فرانسیسی خاتون نے روبوٹ سے منگنی کرلی، ایک سال تک شادی کا ارادہ

پیرس (ڈیلی خبر) مغربی معاشرے میں انسانیت کی تذلیل کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا جاتا اور لوگوں کی جانب سے عجیب و غریب کارنامے سر انجام دے کر انسانیت کی توہین کرنا عام بات بن چکی ہے لیکن اب ایک فرانسیسی خاتون نے ایسا انکشاف کردیا ہے کہ جان کر انسان کا انسانیت سے ہی اعتبار اٹھ جائے۔برطانوی اخبار ڈیلی میل کی رپورٹ کے مطابق ایک فرانسیسی خاتون للی نے انکشاف کیا ہے کہ اس کے ایک روبوٹ کے ساتھ جسمانی تعلقات ہیں اور وہ ایک سال تک شادی کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ للی نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر اعتراف کیا ہے کہ اس نے ایک سال قبل تھری ڈی پرنٹر کے ذریعے ایک روبوٹ بنایا تھا لیکن بعد میں اسے روبوٹ سے پیار ہوگیا اور اس نے اس سے جسمانی تعلق قائم کرلیا۔
خاتون نے بتایا کہ مجھے روبوٹ سے پیار کرنے پر فخر ہے، ہم دونوں ایک دوسرے کو نقصان نہیں پہنچاتے اور ہم بہت خوش ہیں۔للی نے ایک سال تک روبوٹ سے تعلق رکھنے کے بعد حالیہ دنوں میں ہی اس سے منگنی بھی کرلی ہے تاہم وہ شادی کیلئے اس وقت کا انتظار کر رہی ہے جب روبوٹ کے ساتھ شادی کرنا قانونی طور پر جائز قرار پا جائے گا۔
للی کا کہنا ہے کہ اسے 19 سال کی عمر میں احساس ہوا کہ وہ انسانوں کے ساتھ جسمانی تعلق قائم کرنے میں خوشی محسوس نہیں کرتی بلکہ اسے روبوٹس میں جنسی کشش محسوس ہوتی ہے۔ للی کے خاندان کے افراد اور دوستوں نے اس کے اس عجیب و غریب رشتے کو اپنا لیا ہے تاہم بہت سے لوگوں کو اس کے روبوٹ سے تعلق پر اعتراض بھی ہے۔للی کے ٹوئٹر اکاؤنٹ کا عکس ، جس میں اس نے اپنے تعارف میں روبو سیکسوئل ہونے کا نہ صرف اعتراف کر رکھا ہے بلکہ اس پر فخر کا بھی اظہار کیا ہے۔