شرمین عبید چنائے کی بہن کو فرینڈ ریکوئسٹ بھیجنا ہراسگی کے زمرے میں آتا ہے؟ قانونی ماہرین نے ایسی بات کہہ دی کہ پاکستانی حیران پریشان رہ گئے

اسلام آباد (ڈیلی خبر) آسکر ایوارڈ یافتہ فلم میکر شرمین عبید چنائے ان دنوں اپنی بہن کو فرینڈ ریکوئسٹ بھیجنے والے ڈاکٹر کے خلاف ٹویٹس میں ہراسگی کا الزام عائد کرکے شدید تنقید کی زد میں آئی ہوئی ہیں ۔سوشل میڈیا پر یہ بحث عروج پر پہنچی ہوئی ہے کہ کیا کسی کو فرینڈ ریکوئسٹ بھیجنا ہراسگی کے زمرے میں آتا ہے یا نہیں ؟ اس حوالے سے قانونی و سماجی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی کو فرینڈ ریکوئسٹ بھیجنا کسی بھی طور ہراسگی کے زمرے میں نہیں آتا۔

نجی ٹی وی جیو نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ڈی جی ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ کیپٹن شعیب نے شرمین عبید چنائے کی طرف سے ڈاکٹر پرہراسگی کا الزام عائد کیے جانے کے معاملے پر کہا کہ فیس بک پر جعلی آئی ڈیز بنا کر تصاویر یا ویڈیوز وغیرہ لگائی جاتی ہیں جو ہراسگی کے زمرے میں آتا ہے اسی طرح کسی شخص کی شناخت استعمال کرنا بھی جرم ہے لیکن کسی صورت بھی یہ نہیں کہہ سکتے کہ کسی کو فیس بک پر فرینڈ ریکوئسٹ بھیجنا ہراسمنٹ کے زمرے میں آئے گا۔سماجی تنظیم مہر گڑھ کی ایگزیکٹو ڈائرکٹر ملیحہ حسین نے کہا کہ ڈاکٹر کا اپنے مریض کو فرینڈ ریکوئسٹ بھیجنا غیر اخلاقی ہو سکتا ہے لیکن یہ ہراسمنٹ نہیں ہے ۔ چونکہ شرمین عبید چنائے کی بہن کا پبلک اکاﺅنٹ ہے تو انہیں کوئی بھی فرینڈ ریکوئسٹ بھیج سکتا ہے، اگر ایک دفعہ ریکوئسٹ بھیجی گئی ہے تو اسے بلاک کیا جاسکتا ہے لیکن اگر اس کے باوجود بار بار رابطہ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے تو یہ ہراسگی کے زمرے میں آئے گا۔انہوں نے شرمین عبید چنائے کے ٹویٹ کرنے کے عمل کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ اگر آپ کو کوئی مسئلہ ہوا ہے تو اس کیلئے صحیح فورم پر رجوع کرنا چاہیے لیکن ٹویٹ کرکے آپ ایسے لوگوں کو بھی بحث میں شامل کرلیتے ہیں جن کا اس معاملے سے کوئی لینا دینا نہیں ہے، پبلک فورم پر اس طرح کی بات نہیں کرنی چاہیے بلکہ اگر ڈاکٹر کی طرف سے ہراسگی کا معاملہ درپیش تھا تو اس کیلئے ہسپتال کی متعلقہ کمیٹی سے شکایت کی جانی چاہیے تھی۔