جوہونے جا رہا وہ بہت غلط ہے ، دو ججز پہلے فیصلہ دے چکے، انہوں نےکیس سنا نہ شواہد دیکھے، فیصلہ کیسے سنائیں گے؟: عاصمہ جہانگیر

لاہور (ڈیلی خبر ) سنیئر قانون دان عاصمہ جہانگیر نے کہا ہے کہ پانامہ کیس میں سپریم کورٹ ہر کام اپنی طر ز کا کر رہی ہے ، جب دو ججز پہلے فیصلہ دے چکے تو ان کی نئے بینچ کے ساتھ فیصلہ سنانے میں شمولیت نامناسب ہے کیونکہ انہوں نے کیس سنا نہیں، شواہد دیکھے نہیں وہ کیسے فیصلہ کر سکتے ہیں؟ ہمیں تو سپریم کورٹ کے تاریخی فیصلے اچھے تو دکھائی نہیں دیئے البتہ بھٹو ،عاصمہ جیلانی سمیت دیگر نا مناسب فیصلے یاد ہیں،غیر ملکی قانون دان بھی اس کیس کو اپنی نوعیت کا کیس ہی کہیں گے جو ہونے جا رہا بہت غلط ہو رہا ہے ،تاریخی فیصلے اچھے نہیں ہوتے ان میں ریو یو ضرور لینا چاہیے ، نوا زشریف نے اپنے باقاعدہ میڈیا ٹرائل اور سٹریٹ پریشر کے باعث کیس میں غلطیاں کیں انہیں جے آئی ٹی سے بائیکاٹ کرنا چاہیے تھا۔وہ نجی ٹی وی دنیا نیوز کے پروگرام میں گفتگو کررہی تھیں ۔ انہوں نے کہا کہ مجھے تو حیرانگی ہی ہو رہی ہے کہ سپریم کورٹ کیا کر رہی ہے ؟اور کیس کو کس طرف لیجا رہی ہے ؟،فیصلے تو صدیاں یاد رہتے ہیں مگر عوام جو انہیں اعتماد دیتی ہے اسے دھچکا لگتا آیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ دو ججز نے فیصلہ دے دیا ہے تو ان کی کیا ضرور ت ہے کیونکہ نہ ججز نے کچھ سنا ہے مگریہ نہایت غلط طریقے سے ، اپنی طرز کا فیصلہ ہونے جا رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ میں یہ نہیں کہتی کہ انصاف نہیں ہو رہا لیکن یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ انصاف دکھائی نہیں دے رہا اور ایسا ہی اس کیس میں ہور رہا ہے ۔عاصمہ جہانگیر نے کہا ہے کہ باہر کے ملکوں کے قانون دان بھی اس کو اپنی نوعیت کا کیس ہی کہیں گے اور اپنی نوعیت کے کیس کبھی بھی اچھا نہیں ہوتا ، فیصلہ نئے آنیوالے فیصلوں کی راہ کھولتا ہے اور اس طرح میمو والا کیس ابھی تک تاخیر کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف نے غلط کیا کیونکہ کیس کی فارمیشن اور جے آئی ٹی پر اعتراض نہیں کیا لیکن نواز شریف کا میڈیا ٹرائل بھی ہوا اور سٹریٹ پریشر بھی بہت زیادہ بڑھایا گیا جس سے بد مزگی پید ا ہوئی ہے مگر انہیں تاریخی فیصلے کے ریو یومیں ضرور جانا چاہیے ۔