’حمل کے دوران جو خواتین یہ چیز کھاتی ہیں اُن کے بچے کم عقلمند ہوتے ہیں‘ سائنسدانوں نے شادی شدہ جوڑوں کو خبردار کردیا

ہیلنسکی(نیوز ڈیسک)حاملہ خواتین کو عموماً ہر قسم کے میٹھے کے زیادہ استعمال سے پرہیز کی ہدایت کی جاتی ہے لیکن سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ خاص طور پر لکریش( ملٹھی کی جڑ سے حاصل ہونے والا میٹھا اور اس سے تیار کی جانے والی گولیاں، ٹافیاں ) سے پرہیز بہت ضروری ہے کیونکہ یہ بچے کی یادداشت کو متاثر کرسکتاہے، اسے کند ذہن بنا سکتا ہے اور حتیٰ کہ کئی طرح کے نفسیاتی مسائل کا باعث بھی بن سکتا ہے۔ ڈیلی میل کی رپورٹ کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ لکریش میں گلائساریزائن نامی کیمیکل پایا جاتا ہے جو حاملہ خواتین اور ان کے بچوں کے لئے منفی اثرات کا حامل ہے۔ فن لینڈ کے سائنسدانوں نے اس سٹڈی کے لئے 378 نوجوانوں پر تحقیق کی جن میں سے کچھ کی پیدائش سے قبل ان کی مائیں باقاعدگی کے ساتھ لکریش استعمال کرتی رہی تھیں جبکہ دیگر اس سے مکمل طور پر پرہیز کرتی رہی تھیں۔ سائنسدانوں نے ان نوجوانون کے ذہانت اور یادداشت کے مختلف ٹیسٹ لئے تو پتہ چلا کہ جن کی مائیں حمل کے دوران لکریش کا زیادہ استعمال کرتی رہی تھیں وہ یادداشت اور ذہانت میں واضح طور پر پیچھے تھے۔سائنسی جریدے امریکن جرنل آف ایپی ڈیمیالوجی میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق لکریش بچوں کی ذہانت و یادداشت کو متاثر کرنے کے علاوہ سٹریس ہارمون کورٹیسول کی مقدار میں بھی اضافہ کردیتی ہے جس کے باعث بچوں میں نفسیاتی مسائل پید اہوتے ہیں۔ جو خواتین دوران حمل لکریش کا زیادہ استعمال کرتی ہیں ان کے ہاں پیدا ہونے والی بیٹیوں کو خصوصی طور پر زیادہ مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان میں قبل از بلوغت، بریسٹ کینسر، ذیا بیطس اور دل کی بیماری کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔