آبرو کس چڑیا کا نام ہے؟ محمد اظہارالحق

جمرود پاکستانی قصبہ ہے جو پشاور سے سترہ کلو میٹر مغرب کی طرف واقع ہے۔
رنجیت سنگھ کی سکھ افواج اور درانیوں میں لڑائی اسی مقام پر ہوئی۔ افغانی جمرود پر قبضہ کرنے میں ناکام رہے۔ یہ 1837ء کا واقعہ ہے۔
اس کے بعد جب بھی انگریزی حکومت نے مغربی بارڈر پر کوئی کارروائی کی جمرود اس کارروائی کا ہیڈ کوارٹر رہا۔ طورخم کی سرحد جمرود سے اڑتیس کلو میٹر دور ہے! اڑتیس کلو میٹر کا یہ علاقہ پاکستان کا حصہ ہے۔
یہ جمعرات کا دن تھا مئی 2017ء کی اٹھارہ تاریخ تھی جب پاکستان کی پارلیمنٹ میں پارلیمنٹ ہی کے ایک رکن نے دعویٰ کیا تھا کہ جمرود سے طورخم تک کا علاقہ پاکستان کا ہے نہ افغانستان کا۔ دلیل یہ تھی کہ ایسا انگریزوں اور افغان حکومت کے درمیان طے ہوا تھا۔
یہ شخص کون تھا؟ اس کا نام محمود خان اچکزئی ہے؟یہ اپنے آپ کو دوسروں سے منفرد رکھنے کے لیے چادر اوڑھتا ہے۔ علم اس کا کتنا ہے؟ اس کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ اسے یہ بھی نہیں معلوم کہ اگر انگریز حکومت جمرود سے طورخم تک کا علاقہ ہندوستان کی ملکیت سے باہر سمجھتی تھی تو پھر لنڈی کوتل کو جو اسی علاقے میں واقع ہے اس نے خیبر رائفلز کا ہیڈ کوارٹر کیوں بنایا؟ اور اس پر اس وقت کی افغانی حکومت نے اعتراض کیوں نہ کیا؟
پاکستان کی سا لمیت کو چیلنج کرنے والا یہ شخص وفاقی حکومت کا اتحادی ہے۔ اس کے سر پر حکومت کی چھتری ہے۔ اس چھتری کا ثبوت اس سے بڑھ کر کیا ہو گا کہ جب اس کی اس یاوہ گوئی پر ایوان میں احتجاج کی آوازیں بلند ہوئیں تو قومی اسمبلی کے سپیکر نے اس شخص کا ساتھ دیا مگر پاکستان کی سا لمیت کا دفاع کرنے والوں کو سپیکر نے دھمکی دی کہ اٹھوا کر باہر پھینکوا دوں گا۔ اس شخص کا دفاع پورے ایوان میں کس نے کیا؟ سپیکر نے !یہ کہہ کر کہ یہ تو اس کا ذاتی بیان ہے!گویا کسی نے ذاتی بیان دینا ہو تو وہ مملکت پاکستان کی قومی اسمبلی میں جا کر دے!
برسر اقتدار جماعت کے کسی رکن نے اچکزئی کے اس بیان کی تردید کی نہ چیلنج کیا۔ ہاں شاہ محمود اور قائد حزب اختلاف خورشید شاہ نے وطن کی سالمیت کا دفاع کیا۔ خورشید شاہ نے کہا کہ یہ علاقہ اور پورا فاٹا پاکستان کا حصہ ہے شاہ محمود نے اچکزئی کو یاد دلایا کہ تم تو پاکستان کے وجود ہی کو تسلیم نہیں کرتے!
گزشتہ برس جولائی میں اس چادر پوش نے دعویٰ کیا کہ خیبر پختونخوا افغانوں کا ہے مسلم لیگ قاف کے رہنما پرویز الٰہی نے مطالبہ کیا کہ اس پر غداری کا مقدمہ چلایا جائے۔ دسمبر 2016ء میں وہ ایک ہاتھ اور آگے بڑھا اور مطالبہ کیا کہ تمام افغانوں کو پاکستانی شہریت دی جائے اور ایک نیا صوبہ افغان سرحد سے اٹک تک بشمول میانوالی بنایا جائے اور اس کا نام افغانیہ رکھا جائے۔ اس کے اتحادی مسلم لیگ نون کے رہنمائوں اور ورکروں میں سے کسی نے اس کے کسی مطالبے کی مذمت کی نہ تردید۔ خاموشی نیم رضا!
2014ء میں معروف اینکر پرسن مبشر لقمان صاحب نے جو اب روزنامہ 92نیوز میں کالم لکھ رہے ہیں ایک معروف ٹی وی چینل پر اپنے پروگرام میں ویڈیو اور تصویریں دکھائیں جن میں محمود اچکزئی اور افغان انٹیلی جنس کے رسوائے زمانہ کمانڈر جنرل عبدالرزاق اچکزئی کو اکٹھا دیکھا جا سکتا تھا۔ اس کمانڈر کے بارے میں یہ عام خبر تھی کہ وہ پاکستان دشمن خفیہ منصوبوں میں سرگرم رہتا ہے اور را کے گماشتے پاکستان میں بھیجتا ہے۔ اسی پروگرام میں دو بلٹ پروف لینڈ کروزر بھی دکھائی گئیں جو افغان انٹیلی جنس نے محمود اچکزئی کو دی تھیں۔ یہ بھی بتایا گیا کہ 2013ء کے انتخابات جیتنے کے لیے اسی شخص کو افغان حکومت نے تیس لاکھ امریکی ڈالر دئیے اور چمن کے تاجروں کو مجبور کیا کہ ووٹ اسے دیں۔
اس پس منظر کے ساتھ اب ایک معروف کالم نگار اور اینکر پرسن کی یہ سطور دیکھیے جو چھ مئی2017ء کو قومی سطح کے ایک معروف روزنامے میں شائع ہوئی ہیں۔
جس طرح امریکہ اور ہندوستان کے معاملے میں وزیر اعظم صاحب نے اپنے ذاتی چینل کھول رکھے ہیں اسی طرح انہوں نے افغانستان کے ساتھ اپنا حقیقی چینل محمود خان
اچکزئی صاحب کے ذریعے کھول رکھا ہے۔ وہ پاکستانی سفیر کے ذریعے نہیں بلکہ اچکزئی صاحب کے ذریعے خصوصی پیغامات افغان قیادت کو بھجواتے رہتے ہیں۔ وزیر اعظم ان کے ذریعے افغان قیادت کو بتاتے رہے کہ وہ فوجی قیادت کی تبدیلی کا انتظار کریں۔ فوجی قیادت تبدیل ہوئی تو اس کے اداروں نے اپنے طریقے سے افغان حکومت کے ساتھ بند دروازے دوبارہ کھولنے کی کوششیں شروع کر دیں جبکہ وزیر اعظم نے اچکزئی صاحب کو متحرک کیا اچکزئی صاحب کو ایک بار خاموشی سے افغانستان بھیجا گیا۔ اسی طرح انہوں نے لندن میں بھی بعض افغان لوگوں سے ملاقاتیں کیں اور انہیں وزیر اعظم کے پیغامات پہنچائے۔ حامد کرزئی صاحب کے ساتھ چونکہ ان کے پرانے تعلقات ہیں اس لیے انہوں نے وزیر اعظم کو تجویز کیا تھا کہ وہ حامد کرزئی کو پاکستان بلائیں چنانچہ وزیر اعظم کا خط لے کر انہوں نے کئی ماہ پہلے کرزئی صاحب کے حوالے کیا تھا۔
ہزاروں سال کے تجربے کے بعد یہ نتیجہ نکالا گیا ہے کہ انسان اپنے دوستوں کے
ذریعے پہچانا جاتا ہے۔ برسر اقتدار جماعت کے اتحادی کون ہیں؟ مولانا فضل الرحمن محمود خان اچکزئی اور اسفند یار ولی! ان تینوں میں کیا قدر مشترک ہے؟ یہ کہ یہ قائد اعظم کا نام کبھی بھول کر بھی کبھی خواب میں بھی نہیں لیتے! کیا یہ محض اتفاق ہے کہ یہ تینوں جو تحریک پاکستان کے خلاف تھے اور جو اینٹی قائد اعظم ہیں وفاقی حکومت کے اتحادی ہیں؟ کیا یہ بھی اتفاق ہے کہ پاکستان کے وزیر اعظم نے بیرون ملک جا کر دعویٰ کیا کہ انہیں تو ووٹ ہی بھارت کے ساتھ دوستی کرنے کے لیے ملے تھے! کیا یہ بھی محض اتفاق ہے کہ دنیا کے دو سو حکمرانوں میں سے صرف بھارتی وزیر اعظم نے وزیر اعظم کی نواسی کی شادی کی تقریب میں شرکت کی!
اقوامِ متحدہ میں تقریر کرتے وقت وزیر اعظم کلبھوشن کا ذکر کر کے بھارت کو دفاعی پوزیشن کی طرف دھکیل سکتے تھے مگر ایسا نہ ہوا۔ اب عسکری قیادت کو یہ بتایا گیا ہے کہ بھارتی فولاد سازی کا بادشاہ جندال مری میں وزیر اعظم سے بیک ڈور ڈپلومیسی کے سلسلے میں ملا تھا۔ کیا یہ بھی محض اتفاق ہے کہ پندرہ مئی کو بھارت کے سینئر صحافی پریم شنکر جھا نے دعویٰ کیا کہ جندال کو خود پاکستانی وزیر اعظم نے ملاقات کی دعوت دی تھی؟
بھارتی میڈیا کے علاوہ یہ خبر پاکستان کے معروف ترین انگریزی معاصر میں شائع ہوئی حکومت یا وزیر اعظم کے کسی ترجمان نے تادمِ تحریر اس کی کوئی تردید نہیں کی!!
فاٹا کا معاملہ اس سے بھی زیادہ پراسرار لگ رہا ہے۔ ایک طرف انضمام کی بات ہوتی ہے۔ دوسری طرف حکومت کے اتحادی مولانا کے لب و لہجہ میں ناقابلِ یقین تُندی آ جاتی ہے۔
سب کچھ جام کر دوں گا
یہ نہیں کرنے دوں گا۔
وہ نہیں کرنے دوں گا
کوئی مائی کا لال ایسا نہیں133
داغؔ دہلوی یاد آ رہے ہیں ؎
لگے منہ بھی چڑانے دیتے دیتے گالیاں صاحب!
زباں بگڑی سو بگڑی تھی خبر لیجے دہن بگڑا

ساری پارلیمنٹ ایک طرف! مولانا ایک طرف! مگر حکومت نے ان کی خاطر مسئلے کو التوا میں ڈال دیا۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ فاٹا اصلاحات اور انضمام کے شدید ترین مخالف مولانا اور اچکزئی صاحب دونوں فاٹا سے تعلق ہی نہیں رکھتے! قومی سیاست میں ان کی کیا اہمیت ہے؟ دونوں محدود علاقائی سطح پر سیاست کا کاروبار کرتے ہیں مگر وزیر اعظم کا دستِ شفقت دونوں کے سر پر ہے ؎

بنے ہے شہ کا مصاحب پھرے ہے اتراتا
وگر نہ شہر میں غالبؔ کی آبرو کیا ہے

آبرو؟ یہ کس چڑیا کا نام ہے؟ غالب کے زمانے میں ہوتی ہو گی!