پیٹ کو پہلے پتا چل جاتاہے کہ کیا ہونے والا ہے ،مگر کیسے ؟سائنسدانوں نے بہت بڑی بات کا پتا لگا لیا

لندن (نیوز ڈیسک)ہماری آنتوں میں پائے جانے والے جراثیموں کا تعلق ہماری عمومی صحت سے تو ہوتا ہی ہے لیکن سائنسدانوں نے یہ انکشاف کر کے دنیا کو حیران کر دیا ہے کہ ان جراثیموں کا ہمارے جذبات ، محسوسات اور عمومی ذہنی صحت سے بھی گہرا تعلق ہے۔ میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق یہ تحقیق یو سی ایل اے کے سائنسدانوں نے کی ہے جس کیلئے چالیس خواتین کو تجربات کا حصہ بنایا گیا۔ ان خواتین کو آنتوں میںپائے جانے والے جراثیموں کے لحاظ سے دو گروپوں میں تقسیم کیا گیا اور انہیں کچھ تصاویر دکھا کر ان کے جذباتی رد عمل کا مشاہدہ کیا گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آنتوں کے مختلف قسم کے جراثیموں کے حامل افراد کی جذباتی رد عمل بھی مختلف ہوتے ہیں۔ تحقیق میں شریک خواتین کے ایک گروپ کی آنتوں میں ’بیکٹیرائڈز‘ نامی بیکٹیریا کی کثرت تھی جبکہ دوسرے گروپ کی آنتوں میں ’پریوٹیلا‘ نامی بیکٹیریا زیادہ تعداد میں تھے۔ جن خواتین میں بیکٹیرائڈز کی کثرت تھی ان کے دماغ میں خاکستری مادے کی مقدار بھی زیادہ تھی جبکہ دماغ کے حصے ہپو کیمپس میں بھی مادے کی تعداد زیادہ تھی۔ دماغ کے یہ حصے معلومات کا تجزیہ کرنے اور یادداشت کیلئے استعمال ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس جن خواتین کے جسم میں پریوٹیلا بیکٹیریا کی مقدار زیادہ تھی ان کے دماغ میں خاکستری مادے کی کثافت کم تھی لیکن دماغ کے مختلف حصو ں کے درمیان روابط کی تعداد زیادہ تھی، جس کی وجہ سے یہ زیادہ جذباتی اور حساس تھیں۔ ڈاکٹر کرسٹن ٹلش کی قیادت میں کی جانیوالی اس تحقیق میں پہلی بار یہ بات واضح طور پر سامنے آئی ہے کہ انسان کی نفسیاتی کیفیات اور حتیٰ کہ نفسیاتی عارضوں کا تعلق بھی اس کے پیٹ میں پائے جانے والے بیکٹیریا سے ہو سکتا ہے ۔