’اتنے عرصے بعد دنیا میں ایک بھی انسان باقی نہ رہے گا‘ سائنسدانوں نے سب سے تشویشناک اعلان کردیا، انسانوں کے خاتمے کا وقت بتادیا

واشنگٹن (نیوز ڈیسک)مصنوعی ذہانت کی حیرت انگیز ترقی کے باعث نسل انسانی کو لاحق ہونے والے خطرے کی بات تو ایک عرصے سے کی جارہی تھی لیکن اب سائنسدانوں نے یہ خوفناک دعوٰی بھی کر دیا ہے کہ مشینوں کی ذہانت عنقریب انسانوں کی موت بننے والی ہے۔ ویب سائٹ INDY100 کی رپورٹ کے مطابق مصنوعی ذہانت کے موضوع پر وسیع تحقیق کا تجربہ رکھنے والے ماہر جیف نسبٹ کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت جس رفتار سے ترقی کررہی ہے اس حساب سے نسل انسانی 2050ء تک اس دنیا سے مٹ چکی ہوگی۔ جیف نے ایک نئی تھیوری ASI (آرٹی فیشل سپر انٹیلی جنس) کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ عنقریب مصنوعی ذہانت کے حامل سپر کمپیوٹر اس قدر طاقتور ہوجائیں گے کہ انسانی ذہانت ان کے سامنے بے بس ہوگی۔ مصنوعی ذہانت سے لیس روبوٹ انسانوں کو کیڑیوں کی طرح مسل دینے میں دیر نہیں لگائیں گے۔
خطرے سے خبردار کرنے والے ماہرین کہتے ہیں کہ آنے والی چند دہائیوں میں بنی نوع انسان کیلئے اگر کوئی سب سے بڑا خطرہ ہے تو وہ مصنوعی ذہانت ہے۔ اس ضمن میں عالمی شہرت یافتہ ریاضی دان پروفیسر سٹیفن ہاکنگ کی وارننگ بھی قابل ذکر ہے۔ا ن کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کا استعمال کرتے ہوئے ایسے ہتھیار بنائے جائیں گے جو ٹارگٹ کلنگ، ممالک کو عدم استحکام کا شکار کرنے، اور انسانی آبادی کے قتل عام جیسے جرائم کیلئے استعمال ہوں گے۔ جنگ کے میدان میں مصنوعی ذہانت کا قدم رکھنا ہماری موت کے پروانے پر دستخط جیسا ہوگا۔ مصنوعی ذہانت کی مکمل ترقی نسل انسانی کے مکمل خاتمے کے مترادف ہوگی۔دوسری جانب کچھ ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ جب ایک مشین ذہانت میں ہم سے آگے بڑھ جائے گی تو ہم تصور نہیں کرسکتے کہ اس کا رویہ ہمارے ساتھ کیا ہوگا۔ کیا یہ ہماری مدد کرے گی، ہمیں نظر انداز کردے گی یا پھر ہمیں تباہ کردے گی؟ ابھی ہمارے لئے فیصلہ کن طور پر کچھ کہنا ممکن نہیں ہے۔