بلند فشار خون سے نجات کے 6 قدرتی طریقے !

اسلام آباد(ویب ڈیسک) بلند فشار خون کو آج کے دور میں صحت کے سب سے زیادہ پھیلے ہوئے مسائل میں شمار کیا جاتا ہے۔ عمر کے مختلف طبقوں سے تعلق رکھنے خواتین و حضرات اس میں مبتلا ہیں اور اب یہ مرض ماضی کی طرح صرف بڑی عمر کے لوگوں تک محدود نہیں۔ ہم نوجوانوں کو بھی بلند فشار خون سےمتاثر دیکھتے ہیں۔ یہ نوجوان دیگر عام امراض مثلا سردرد، چکر، سانس میں دقت، نظر کا مسئلہ وغیرہ ان میں سے کوئی شکایت لے کر ڈاکٹر سے رجوع کرتے ہیں تو اچانک ان پر بلند فشار خون میں مبتلا ہونے

کا انکشاف ہوتا ہے۔ایسی صورت میں فشار خون میں اضافے کی وجہ جاننا چاہیے۔ اس کو نظرانداز کرنے کا نتیجہ دل کے دورے، نظر یا سماعت کی خرابی، گردے متاثر ہونے اور صحت کے دیگر مسائل کی شکل میں سامنے آسکتا ہے۔ اسی لیے بلند فشار خون کو اس کے شدید خطرے کے سبب “خاموش قاتل” کا نام دیا جاتا ہے۔عموما کسی شخص کے بلند فشار خون میں مبتلا ہونے کے پیچھے بہت سے عوامل ہوتے ہیں۔ ان میں کھانوں میں نمک کی زیادہ مقدار، ڈبوں میں بند غذائیں، میٹھی اور چکنی غذائیں، چربی سے بھرپور غذاؤں کے نتیجے میں خون میں نقصان دہ کولسٹرول کی سطح میں اضافہ، چلنے پھرنے کی کمی، ورزش کا نہ کرنا، شریانوں کا تنگ ہوجانا، منفی اثرات کی حامل بعض طبی دواؤں کا استعمال، گردے کی خرابی وغیرہ شامل ہیں۔طبی ویب سائٹ”Health Mind Bodies” کے مطابق بلند فشار خون کے مریض کو اپنا زندگی گزارنے کا طریقہ یکسر تبدیل کردینا چاہیے تاکہ اسے علاج میں دواؤں اور کیمیائی مواد کا سہارا نہ لینا پڑے۔ زندگی کے اسلوب کی تبدیلی اسے دواؤں سے نجات دلا سکتی ہے۔ویب سائٹ کی رپورٹ میں بلند فشار خون سے نجات حاصلکرنے کے لیے 6 قدرتی طریقوں کا ذکر کیا گیا ہے :بلند فشار خون اور وزن کی زیادتی کے درمیان قریبی تعلق ہے۔ وزن کی زیادتی سونے کے دوران سانس رکنے (خرّاٹوں) کی بنیادی وجہ ہے اور وزن بڑھنے سے بلند فشار کا مسئلہ بھی پیدا ہوتا ہے۔اگر آپ وزن کی زیادتی اور بلند فشار خون کا شکار ہیں تو آپ کو فوری طور پر غذائی پرہیز شروع کر دینا چاہیے تاکہ وزن کے زائد کلو گراموں سے چھٹکارا حاصل کر سکیں۔طبی تحقیقات سے ثابت ہوچکا ہے کہ انسانی کمر کا بلند فشار خون میں مبتلا ہونے کے ساتھ گہرا تعلق ہے۔ مردوں میں اگر کمر کی پیمائش 102 سینٹی میٹر (40 انچ) اور خواتین میں 89 سینٹی میٹر (35) انچ سے زیادہ ہوجائے تو ایسے لوگ بلند فشار خون میں مبتلا ہونے کے خطرے سے دوچار ہوتے ہیں۔ باقاعدہ صورت میں ورزش کرنا (ان میں آسان ترین روزانہ پیدل چلنا یا تیراکی ہے) فشار خون کو نارمل اور قدرتی سطح پر برقرار رکھنے میں انتہائی مدد گار ثابت ہوتا ہے۔ ڈاکٹروں کی ہدایت کے مطابق اچھی صحت کے لیے ہفتے میں پانچ دن روزانہ تیس منٹ ورزش ضرور کرنا چاہیے۔ بلند فشار خون کے مریض کو کھانے میں نمک کی مقدار کم کر دینا چاہیے۔ اس کے علاوہ اسے ڈبوں میں بند اور محفوظ غذاؤں سے بھی اجتناب کرنا ضروری ہے۔ اس لیے کہ یہ اشیاء سوڈیم کی کثیر مقدار پر مشتمل ہوتی ہیں جو بلند فشار خون کی بنیادی وجہ شمار کی جاتی ہے۔ یاد رکھیے سبزیوں،پھلوں، بغیر چھنے آٹے اور دودھ کی کم چکنائی والی مصنوعات پر مشتمل غذاؤں کے نظام کو اپنانا، بلند فشار خون پر قابو کرنے کا اہم راز ہے۔ یقینا کھانے پینے کی عادتوں کو تبدیل کرنا آسان کام نہیں۔ اس لیے جو غذائیں آپ کو کھانی ہیں ان کی ایک فہرست تیار کرنا فائدہ مند ہے، تاکہ آپ کھانے کی مقدار کو کنٹرول کرسکیں اوران نقصان دہ اشیاء سے رک سکیں جو آپ کے بلند فشار خون کے مسئلے میں اضافہ کر سکتی ہیں۔ پوٹیشیئم کی زیادہ مقدار رکھنے والی غذاؤں کے استعمال میں اضافہ کردیں جو انسانی جسم سے سوڈیئم کی زائد مقدار ختم کرنے میں مدد کرتی ہیں۔ پوٹیشیئم سے بھرپور غذاؤں میں کیلا، کھجور، مگرناشپاتی، خوبانی، گاجر، لوبیا اور ڈارک چاکلیٹ وغیرہ شامل ہیں۔