حاملہ خواتین کے ہاں بچوں کی قبل از وقت پیدائش کے مسئلے کا سائنسدانوں نے ناقابل یقین حد تک آسان علاج دریافت کرلیا، بس یہ ایک کام کریں اور ایسا ہونے کا کوئی امکان نہ رہے گا

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) دنیا میں خواتین کے ہاں بچوں کے قبل ازوقت پیدا ہونے کی شرح بہت زیادہ ہے۔ صرف برطانیہ میں ہی سالانہ 60ہزار بچے وقت سے پہلے پیدا ہوتے ہیں۔ اس بڑی تعداد سے پاکستان جیسے پسماندہ ملک میں اس کی شرح کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔تاہم اب سائنسدانوں نے اس مشکل کا حل تلاش کر لیا ہے۔ میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق سائنسدانوں نے ایک ایسا پروٹین دریافت کر لیا ہے جو بچوں کی قبل ازوقت پیدائش کا تدارک کر سکتا ہے۔ سائنسدانوں کے مطابق ایک طرح کی انفیکشن کے نتیجے میں خواتین کا مدافعتی نظام بچے کی قبل از وقت پیدائش کا باعث بنتا ہے جبکہ اس نئے دریافت ہونے والے پروٹین کا انجکشن مدافعتی نظام کو اس کام سے روک سکتا ہے۔رپورٹ کے مطابق ماہرین کی طرف سے اس دریافت کو اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سے قبل ازوقت پیدائش کی شرح میں ایک تہائی کمی لائی جا سکتی ہے۔ماہرین کے مطابق قبل از وقت پیدائش 5سال تک کی عمرکے بچوں میں موت کا سب سے بڑا محرک ہے اور جو ابتدائی پانچ سالوں میں بچ جائیں انہیں اس کی وجہ سے تمام عمر صحت کے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔پروٹین دریافت کرنے والی سائنسدانوں کی ٹیم کے سربراہ اور مشی گن کی وینی سٹیٹ یونیورسٹی کے پروفیسر کنگ چن کا کہنا تھا کہ ”نیا دریافت ہونے والا پروٹین رحمِ مادر میں ہی پایا جاتا ہے۔اس سے قبل ہم نہیں جاتے تھے کہ رحم میں پائے جانے والے یہ خلیے حمل میں کیا کردار ادا کرتے ہیں۔ فی الحقیقت ہمیں یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ یہ خلیے رحم میں پائے جاتے ہیں۔اب ہم جانتے ہیں کہ اس پروٹین کے خلیے صحت مندانہ حمل کا باعث بنتے ہیں اور حمل میں پیچیدگی کا شکار خواتین میں انجکشن کے ذریعے یہ خلیے داخل کرکے ان میں بچے کی قبل ازوقت پیدائش کو روکا جاسکتا ہے۔“واضح رہے کہ سائنسدان اس پروٹین کے حاملہ خواتین پر تجربات کر رہے ہیں۔