ماڈرن سادھو یاسر پیرزادہ

سادھوؤں کا ذکر پرانے قصے کہانیوں میں بہت ملتا ہے، یہ لوگ جنگلوں میں نکل جاتے، وہیں تپسیا کرتے، پانی اور سادہ خوراک پر گزارا کرتے، کوئی گیان حاصل کرنے آتا تو اس کی رہنمائی کرتے، لوگوں میں دانائی تقسیم کرتے، آسانیاں بانٹتے، طمع، حرص اور لالچ انہیں چھو کر بھی نہ گزرتی، جو مل جاتا اسی پر قناعت کرتے، لوگوں کی تکالیف اور زندگی کی سفاکی انہیں دنیا سے دور کر دیتی، برس ہا برس کی ریاضت کے نتیجے میں اِن میں کچھ ایسی قوتیں بھی بیدار ہو جاتیں جو عام انسانوں کے لئے حیران کُن ہوتیں مگر ان کی بنیاد پر یہ کسی کو بیوقوف بنانے کی کوشش نہ کرتے بلکہ اپنا تمام تر دھیان تپسیا میں ہی رکھتے۔ پہلے میرا خیال تھا کہ سادھوؤں کی یہ روایت ناپید ہوتی جا رہی ہے اور اب کہیں کوئی سادھو سنت یا مہاتما نہیں بچا مگر میرا خیال غلط تھا۔ جتنے سادھو اور مہاتما ہمارے ہاں پائے جاتے ہیں اتنے غالباً تھائی لینڈ اور برما میں بھی نہیں پائے جاتے۔ یقین نہیں آتا تو کسی بھی شام کوئی بھی نیوز ٹی وی چینل لگائیں اور شام سات سے رات بارہ بجے تک براہ راست اِن پاکستانی سادھوؤں کا دیدار کرنے کی سعادت پائیں۔ روایتی سادھوؤں کے برعکس یہ لوگ اب جنگلوں میں نہیں رہتے (ویسے یہ اور بات ہے کہ ان میں سے کچھ کو کم از کم چڑیا گھر میں ضرور ہونا چاہئے) اور اِن کی ظاہری وضع قطع بھی قدیم سادھوؤں جیسی نہیں مگر جو گیان یہ دیتے ہیں اسے دیکھ کر قدیم سادھوؤں کی روح یقیناً بیتاب ہوتی ہوگی کہ ایسا پُر مغز بیان جسے سُن کر کوئی بھی شخص یہ کہنے پر مجبور ہو جائے کہ اگر اقتدار خدا کے اِن نیک بندوں کو سونپ دیا جائے تو دنوں میں یہ ملک کی تقدیر سنوار دیں۔ میڈیا کے یہ سادھو روزانہ رات کو دانائی کے موتی بکھیرتے ہیں، اب اگر ہم یہ موتی چُن نہیں سکتے تو یہ ہماری بدنصیبی ہے۔ قدیم سادھوؤں اور اِن جدید سادھوؤں میں ایک فرق البتہ یہ ہے کہ جو ’’تعلیمات‘‘ یہ روزانہ عوام کو اپنے پروگراموں میں دیتے ہیں خود اُس پر عمل کرنے کی ذمہ داری ان کی نہیں، ان مہاتماؤں کا کام صرف وعظ دینا ہے، اسے سننا اور پھر اس کے مطابق اپنے نظریات درست کرکے اُن پر عمل کرنا ہم لوگوں کا کام ہے اور ہم چونکہ اپنا کام نہیں کرتے اس لئے ملک کی حالت ٹھیک نہیں ہوتی۔
ان ماڈرن سادھوؤں کی ایک نشانی اور ہے کہ روایتی سادھوؤں کے برعکس یہ خود کو بہت بلند مقام پر رکھتے ہیں اور اس مقام کا تعین بھی انہوں نے خود ہی کیا ہے، ان کے خیال میں یہ وہ عظیم لوگ ہیں جو برا سوچتے ہیں اور نہ برا دیکھتے ہیں، ان کے منہ سے پھول جھڑتے ہیں البتہ ملک و قوم کی رہنمائی کا کٹھن فریضہ انجام دیتے ہوئے اگر کہیں گالم گلوچ، لعن طعن اور الزام تراشی سے کام لینا پڑے تو بالکل نہیں جھجکتے اور تمام مغلظات بکتے چلے جاتے ہیں، کسی کی پگڑی اچھالنی ہو، کسی کی کردارکشی کرنی ہو یا پھر ذاتی حسد کے ہاتھوں مجبور ہو کر کسی کے خلاف پروپیگنڈا کرنا ہو، اُس وقت تو اِن سادھوؤں کی شکلیں دیکھنے والی ہوتی ہیں، ان کی آنکھیں انگارے برسانے لگتی ہیں اور منہ سے جھاگ بہنے لگتی ہے۔ آپ لوگ سوچ رہے ہوں گے یہ میں کس قسم کی مثالیں دے رہا ہوں، سادھو جیسا بھی ہو کم ازکم اس طرح کی حرکتیں نہیں کر سکتا۔ یقیناً کوئی بھی سادھو ایسا نہیں ہو سکتا مگر ہم چونکہ پوری دنیا سے نرالے ہیں اس لئے ہمارے سادھو بھی انوکھے ہیں، یہ خود کو مہاتما سمجھتے ہیں، ان کا دعوی حق سچ کا ساتھ دینے کا بھی ہے، اپنے تئیں یہ لوگوں میں گیان بھی بانٹ رہے ہیں، ان کا خیال ہے کہ یہ دنیا کی آلائشوں سے پاک صاف ہیں، پوتّر ہیں، چینلز پر یوں وعظ دیتے ہیں جیسے منبر پر براجمان ہوں اور سمجھتے ہیں کہ روزانہ شام سات سے رات بارہ بجے تک یہ نظام کو ہلانے کی جو باتیں کرتے دراصل وہی فی زمانہ اصل تپسیا ہے۔ ان تمام نشانیوں کے پیش نظر سب سے موزوں لقب اِن اصحاب کے لئے جو ذہن میں آتا ہے وہ سادھو ہے۔ بعض اوقات یہ ماڈرن سادھو قدیم سادھوؤں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے پیشین گوئیاں بھی کرتے ہیں، یہ اور بات ہے کہ ان مہاتماؤں کی پیشن گوئیاں حکومت الٹانے سے ہی متعلق ہوتی ہیں، رونے کا مقام صرف یہ ہے کہ کبھی درست ثابت نہیں ہوئیں۔ لیکن یہ سادھو کبھی نہیں روتے۔ کبھی شرمندہ بھی نہیں ہوتے۔ بلکہ لفظ شرم ان کی لغت میں شامل ہی نہیں۔ یہ اسی بے شرمی اور ڈھٹائی سے اگلی شام پھر چینل پر براجمان ہوتے ہیں اور شام غریباں برپا کرنےکی کوشش کرتے ہیں۔
مجھے اب میڈیا کے ان سادھوؤں پر ترس آنے لگا ہے، وجہ اس کی یہ ہے کہ اب یہ بیچارے بری طرح ایکسپوز ہو گئے ہیں، سادھو سنت اور مہاتما کا جو لبادہ انہوں نے اوڑھ رکھا تھا وہ جگہ جگہ سے تار تار ہو چکا ہے جس میں سے ان کا بدنما جسم جھانکتا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ اِن کے پیروکار اب نہیں رہے، اِن نام نہاد سادھوؤں کے پیروکار معاشرے میں اب بھی موجود ہیں اور وہ بھی اِن سادھوؤں کی طرح خود کو نیک اور پاک باز سمجھتے ہیں جبکہ حقیقت میں سر سے پیر تک منافقت میں لتھڑے ہوئے ہیں ،گویا جیسی روح ویسے فرشتے۔ اِن ماڈرن سادھوؤں پر ترس کھانے کی دوسری وجہ میڈیا کے جینوئن صحافی ہیں جو شام غریباں برپا کرنے کی بجائے خالص صحافت کرتے ہیں، ان ظالموں نے خود ساختہ سادھوؤں کی قلعی خوب کھولی ہے، یہ لوگ روزانہ اِن دو نمبر سادھوؤں کے دعوؤں، تجزیوں اور پیشین گوئیوں کی دھجیاں اڑاتے ہیں جس سے ان سادھوؤں کی دکانداری خراب ہو رہی ہے۔ لیکن ڈھٹائی اور بے شرمی کا کوئی نعم البدل نہیں، جب تک یہ دونوں خوبیاں ہمارے دیسی خود ساختہ سادھوؤں میں موجود ہیں، معاشرے کا ایک مخصوص طبقہ ان کی پیروی کرتا رہے گا اور ان دو نمبر سادھوؤں کی روزی روٹی چلتی رہے گی۔ یہ دو نمبر سادھو اور ان کے پیروکار وہ لوگ ہیں جن کے اپنے چہروں پر دراصل کالک کی تہیں جمی ہیں اس لئے یہ معاشرے میں صاف ستھرے لوگ اور خوبصورتی برداشت نہیں کر سکتے، یہ معاشرے کے خوبصورت لوگوں پر گند اچھالتے ہیں تاکہ یہ ثابت کر سکیں کہ وہ اکیلے نہیں بلکہ پورا معاشرہ ہی بد صورت ہے۔ ان لوگوں نے معاشرے کو اپنے جیسا بدنما بنانے کی ایک مہم شروع کی ہے، اس مہم کا انجام بھی ان کی سابقہ مہمات اور پیشین گوئیوں جیسا ہی ہوگا۔