وزیر اعظم کی ’’ تلاشی ‘‘ اور افغان المیہ کالم نگار | نصرت جاوید

سنا ہے پاکستان میں عوام کے ووٹوں سے منتخب ہوئی کوئی پارلیمان ہوتی ہے۔آئینی اعتبار سے اس ادارے پر اس ملک میں ’’سب پر بالادست‘‘ ہونے کی تہمت بھی لگائی جاتی ہے۔ اس ادارے کا ’’قائد ایوان‘‘ جو وزیر اعظم کہلاتے ہوئے حتمی فیصلے کرنے والا ’’چیف ایگزیکٹو‘‘ سمجھا جاتا ہے،مگر نومبر 2016ء سے پانامہ دستاویز کی بدولت سپریم کورٹ کے روبرو کئی ہفتوں تک اپنی ’’تلاشی‘‘ دیتا ہوا پایا گیا ہے۔انتظار اب فیصلے کا ہے۔ہمارے باخبر صحافیوں کا اصرار ہے کہ یہ فیصلہ آنے میں ’’چند ہی گھنٹے‘‘ باقی رہ گئے ہیں۔اس کے آجانے کے بعد ’’سب پر بالادست‘‘ ادارے کو شائد کوئی نیا ’’قائد ایوان‘‘ ڈھونڈنے کی ضرورت ہوگی۔
نواز شریف اپنی جگہ موجود رہیں یا ’’تلاشی‘‘ کے نتیجے میں ان کی جگہ کوئی اور بھی آجائے تو افغانستان کے ساتھ معاملات طے کرنے کے لئے ایک جامع پالیسی بنانے کی ضرورت اپنی جگہ برقرار رہے گی۔سوال یہ اُٹھتا ہے کہ مذکورہ پالیسی کیسے ا ور کہاں بنائی جاتی ہے۔ہمارے نام نہاد منتخب کردہ نمائندے اس پالیسی کی تشکیل میں کیا کردار ادا کرتے ہیں۔
اپریل 1978میں جب سردار دائود کا تختہ اُلٹ کر افغانستان میں کمیونسٹ برسرِ اقتدار آئے تو پاکستان میں پارلیمان موجود نہیں تھی۔ حتمی فیصلہ سازی کا اختیار جنرل ضیاء الحق اور ان کے رفقاء کے پاس تھا۔پاکستان میں ’’حقیقی اسلام‘‘کی خواہاں اس قیادت کاافغانستان کی کمیونسٹ حکومت سے گزارہ بہت مشکل تھا۔اس حکومت نے افغانستان جیسے قدامت پرست ملک میں ’’حقیقی کمیونزم‘‘ متعارف کروانے میں بھی بہت بے چینی دکھائی۔ وہاں کے سادہ لوح مسلمانوں کی ایک کثیر تعداد قافلوں کی صورت پاکستان آکر پناہ گزین ہونا شروع ہوگئی۔
اسلام ہویا کوئی اور نظریہ اس کی ’’حقیقی‘‘ صورت کو جب ریاستی جبر کے ذریعے کسی معاشرے پر نافذ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو سوال یہ بھی اُٹھ کھڑا ہوتا ہے کہ ’’اصل‘‘ مسلمان یا کمیونسٹ کون ہے۔ہمارے ہاں یہ تو طے ہوچکا تھا کہ جنرل ضیاء الحق ہی وہ ’’مومن‘‘ ہیں جن کا برسوں سے انتظار ہورہا تھا۔نور محمد ترہ کئی کے بارے میں افغان مگر ’’سچا کمیونسٹ‘‘ ہونے کے حوالے سے یہ طے نہ کر پائے۔اسے جان سے فارغ کرکے حفیظ اللہ امین نے ترہ کئی کی جگہ لے لی۔’’کمیونزم‘‘اس کابھی دونمبری نظر آنا شروع ہوا تو سوویت افواج کے ساتھ ببرک کارمل نے افغانستان میں داخل ہوکر اقتدار پرقبضہ جمالیا۔ہماری ریاست نے فیصلہ کرلیا کہ کمیونسٹوں کی اگلی منزل پاکستان ہے۔اسے روسیوں کو ہر صورت افغانستان تک محدود کرنا ہوگا۔ہماری ریاست کے اس فیصلے کو امریکہ اور سعودی عرب جیسے ممالک نے پوری طرح سراہا۔کمیونسٹ افواج کو افغانستان میں گھیر کر شکست دینے کے لئے ’’جہاد‘‘شروع کردیا گیا۔جہاد میں حصہ نہ لینے کے قابل عام افغان سمندری لہروں کی طرح پاکستان آکر بسنا شروع ہوگئے۔اقوام متحدہ نے انہیں ’’مہاجرین‘‘ کی حیثیت میں تسلیم کیا۔ان کی بنیادی ضرورتوں کو پورا کرنا اپنی ذمہ داری قرار دی۔ ریاستِ پاکستان بھی ’’انصارِ مدینہ‘‘ کی روایات پر عمل کرتے ہوئے ان کی دیکھ بھال میں دل وجان سے مصروف ہوگئی۔بالآخر روسی افواج1986ء سے جہاد کے ہاتھوں زچ ہوکر اپنے وطن لوٹ جانے کو مجبور ہونا شروع ہوگئیں۔اپنی پرامن اور قسط وار واپسی کو یقینی بنانے کے لئے انہوں نے ڈاکٹر نجیب کو افغانستان کے صدارتی محل میں بٹھادیا۔
1990ء کی دہائی شروع ہوتے ہی نجیب کی مشکلات کا آغاز ہوگیا۔’’مجاہدین‘‘ نے بالآخر 1992ء میں اس کا تختہ اُلٹ بھی دیا ۔کمیونسٹوں کے رخصت ہوجانے کے بعد بھی لیکن افغانستان میں آج تک کوئی مستحکم حکومت قائم نہیں ہوپائی ہے۔دریں اثناء پاکستان میں افغانیوں کی تیسری نسل بھی پیدا ہوکر بالغ ہوچکی ہے۔ وہ ہمارے معاشرے اور معیشت کے بھرپور شراکت دار بن چکے ہیں۔خود کو مگر اب بھی افغان کہتے ہیں۔ہم طے نہیں کر پارہے ہیں کہ ان کے ساتھ کیا برتائو کریں۔ہمارے عوام کی اکثریت میں اگرچہ ان کے بارے میں وہی جذبات پائے جاتے ہیں جو امریکہ کی سفید فام اکثریت کے دلوں میں غیر ملکی تارکینِ وطن کے بارے میں کئی برسوں سے موجود تھے۔ نفرت بھرے ان جذبات کواب وائٹ ہائوس پہنچ کر ڈونلڈٹرمپ نے ریاستی طورپر اپنا لیا ہے۔ہماری ریاست اس جیسی ’’متعصب‘‘ نظر آنا نہیں چاہتی۔
افغان ریاست بھی اپنی جگہ کئی حوالوں سے بے تحاشہ مخمصوں اور بے بسی کا شکار ہوئی نظر آرہی ہے۔افغانستان کی خودمختاری کو بحال کرکے وہاں’’حقیقی اسلام‘‘ نافذ کرنے کے خواہاں ’’طالبان‘‘ اپنے تئیں اس قابل نہیں رہے کہ اقتدار پر قبضہ کرسکیں۔انہیں مزاحمت کی ایک اور طویل جنگ لڑنا ہے۔افغان حکومت اور طالبان کے مابین تخت یا تختہ والی اس جنگ کے درمیان پھنسے عام افغانیوں کو سمجھ نہیں آرہی کہ وہ اپنی روزمرہّ زندگی کیسے جاری رکھیں۔پاکستان ان کے لئے برسوں سے جائے امان تھی۔اب مگر ان کا یہاں قیام تقریباََ ناممکن ہوتا جارہا ہے۔عوامی سطح پر ان سے تعصب برتا جاتا ہے۔ہمارے لوگوں کی اکثریت کو گلہ ہے کہ وہ پناہ گزیں نہیں رہے۔سستی مزدوری فراہم کرکے ہمارے لوگوں پر دو وقت کی روزی کمانے کے دروازے بند کررہے ہیں۔افغان ہنرمندوں اور کاروباری طورپر ہوشیار افراد نے بڑی مارکیٹوں اور کاروبار پر بھی قبضہ جمالیا ہے۔
ہماری ریاست کو دوسری جانب یہ گلہ ہے کہ اس نے دینِ مبین کی چند مبادیات کی بے رحم تشریح سے پاکستان میں دہشت گردی کی وارداتیں کرنے والوں کے خلاف آپریشن ضربِ عضب کیا تو ان میں سے چند لوگ افغانستان فرار ہوگئے۔انہوں نے وہاں اپنے مراکز اور محفوظ ٹھکانے بنالئے۔افغان حکومت ان پر قابو پانے کی بجائے ہمارے ازلی دشمن بھارت کے ساتھ مل کر ان کی پشت پناہی کرنا شروع ہوگئی۔افغان سرزمین پر خودکش تیار کرکے انہیں پاکستان بھیج دیا جاتا ہے۔لاہور اور سہیون میں ہوئی دہشت گردی کی وارداتوں کے بعد لہذا ہم طورخم اور چمن کی سرحد بند کرنے پر مجبور ہوگئے۔ 20سے زائد دنوں تک سرحد بند رکھنے کے بعد گزشتہ منگل اور بدھ کے روز دو دن کے لئے اسے کھولا گیا تھا۔ دونوں ممالک میں باقاعدہ دستاویزات کے باوجود خود کو محصور محسوس کرتے ہزار ہا انسانوں نے ان دوایام کے دوران لمبی قطاروں میں لگ کر اپنے اپنے وطن واپس لوٹنے کی سہولت حاصل کی۔دونوں ممالک کے مابین تجارت مگر اب بھی بحال نہیں ہوئی۔اس کی فوری بحالی کے فی الحال امکانات بھی نظر نہیں آرہے ہیں۔
پاک افغان سرحد کی باقاعدہ دستاویزات کے ساتھ سفرکرنے والوں کے لئے بھی بندش جن انسانی المیوں کا باعث بن رہی ہے اس کا ادراک ہمارے مستعد میڈیا کو ہرگز نہیں ہوپارہا۔ہماری ریاست بھی اس حقیقت سے بے خبر نظر آرہی ہے کہ ایسے المیے بالآخرکئی نسلوں کے دلوں میں غصے اور نفرت کے جذبات کو پیدا کرتے ہوئے انہیں سنگین چپقلشوں کی طرف دھکیل دیتے ہیں۔ان المیوں کا بھرپور احساس کرتے ہوئے ان کے تدارک کی کوئی صورت نکالنا ہوگی۔ہم مگر کچھ دنوں سے لغات کھول کر ’’پھٹیچر‘‘ اور ’’ریلوکٹے‘‘ کے معانی ڈھونڈرہے ہیں۔’’فیصلے‘‘ کا انتظار کررہے ہیں تاکہ نواز شریف سے ’’نجات‘‘ کی کوئی صورت بنے۔ یہ الگ بات ہے کہ نواز شریف سے ممکنہ نجات بھی ان مسائل کا حل نہیں ہے۔جو افغانستان کے تناظر میں شدید سے شدید ترہورہے ہیں۔
انسانی المیوں سے درگزر کرتے ہوئے سفاک انداز میں محض کاروبار کی بات ہی کریں تو صرف اتنا یاد دلانا کافی ہوگا کہ پاکستان افغانستان کو انڈے،مرغیاں اور گوشت وغیرہ بھیج کر سالانہ 730ملین ڈالر کماتا تھا۔پھل،سبزیاںاور مصالحے بھی تقریباََ اتنی ہی مالیت کے ہر سال وہاں جاتے ہیں۔صرف دو سال قبل تک پاکستان اپنی برآمدات کی بدولت افغانستان سے سالانہ 3ارب ڈالر کماتا تھا۔آج سے کچھ ماہ قبل چمن کی سرحد بند ہوئی تو سیمنٹ افغانستان میں ایران سے آنا شروع ہوگیا۔ہم سیمنٹ کی افغانستان میں فروخت سے ہر سال ڈیڑھ ارب ڈالر کمایا کرتے تھے۔اب ہمارے سیمنٹ کی وہاں ایک بوری بھی نہیں جاتی۔انڈے اورمرغیاں بھی اب بھارت سے افغانستان جانا شروع ہوگئی ہیں۔افغان منڈی تک رسائی کی یہ بندش ہمارے چھوٹے صنعت کاروں اور کاروباری افراد کے لئے جو مشکلات پیدا کرے گی کم از کم اس پر غورکرنا بھی تو ضروری ہے۔ایسے اہم معاملات پر غور کی مگر فرصت کسے۔