اصل پاکستان اور ناقابل یقین انکشافات سلیم صافی

گیلپ آف پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر اعجاز شفیع گیلانی پڑھنے اور پڑھانے والے ایک شائستہ انسان ہیں۔ ایک لفظ کی کمی گوارا کرتے ہیں اور نہ اضافہ ۔ جتنے لفظ درکار ہوں، ان میں ہی اپنی بات کرنے کا سلیقہ جانتے ہیں۔ وہ 1980ء سے پاکستانی عوام کے ذہنی رجحانات جاننے کے لئے سروے کے کام میں لگ گئے اور آج 37سال پورے ہونے کو ہیں کہ وہ یہی کام کررہے ہیں ۔ ان کی قیادت میں گیلپ آف پاکستان سروے کا ایک مستند ادارہ بن گیا ہے جن کے کارندوں کا نیٹ ورک اب پورے پاکستان میں پھیلا ہواہے ۔ ان کا ادارہ اب صرف اعداد وشمار جمع نہیں کررہا بلکہ انہوںنے اپنے ہاں ان کے تجزیے کا بھی خاطر خواہ انتظام کررکھا ہے ۔ جہاں پاکستانی میڈیا صرف سیاست میں لگا ہوا ہے ، وہاں ان کا ادارہ سیاسی موضوعات کا احاطہ کرنے کے ساتھ ساتھ مذہب، سماج، معیشت ، تعلیم اور خارجہ پالیسی تک کے شعبوں کو یکساں اہمیت دے کر ان سے متعلق سرویز کے ساتھ ساتھ ،ان کے تجزیے کا فریضہ بھی انجام دے رہا ہے ۔ ماضی قریب میں سیاست کے علاوہ میڈیا اور مذہبی و سماجی رجحانات سے متعلق بھی ان کے ادارے کے بعض دلچسپ اور حیرت انگیز سروے سامنے آئے چنانچہ گزشتہ ہفتے میں نے انہیں زحمت دی اور تقریباً تین گھنٹے تک ان کی علمی صحبت سے مستفید ہوتا رہا ۔ اپنے سرویز اور ان کے تجزیے کی بنیا دپر ڈاکٹر اعجاز شفیع گیلانی نے جو چشم کشا حقائق سامنے رکھے ، وہ دلچسپ ہونے کے ساتھ ساتھ حیرت انگیز بھی ہیں اور ان کی گفتگو سن کر میرا احساس گناہ یوں مزید بڑھ گیا کہ ہم میڈیا والے کس طرح قوم کو باخبر بنانے کے نام پر بے خبر بناتے جارہے ہیں ۔ ان کا کہنا تھا اور شاید بالکل درست کہہ رہے تھے کہ میڈیا میں بحیثیت مجموعی جو رائے سامنے آتی ہے وہ رائے عامہ نہیں بلکہ رائے خاصہ (خواص کی رائے ) ہے جبکہ سرویز کے دوران رائے عامہ (عوام کی رائے) سامنے لانے کی کوشش کی جاتی ہے ۔ اسی طرح میڈیا والے کھیل، سیاست یا معیشت غرض ہر شعبے میں نامور یا مشہور کے پیچھے جاتے اور اسے اپنے پاس بلاتےہیں جبکہ سرویز کے دوران نامور نہیں بلکہ نمائندے پر دھیان دیا جاتا ہے۔ مثلاً میڈیا سیاسی رہنما کی رائے بیان کرتا رہتا ہے لیکن سروے میں ووٹرز اور کارکن سے رائے لی جاتی ہے ۔اسی طرح میڈیا عموماً بڑے شہروں کی خبر دیتا اور لیتا ہے لیکن سرویز میں شہروں کے ساتھ ساتھ دیہات پر بھی یکساں توجہ دی جاتی ہے اور جس طرح شہروں میں رائے معلوم کی جاتی ہے ، اسی تناسب سے دیہات میں بھی لوگوں کی رائے معلوم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں بی اے پاس لوگوں کی تعداد تقریباً دس فی صد ہے ۔ یہی دس فی صد لوگ ہی نامور بنتے ہیں ۔ میڈیا اور سیاست کے میدانوں میں ان دس فی صد کی رائے سامنے آتی رہتی ہے اور عموما فیصلہ سازی پر یہی دس فی صد لوگ ہی اثرانداز ہوتے ہیں لیکن ان کی رائے عموماً باقی نوے (90) فی صد کی رائے کی عکاس نہیں ہوتی ۔
گیلپ آف پاکستان کے اب تک ہونے والے سرویز کے جو نتائج ڈاکٹر اعجاز شفیع گیلانی نے بتائے ان میں بعض نہایت دل خوش کن اور حوصلہ افزا بھی ہیں ۔ مثلاً عام تاثر یہ ہے کہ پاکستان کی سیاست میں پولرائزیشن بڑھ گئی ہے اور گالی کا کلچر عام ہوگیا ہے لیکن سرویز بتاتے ہیں کہ پاکستانی سیاست میں پولرائزیشن کم ہوئی ہے ۔ ماضی میں نظریاتی تقسیم بہت گہری اور دشمنی کی حد تک تھی لیکن اب جبکہ سیاست سے نظریاتی تفریق رخصت ہوتی جارہی ہے تو اس منفی رجحان کا ایک مثبت نتیجہ یہ سامنے آیا ہے کہ سیاست میں تلخی اور دشمنی کا عنصر کم ہوگیا ہے ۔ اسی طرح عام تاثر یہ ہے کہ پاکستانیت کا جذبہ ماند پڑتا جارہا ہے لیکن سرویز بتاتے ہیں کہ لسانیت اور علاقائیت کے رجحانات ماند پڑ گئے ہیں اور پاکستانیت کا جذبہ مضبوط ہوگیا ہے ۔ ریاستی اداروں پر عوام کے اعتماد کے بارے میں سروے کے نتائج بہت دلچسپ اور بعض تو ناقابل یقین بھی ہیں ۔ مثلاً تازہ ترین سرویز کے مطابق سیاستدانوں اور پارلیمنٹ پر عوام کے اعتماد میں اضافہ ہوا ہے ۔ میرے لئے خود اس بات کو ہضم کرنا مشکل تھا اور اعجاز شفیع گیلانی کے ساتھ اس پر کافی بحث بھی کی لیکن نہ صرف انہوں نے اعدادوشمار سامنے رکھے بلکہ یہاں بھی مجھے خواص اور عوام کی رائے کی تفریق سمجھا دی ۔ کہہ رہے تھے کہ شاید دس فی صد خواص کے اعتماد میں کمی آئی ہو لیکن عوامی سطح پر لوگ سیاستدانوں سے زیادہ جڑ گئے ہیں اور گزشتہ چار سالوں میں پارلیمنٹ پر اعتماد کی شرح میں اضافہ ہوا ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ اداروں پر عوام کے اعتماد کے لحاظ سے فوج پہلے نمبر پر جبکہ علماء دوسرے نمبر پر ہیں ۔ ماضی میں سیاستدانوں پر اعتماد کا معاملہ پولیس سے بھی نیچے ہوتا تھا لیکن اب پولیس کی بنسبت سیاستدانوں پر اعتماد زیادہ ہے ۔ اسی طرح چوہدری افتخار کے دور کی بنسبت عدلیہ پر اعتماد کی شرح میں کمی آئی ہے لیکن ماضی بعید کی بنسبت اب بھی عدلیہ پر اعتماد کی شرح کافی بہتر ہے ۔ یہی معاملہ میڈیا کا بھی ہے ۔ گزشتہ تین چار سالوں میں میڈیا پر اعتماد کم ہوا ہے لیکن اسی اور نوے کی دہائی کےمیڈیا کے مقابلے میں موجودہ میڈیا پر اعتماد کی شرح کافی بہتر ہے ۔ خارجہ پالیسی کے حوالے سے بھی پاکستانی رائے عامہ بڑی دلچسپ ہے ۔ مثلاً پاکستانی عوام جس ملک کے بارے میں سب سے زیادہ بداعتماد ہیں وہ ہندوستان ہے لیکن عوام کی اکثریت اس کے ساتھ جنگ کی بھی متمنی نہیں ۔ اسی طرح بداعتمادی کے لحاظ سے دوسرا نمبر امریکہ کا ہے ۔ گویا ہماری اشرافیہ نے ستر (70) سال سے ہمیں جس ملک کا نمبرون اتحادی بنادیا ہے پاکستانی عوام انڈیا کے بعد اس کے بارے میں سب سے زیادہ بدظن ہیں ۔ اسی طرح پاکستانی عوام جس ملک پر سب سے زیادہ اعتماد کرتے ہیں ان میں چین اور سعودی عرب شامل ہیں اور اس معاملے میں دونوں کی ریٹنگ ایک جیسی ہے ۔ ان دونوں کے بعد ترکی کا نمبر آتا ہے ۔ یہاں پھر عوام اور خواص کی رائے کا فرق سامنے آتا ہے کیونکہ اگر صرف خواص کی رائے لی جائے تو شاید سعودی عرب کی ریٹنگ اتنی بہتر نہ ہو۔ اسی طرح سروے بتاتے ہیں کہ ساٹھ فی صد پاکستانی عوام سی پیک کے حق میں ہیں جبکہ بیس فی صد اس کے بارے میں شکوک و شبہات رکھتے ہیں ۔ یہاں خود گیلانی صاحب نے وضاحت کی کہ شکوک و شبہات رکھنے والے زیادہ تر خواص اور کاروباری طبقات ہیں ۔ گیلانی صاحب بتارہے تھے کہ ان کے ادارے نے مارچ 2017ء میں سیاسی جماعتوں کی مقبولیت کے بارے میں ملک بھر میں تفصیلی سروے کیا اور پھر نتائج مرتب کرنے کے لئے 2013 کے انتخابی نتائج کی بھی جانچ پڑتال کی اور حیرت انگیز طور پر یہ بات سامنے آئی کہ ووٹرز نے کم وبیش وہی رجحانات ظاہر کئے جو گزشتہ انتخابات میں ظاہر کئے تھے ۔ گویا مسلم لیگ (ن) اب بھی سب سے بڑی جماعت کی حیثیت رکھتی ہے ۔ ہاں البتہ ان کا کہنا تھا کہ کراچی کے ووٹر کا رجحان بدل گیا ہے اور وہاں کوئی نمایاں رجحان سامنے نہیں آرہا ۔سب سے بھیانک حقیقت ان سرویز میں یہ سامنے آتی ہے کہ پاکستانی عوام کی اکثریت دیانتداری کوتو پسند کرتی ہے اور لیڈروں کی کرپشن کا رونا بھی بہت روتی ہےلیکن ووٹ دیتے وقت وہ امیدوار یا ان کے لیڈر کی دیانت کو نہیں بلکہ کچھ اور عوامل کو مدنظر رکھتی ہے۔ گویا ہاتھی کے دانت کھانے کے اور دکھانے کے اور۔ لیڈر دیانتدار پسند ہے لیکن ووٹرووٹ دیتے وقت دیانت اور بددیانتی سے کوئی سروکار نہیں رکھتا۔
گیلپ کے ان سرویز اور ان کے نتائج سے اندازہ لگا لیجئے کہ ہم میڈیا والے کتنے بڑے اور سنگین جرم کے مرتکب ہورہے ہیں۔ قوم کیا سوچ رہی ہے اور ہم کیا بتااور دکھا رہے ہیں۔ وجہ صاف ظاہر ہے۔ ہم میڈیا والے چند بڑے شہروں اور جی ٹی روڈ کو پاکستان سمجھتے ہیں لیکن پاکستان میں بلوچستان بھی ہے، فاٹا بھی ہے، اندرون سندھ بھی ہے، جنوبی پنجاب بھی ہے، آزاد کشمیر بھی ہے اور گلگت بلتستان بھی ہے۔ ہم صرف اشرافیہ اور سیاستدانوں کی توتو میں میں کو پاکستانی عوام کی سوچ سمجھتے ہیں لیکن پاکستان میں کسان بھی ہیں، مزدور بھی ہیں، اساتذہ بھی ہیں اور تاجر بھی ہیں۔ بلکہ یہی طبقات ہی اصل پاکستان ہیں۔ اس اصل پاکستان کے مسائل بھی الگ ہیں اور سو چ بھی مختلف ہے۔