شیطان کے بہکاوے میں آکر ایک پاکستانی نوجوان نے جرمنی میں پناہ گزین عراقی خاندان پر کیا ستم ڈھایا ؟ اس خبر میں جانیے

برلن (ویب ڈیسک) جرمنی کے دارلحکومت برلن کے ایک پناہ گزین کیمپ میں ایک مہاجر بچی کو جنسی طور پر ہراساں کرنے والے ایک پاکستانی کو سزا سنا دی گئی۔ عدالت نے پاکستانی نوجوان کو ڈیڑھ برس کی سزا سنائی ہے۔برلن کے ریفیوجی مرکز میں جس بچی کو اس 27 سالہ پاکستانی نے جنسی طور پر ہراساں کیا تھا، وہ عراق سے تعلق رکھتی ہے اور اس واقعے کے وقت اُس کی عمر صرف چھ برس تھی۔ اس کا خاندان خانہ جنگی کے شکار ملک عراق سے ہجرت کر کے برلن میں پناہ لیے ہوئے تھا۔جرمن عدالت میں پاکستانی نوجوان نے اپنے جرم کا اعتراف کرتے ہوئے عدالت پر واضح کیا کہ وہ اپنے اِس اچانک فعل کا ارتکاب کرنے پر حیرت زدہ اور شرمندہ ہے۔پاکستانی نوجوان نے برلن شہر کے شمال مغربی علاقے میں واقع موابٹ پناہ گزین کیمپ میں مقیم عراقی مہاجر خاندان کی بچی کو بہلا پھسلا کر اسے جنسی طور پر ہراساں کیا۔برلن شہر کی ٹیئرگارٹن کورٹ میں اِس سلسلے میں عدالتی کارروائی مکمل کی گئی۔ استغاثہ نے تمام ثبوت کے ساتھ ثابت کیا کہ مجرم اس گھناؤنے جرم کا مرتکب ہوا تھا۔ عدالت نے پاکستانی شہری کے فعل کی مذمت کرتے ہوئے اُسے ایک سال اور آٹھ ماہ کی زیرنگرانی قید کا حکم سنایا۔یہ امر اہم ہے کہ گزشتہ برس ستمبر میں متاثرہ لڑکی کے عراقی والد کو اُس وقت پولیس نے ہلاک کر دیا تھا، جب وہ چاقو سے اُس پاکستانی پر حملہ آور ہوا تھا، جس نے اُس کی بیٹی کے ساتھ زیادتی کرنے کی کوشش کی تھی۔ پولیس کی فائرنگ سے زخمی ہونے والا یہ عراقی کئی روز تک ہسپتال میں زخمی رہنے کے بعد چل بسا تھا