’اچانک میرے بال گرنے لگے اور پاﺅں سُن رہنے لگے تو سوچا یہ زیادہ چلنے کی وجہ سے ہے لیکن پھر ڈاکٹر نے معائنہ کیا تو کہنے لگا۔۔۔‘ بظاہر صحت مند نظر آنے والی نوجوان لڑکی نے ان علامات کے پیچھے چھپی، وہ خطرناک ترین بیماری بتادی جس کا شکار اکثر پاکستانی ہیں لیکن انہیں اس کا علم نہیں

کنبرا(مانیٹرنگ ڈیسک) آسٹریلیا کی ایک لڑکی چین اور نیپال کی سیاحت کے لیے نکلی تو اس سیاحتی دورے کے دوران اس کے پاﺅں سُن رہنے لگے اور بال بھی گرنے لگے۔ اس نے سوچا کہ شایدوہ بہت زیادہ چلتی ہے، پہاڑوں پر چڑھتی ہے اور سمندر میں نہاتی ہے جس کی وجہ سے یہ دونوں چیزیں ہو رہی ہے۔ کئی ماہ بعد واپس آسٹریلیا پہنچ کر جب وہ ڈاکٹر کے پاس گئی تو اس نے ایسی خطرناک بیماری بتا دی کہ لڑکی کے پیروں تلے زمین نکل گئی۔ میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق 30سالہ پنک او سلیوان نامی یہ لڑکی روزانہ 8سے 9گھنٹے چلتی تھی۔ چنانچہ وہ سمجھتی رہی کہ اس کے پاﺅں زیادہ چلنے کی وجہ سے سُن ہوتے ہیں لیکن جب وہ ڈاکٹر کے پاس گئی تو اس نے اسے بتایا کہ ’تمہیں شوگر لاحق ہو چکی ہے اور اپنی سیاحت کے دوران جس قدر تم چلتی رہی ہوں اور پہاڑوں پر چڑھنے جیسے مشقتی کام کرتی رہی ہو، خدشہ تھا کہ کسی بھی وقت تمہاری موت واقع ہو جاتی۔‘پنک او سلیوان کا کہنا تھا کہ ”سیاحت کے دوران بال گرنے اور پاﺅں سُن ہونے کے ساتھ ساتھ اسے بہت زیادہ بھوک اور پیاس لگتی تھی ، وہ روزانہ 12لیٹر تک پانی پیتی تھی اور اسے پسینہ بھی بہت زیادہ آتا تھا۔ میں نے تمام عمر صحت بخش خوراک کھائی اور باقاعدگی سے ورزش کرتی رہی ہوں۔ میں اپنے خاندان میں سب سے زیادہ صحت مند ہوں۔ جب ڈاکٹر نے مجھے شوگر کا بتایا تو مجھے یقین ہی نہیں آیا۔ اب میں نے مناسب علاج اور ورزش کے ذریعے اپنی شوگر پر کافی حد تک قابو پا لیا ہے۔ اب میرے پاﺅں بھی اتنے سُن نہیں ہوتے اور دیگر علامات بھی کم ہو گئی ہیں۔“