پاکستان دنیا بھر میں بیماریوں کا سب سے زیادہ بوجھ برداشت کرنے والا ملک بن گیا

فیصل آباد(ڈیلی خبر) پاکستان دنیا بھر میں بیماریوں کا سب سے زیادہ بوجھ برداشت کرنے والا ملک بن چکا ہے یہی وجہ ہے کہ دو کروڑ سے زائد انسان ہیپاٹائٹس بی یا سی کا شکار ہوکر تیزی سے موت کے منہ میں جا رہے ہیں ،پنجاب میں واٹر و سینی ٹیشن کے حوالے سے فیصل آباد ا ور سیالکوٹ صوبے کے خطرناک اضلاع میں شامل ہوچکے ہیں جبکہ غیرمتحرک طرز زندگی ‘نامناسب خوراک اور موٹاپے سے بیماریوں کے ساتھ ساتھ شرح اموات میں بھی غیرمعمولی ا ضافہ ہو رہا ہے ۔ امراض قلب اور کینسر جیسے بڑے امراض سے صرف افراد زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں جبکہ وائرس سے پھیلنے والے امراض سے قومیں صفحہ ہستی سے مٹ جاتی ہیں لہٰذا اس سے بچاؤ کیلئے آگہی مہم اتنی ہی توانائی سے آگے بڑھانے کی ضرور ت ہے جتنی ڈینگی یا دوسرے امراض کے خلاف بروئے کار لائی جا رہی ہے۔ آن لائن کے مطابق ان خیالات کا طبی ماہر ین نے فیصل آباد میں جراثیمی بیماریوں کے تجزیہ میں جدید رجحانات پر منعقدہ تین روزہ تربیتی ورکشاپ کے دوران خطاب کرتے کیا ،۔ ورکشاپ سے ،معروف معالج اور پنجاب میڈیکل کالج کے سابق پرنسپل ڈاکٹر زاہد یاسین ہاشمی ، یونیورسٹی کے وائس چانسلرپروفیسرڈاکٹر اقراراحمد خاں،پروفیسرڈاکٹر عامر جمیل پروفیسرڈاکٹر عبدالحق‘ روبینہ قاضی‘ ڈاکٹر خلیل الرحمن و دیگر نے بھی خطاب کیا۔ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں غذائی اجناس کے وافر ذخائر کے باوجود 30فیصد آبادی بھوک‘ غذائی کمی یا بیماریوں کا شکار ہے۔ انہوں نے ہیومن ڈویلپمنٹ انڈیکس کے حوالے سے پنجاب حکومت کی تحقیقی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے انکشاف کیا کہ واٹر و سینی ٹیشن کے حوالے سے فیصل آباد ا ور سیالکوٹ صوبے کے خطرناک اضلاع میں شامل ہوچکے ہیں لہٰذا اس میں بہتری کیلئے غیرمعمولی اقدامات کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ واٹر و سینی ٹیشن کی ناکافی سہولیات کی وجہ سے متعدد دیہاتوں کی 100فیصد آبادی متاثر ہوچکی ہے جبکہ الیکٹرک موٹروں کے ساتھ زیرزمین پانی کی پمپنگ سے سینکھیاکی بڑی مقدار انسانی جسم کا حصہ بن رہی ہے۔ماہرین نے کہا کہ ملک میں واٹر و سینی ٹیشن کی ناکافی سہولیات ‘ایک ہی سرنج سے کئی افراد کو ٹیکہ لگانے‘ ناک و کان چھدوانے میں لاپرواہی‘ ایک ہی اُستر ے سے کئی افراد کی شیو کروانے یا کمیونٹی کی سطح پر ایک ہی مسواک کا استعمال اور دیہی سطح پر عمومی شراب نوشی کی وجہ سے جگر کے امراض میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے لہٰذا اس کا باعث بننے والے تمام عوامل کے حوالے سے عوامی سطح پر شعور اجاگر کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں فلو کی وجہ سے لاکھوں افراد زندگی کی بازی ہار گئے لہٰذا جراثیمی بیماریوں سے بچاؤ کیلئے حکومت کے ساتھ ساتھ سو ل سوسائٹی اور انفرادی سطح پر سنجیدہ کاوشیں کی جانی چاہئیں۔ انہوں نے بتایا کہ جگر کے بڑھنے سے مختلف بیماریاں اور عوارض جڑپکڑتے ہیں لہٰذا اس سے بچاؤ کیلئے صحت مند انسان کو ہر تین سال بعد مکمل ٹیسٹ کروانے چاہئیں۔ انہوں نے ہیپاٹائٹس سے متاثرہ ماں سے پیدا ہونے والے بچے یا میاں بیوی میں اس کے انتقال کے امکان کو رد کرتے ہوئے بتایا کہ ملک میں ہیپاٹائٹس کے ساتھ شوگر اور بلڈ پریشر جیسے امراض کا ہونا عمومی بات ہے۔