نواز شریف پیپلز پارٹی کو کس طرح عمران خان کے خلاف استعمال کرنا چاہ رہے ہیں؟سنیئر صحافی نے اندر کی کہانی بیان کر دی جو کو جان کر پی ٹی آئی والوں کی پریشانی کی انتہا نہ رہے گی

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے درمیان حسین حقانی کے معاملے کو لے کر جو نیا تنازعہ پید ا ہوگیا ہے اس کی حقیقت کیا ہے اور پس پردہ دونوں جماعتیں کیا کر رہی ہیں ؟ معروف صحافی نے ساری حقیقت عیاں کر دی ہے۔تفصیلات کے مطابق نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی معید پیر زادہ نے سوال کیا کہ یہ جو نیا جھگڑا پیدا ہوگیا اور آصف علی زرداری بھی بڑی تند و تیز تقاریر کرتے جا رہے ہیں جبکہ مسلم لیگ (ن) کی جانب سے بھی بڑا سخت رد عمل دیا جا رہا ہے اسکے پیچھے کہانی کیا ہے؟ جسکا جواب دیتے ہوئے پاکستان کے سینئر صحافی ہارون الرشید کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی اور نواز لیگ ایک دوسرے کے مخالف نہیں بلکہ ناراض ہیں آپس میں، جسکا نقصان صرف عمران خان کو پہنچ رہا ہے۔ انکا کہنا تھا کہ پی ایم ہاؤس کے ترجمان سے پوچھا جائے کہ حسین حقانی کے معاملے پر کاروائی کیوں نہیں کی جا رہی؟ تحقیقات کے لیے کیا انکے پاس ایک ایف آئی اے یا وزارت داخلہ کا ایک اچھا افسر نہیں ہے ؟ جو یہ متعین کر دے کہ پی پی کے دور میں کہاں کہاں بے ضابطگیاں کی گئیں؟ نواز شریف اگر چاہے تو کچھ دنوں میں اسکا رزلٹ نکال سکتے ہیں ، یہ ٹی وی شوز میں یا پریس کانفرنس کر کے ایک دوسرے پر الزامات لگانے کی چیز نہیں ہے۔ ہارون الرشید کا کہنا تھا کہ آئندہ الیکشن میں نواز شریف یہ چاہتے ہیں کہ پیپلز پارٹی پنجاب میں مضبوط ہو تا کہ ووٹ تقسیم ہوجائیں اور نواز شریف ایک بار پھر جیت جائیں یا ایک بار پھر فرینڈلی حکومت بن جائے ۔ یہ ساری انکی اپنی بنائی ہوئی گیم ہے جسکا نقصان صرف اور صرف عمران خان کو ہو رہا ہے