’اس نازک آپریشن کے بعد میں ہوس کی پجارن بن گئی ہوں اور اب۔۔۔‘ ادھیر عمر خاتون کی کہانی جسے پڑھ کر آپ کے رونگٹے کھڑے ہوجائیں گے

لندن (نیوز ڈیسک) رسولی کے آپریشن کے بعد کئی طرح کے مسائل پیش آ سکتے ہیں۔ کسی کو انفیکشن ہو جاتا ہے تو کسی کا زخم ٹھیک سے مندمل نہیں ہو پاتا، مگر برطانیہ سے تعلق رکھنے والے ایک خاتون نے یہ کہہ کر سب کو حیران کر دیا ہے کہ رسولی کے آپریشن کے بعد اس کی جسمانی ہوس قابو سے باہر ہو گئی ہے۔
میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق 46 سالہ شیرن وائٹلی کا کہنا ہے کہ کچھ عرصہ قبل تک ان کی ازدواجی زندگی بے کیف تھی کیونکہ انہیں جسمانی طلب بہت ہی کم محسوس ہوتی تھی۔ پھر جب ان کے جسم سے سات پاﺅنڈ وزنی رسولی نکالنے کیلئے آپریشن کیا گیا تو سب کچھ بدل گیا۔ وہ کہتی ہیں کہ اب دن رات ان کے ذہن پر ہوس سوار رہتی ہے اور گزشتہ چند دنوں کے دوران وہ دس سے زائد مردوں کے ساتھ وقت گزار چکی ہیں۔شیرن کا کہنا تھا ” صرف گزشتہ ایک ہفتے کے دوران میں 3 مردوں سے ملی ہوں۔ ان میں سے ایک مرد 4 دن تک میرے ساتھ رہا۔ مجھے سوائے آپریشن کے اس معاملے کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی۔ میں ہمیشہ سمجھتی تھی کہ میرا جسم جنس کیلئے تیار نہیں ہے لیکن اب تو معاملہ بالکل الٹ ہو گیا ہے۔ “ یونیورسٹی آف میریلن کی ایک تحقیق میں بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ عام تاثر کے برعکس رسولی نکالنے کے لئے ہسٹریکٹمی آپریشن کے بعد خواتین کی جسمانی اشتہاءبڑھ جاتی ہے۔ تحقیق کاروں نے یہ نتائج 2سال پر مشتمل تحقیق کے دوران 13 سو سے زائد خواتین کے بارے میں جمع کی گئی معلومات سے اخذ کیے۔تحقیق کی سربراہی کرنے والے سائنسدان ڈاکٹر کریسٹن جیروف کا کہنا تھا کہ اگرچہ اکثر لوگ ان نتائج کو متنازع قرار دے سکتے ہیں لیکن ہماری تحقیق یہی کہتی ہے کہ ہسٹریکٹمی آپریشن کے بعد خواتین کی ازدواجی زندگی میں گرمجوشی آجاتی ہے۔ انہوں نے اس تاثر کو رد کیا کہ اس آپریشن سے خواتین میں جنسی مسائل پیدا ہو جاتے ہیں۔