زرداری نے سینیٹ الیکشن آئندہ انتخابات کے بعد کرانے کیلئے بلوچستان میں تبدیلی کے بعد کے پی کے میں تبدیلی کیلئے کاریگری شروع کردی ہے،دوسری طرف مرکز میں ن لیگ کے ساتھ مکمل تعاون کی پالیسی پر گامزن ہیں، ماضی میں جس طرح پیپلزپارٹی نے تیسری مرتبہ وزیر اعظم کی قید ختم کرانے کے لئے ن لیگ کے حق میں قانون سازی میں مدد کی تھی آئندہ بھی وہ نواز شریف کی وزارت عظمیٰ کی راہ میں رکاوٹیں دور کرنے پر آمادہ ہو چکی ہے۔متحدہ مجلس عمل کی بحالی بھی اس پلان کا حصہ ہے۔ 2003ءکے الیکشن میں ایم ایم اے نے ماضی کے صوبہ سرحد میں کامیابی کے بعد حکومت بنائی تھی۔اب کے پی کے میں تحریک انصاف کے مقابلہ کیلئے دینی جماعتوں کو متحد کیا جا رہا ہے خبر ہے کہ آئندہ چند روز میں جماعت اسلامی کے پی کے حکومت سے علیحدگی اختیار کرسکتی ہے۔ جس کیلئے فضل الرحمن کا سخت دباو¿ ہے۔ تاہم جماعت اسلامی کا نوجوان ووٹر تحریک انصاف سے مل کر الیکشن میں حصہ لینا چاہتا ہے۔ جماعت کے کارکنوں کی بڑی تعداد کو فضل الرحمن پر اعتماد نہیں ہے۔ لیکن جماعت اسلامی کے جفادری لیڈر اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ایم ایم اے کے ذریعے انہوں نے کچھ نشتیں حاصل نہ کیں تو انہیں ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا۔لہٰذا مخالفت کے باوجود آئندہ اسمبلیوں میں کامیابی کیلئے فضل الرحمن سے اتحاد ضروری ہے، جماعتی قیادت کے مطابق ان کا ووٹ بنک کم ہوتا جارہا ہے اور حلقہ میں دو اڑھائی ہزار ارکان ہیں وہاں جماعت کے امیدوار کو پانچ سو ووٹ ملتے ہیں، 2003ءمیں بھی جماعت اسلامی نے جے یو آئی (ف) سے اختلافات کی وجہ سے سرحد حکومت سے علیحدگی اختیار کرلی تھی۔ جس کے بعد متحدہ مجلس عمل کا وجود عملاً معطل ہو گیا تھا۔ایک تجویز کے پی کے میں ایوزیشن جماعتوں اور متحدہ مجلس عمل کی رکن جماعتوں کے اراکین صوبائی اسمبلی کے استعفوں کی بھی ہے، جس کا تاحال فیصلہ نہیں ہوسکا البتہ غور فکر جاری ہے۔ اے این پی بھی حکومتی اتحاد میں شامل ہو گی۔ زیر غور تجاویز کے مطابق سندھ میں پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم کی مخلوط حکومت قائم ہوگی، گورنر ایم کیو ایم وزیر اعلیٰ پیپلزپارٹی سے لیا جائے گا۔ مرکز میں ایم کیو ایم کو نمائندگی مل سکتی ہے،پنجاب میں ن لیگ شہباز شریف کی قیادت میں حکومت بنائے گی، بلوچستان میں ن لیگ، پیپلزپارٹی، قوم پرست جماعتوں کی مخلوط حکومت بننے کا امکان ہے تاہم گورنر پٹھان قوم پرستوں اور وزیر اعلیٰ بلوچ قوم پرستوں میں سے لینے کی تجویز ہے، خیر پختونخوا میں اگر مجلس عمل نے کامیابی حاصل کرلی تو فضل الرحمن کو حکومت سازی کا موقع دیا جائیگا لیکن اگر تحریک انصاف کامیاب ہوئی جس کی کہ توقع کی جارہی ہے تو ن لیگ اور پیپلزپارٹی متحدہ مجلس عمل کے ساتھ ملکر حکومت بنانے کی کوشش کریں گی۔ورنہ بھر پور اپوزیشن کا کردار ادا کرنے کی تجویز ہے۔ مستقل کی سیاست کے حوالے سے جنوری کے آخری اور فروری کے پہلے دس دن انتہائی اہم ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان اپنی سخت گیر پالیسی کی وجہ سے مقامی اور عالمی اسٹیبلشمنٹ کیلئے ناقابل قبول ہیں لہٰذا دونوں کی خواہش ہے کہ ن لیگ اور پیپلزپارٹی میں سے کوئی ایک آئندہ حکومت بنائے، خیال ہے کہ آئندہ الیکشن اور حکومت سازی کیلئے ہونے والے جوڑ توڑ کو عالمی اسٹیبلشمنٹ کی بھی حمائت حاصل ہے۔ اس لئے دونوں جماعتیں بڑی تیزی سے مستقبل کی سیاست کیلئے جوڑ توڑ میں مصروف ہیں۔ اس منصوبہ سازی کے خدو خال فروری کے پہلے پندرھواڑے میں سامنے آنے کا قوی امکان ہے۔