’میری ماں نے ہمسایوں سے ادھار لے کر مجھے نوکری کیلئے یہاں دبئی خالہ کے پاس بھیجا، لیکن جیسے ہی یہاں آئی میری خالہ نے۔۔۔‘دبئی میں فلیٹ پر پولیس کا چھاپہ، اندر موجود نوجوان لڑکی نے ایسی بات کہہ دی کہ پولیس والوں کی آنکھوں میں بھی آنسو آگئے، رنگے ہاتھوں پکڑے جانے کے باوجود فوری رہا کردیا

دبئی سٹی (مانیٹرنگ ڈیسک)مال و دولت کی حرص انسان کو ایک ایسے درندے میں بدل دیتی ہے جس کیلئے اخلاقیات بے معنی ہوجاتی ہے اور عزیز ترین رشتوں کا بھی کوئی پاس لحاظ نہیں رہتا۔ اپنی نوعمر بھانجی کودبئی بلوا کر اس سے جسم فروشی کروانے والی بنگلہ دیشی خاتون بھی ایسی ہی شرمناک مثال ہے۔ گلف نیوز کی رپورٹ کے مطابق 15 سالہ بنگلہ دیشی لڑکی کا والد بیمار پڑگیا تو اس کی والدہ نے دبئی میں اپنی بہن سے رابطہ کیا تاکہ وہ اس کی بیٹی کو گھریلو ملازمہ کے طور پر دبئی لے جائے۔ دبئی میں مقیم بہن نے لڑکی کی دستاویزات بنوانے کے لئے بھاری رقم مانگی، جو لڑکی کی والدہ نے ہمسایوں سے ادھار لے کر اسے دبئی بھجوائی۔ دبئی والی بہن نے لڑکی کی اصلی کی بجائے جعلی دستاویزات بنوائیں اور پہلے اسے عمان پہنچایا اور پھر وہاں سے دبئی لائی۔ اس نے لڑکی کو ایک فلیٹ میں رکھا جہاں تین دیگر خواتین کو بھی جسم فروشی کے لئے ٹھہرایا گیا تھا۔ اس نے نوعمر بھانجی کو بھی تشدد کرکے اور ڈرا دھمکا کر جسم فروشی پر لگا دیا۔گزشتہ کچھ عرصے کے دوران لڑکی کو کئی مختلف مقامات پر رکھا گیا جہاں درجنوں افراد نے اس کی عصمت دری کی۔ پولیس کو جب اس معاملے کی خبر ہوئی تو فریج المرار کے علاقے میں واقع فلیٹ پر چھاپہ مار کر نوعمر لڑکی اور اس کے ساتھ مقیم تین دیگر خواتین کو بازیاب کروالیا گیا۔ ان میں سے دو خواتین کا تعلق بنگلہ دیش سے اور ایک کا انڈونیشیاءسے ہے۔ ان سب سے جسم فروشی کروائی جارہی تھی۔ پولیس نے مرکزی ملزمہ اور اس کے دو مرد ساتھیوں کو گرفتار کرلیا ہے اور عدالت میں ان کے خلاف مقدمہ چلایا جارہا ہے۔