’انسان کا ایک شادی پر گزارا نہیں ہوسکتا کیونکہ۔۔۔‘ سائنسدانوں نے ایسی بات کہہ دی کہ مَردوں کے چہرے خوشی سے کِھل اُٹھیں گے

لندن (نیوز ڈیسک)اہل مغرب علمی جستجو اور تحقیق سے گہرا شغف رکھتے ہیں، اور بعض اوقات کچھ دلچسپ موضوعات پر بھی تحقیق کر گزرتے ہیں۔ ایک ایسی ہی تحقیق میں یہ جاننے کی کوشش کی گئی کہ کیا زندگی بھر کا ازدواجی تعلق محض ایک عورت اور مرد کے درمیان ہونا چاہیے، یا یہ تعلق دو سے زائد افراد کے درمیان ہو تو بہتر ہے۔
یونیورسٹی آف مشی گن کے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ا س بات کیلئے سائنسی شواہد دستیاب نہیں ہیں کہ یک زوجیت (یعنی ایک مرد کی صرف ایک عورت سے شادی) ہی ازدواجی تعلق کا سب سے بہتر طریقہ ہے۔ تحقیق کی سربراہ ٹیری کونلی کا کہنا ہے کہ عام طور پر تحقیق کار لاشعوری طور پر یک زوجیت کے حق میں ہوتے ہیں اور یہ وجہ ہے کہ تحقیق سے پہلے ہی ان کی رائے اس کے حق میں ہوتی ہے، لہٰذا ہماری تحقیق بھی غیر محسوس طریقے سے ہماری اس سوچ سے متاثر ہوتی ہے۔ ہم صرف یک زوجیت کو ہی ازدواجی تعلق کا درست طریقہ سمجھتے ہیں
سائنسی جریدے ’پرسپیکٹو آن سائیکالوجیکل سائنس‘ میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ یک زوجیت کے متعلق کی جانے والی تحقیقات کی ساخت ہی اسی طرح کی ہوتی ہیں کہ نتائج اس کے حق میں آتے ہیں۔ اسی طرح تحقیقات میں کثیر زوجیت کے لئے ایسے الفاظ استعمال کئے جاتے ہیں جو اس کے بارے میں منفی تاثر پیدا کرتے ہیں اور جواب دینے والا غیر محسوس طریقے سے اس کے خلاف رائے دے بیٹھتا ہے، ورنہ ضروری نہیں کہ حقیقت بھی وہی ہو جو مغربی ممالک میں سمجھی جاتی ہے