47 کھرب 50 ارب روپے کا وفاقی بجٹ پیش،،دفاعی بجٹ میں 89ارب کا اضافہ ،موبائل فونز ،پولٹری ،گاڑیاں سستی ،سگریٹ،پان ،چھالیہ ،کپڑے، سیمنٹ،سٹیل سیکڑمہنگا ،تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ

اسلام آباد (ڈیلی خبر) وفاقی حکومت نے مالی سال 2017-18 کا 47 کھرب اور 78 ارب روپے حجم کا بجٹ پیش کر دیا ہے جس کے تحت سرکاری ملازمین ایڈہاک الاﺅنس ضم ، سرکاری ملازمین کی تنخواہ اور پنشن میں 10 فیصداضافہ جبکہ محنت کش کی کم سے کم اجرت 14ہزار سے بڑھا کر 15ہزار روپے کردی گئی۔اسحاق ڈار کا کہناتھا کہ حکومت نے ملک کو خود انحصاری پر گامزن کر دیا، قوم متاثر کن تبدیلی پر مبارکبادکی مستحق ہے۔پاک فوج کے افسروں اور جوانوں کےلئے 10فیصد سپیشل الاﺅنس کی فراہمی ، چھوٹے کسانوں کو کم شرح سو د پر قرضوں کی فراہمی، امونیا کھاد کی قیمت میں کمی کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں سیمنٹ، سریا، درآمدی کپڑے، سگریٹ، پان، چھالیہ، چاکلیٹ، کاسٹمیٹکس، الیکٹرانکس اور دوائیں بھی مہنگی ہو گئیں۔ چھوٹی گاڑیاں ، سمارٹ فونز، فون کال ، مرغی، شترمرغ، ٹیکسٹائل، امونیا کھاد، زرعی مشینری، بے بی ڈائپرز، ہائبریڈ کا ر، لبریکٹینگ آئل او ر ٹیوب ویل کیلئے بجلی سستی، 85ہزارروپے سے زائد ماہانہ تنخواہ لینے والوںکو ایڈوانس ٹیکس دیناہوگا ۔تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے بجٹ تقریر کرتے ہوئے کہا کہ میں آج اللہ کے فضل و کرم کیساتھ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت کا مسلسل پانچواں بجٹ پیش کر رہا ہوں۔ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک منتخب وزیراعظم اور وزیر خزانہ مسلسل پانچواں بجٹ پیش کر رہے ہیں۔ یہ چیز مضبوط جمہوریت کی عکاسی کرتی ہے جس پر پوری قوم فخر کر سکتی ہے۔ میں بڑی عاجزی کے ساتھ اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اس نے مجھ ناچیز کو یہ موقع دیا۔جناب سپیکر اگلے مالی سال کی بجٹ کی تفصیلات بتانے سے پہلے میں مختصر طو رپر پچھلے چار سال میں طے کئے گئے فاصلے کا احوال بتانا چاہتا ہوں۔ اگر میں کہوں کہ جون 2013ءمیں پاکستان اپنی مالی ادائیگیوں پر ڈیفالٹ کرنے کے قریب تھا تو یہ ایک حقیقت تھی۔ ہمارے زرمبادلہ کے ذخائر دو ہفتے کی برآمدات کے برابر اور تاریخ کی کم ترین سطح پر تھے۔ بڑی ادائیگیاں واجب الادا تھیں اور کمرشل بینک تو کیا ملٹی نیشنل بینک بھی پاکستان کے ساتھ کام کرنے سے گریزاں تھے۔ اس سال ایف بی آر کی ٹیکس وصولیوں میں اضافے کی شرح 3.38 فیصد تھی جبکہ اخراجات بہت زیادہ تھے۔ نتیجے میں فزیکل ڈیفیزیٹ 8 فیصد سے تجاوز کر چکا تھا۔ توانائی کا بحران حد سے زیادہ تھا، شہروں میں 12 سے 14 اور دیہات میں 16 سے 18 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ہوتی تھی۔ نوشتہ دیوار اس بات سے بالکل واضح تھا کہ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی معیشت کو متزلزل قرار دیا جا چکا تھا۔ آج پاکستان الحمد اللہ تیز تر ترقی کی راہ پر گامزن ہے اس سال ہماری جی ڈی پی میں اضافے کی شرح 5.3 فیصد ہے جو پچھلے 10 سال میں ترقی کی بلند ترین شرح ہے۔ زرمبادلہ کے ذخائر مناسب سطح پر ہیں جو 4 ماہ کی درآمدات کیلئے کافی ہیں۔گزشتہ چار سال کے دوران ٹیکس وصولیوں میں 81 فیصد اضافہ ہوا جو اوسطاً 20 فیصد سالانہ اضافہ ہے۔ 2013 سے اب تک پرائیویٹ سیکٹر کو قرضہ کی فراہمی میں 5 گنا سے زائد اضافہ ہوا اور فزیکل ڈیفیز یٹ آدھا رہ کر 4.2 فیصد ہو گیا۔ اس سال مشینری کی درآمد میں 40 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا، گیس کی فراہمی بہتر ہوئی اور صنعت کیلئے لوڈشیڈنگ مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے جبکہ تجارتی اور گھریلو صارفین کیلئے لوڈشیڈنگ میں واضح کمی آئی ہے، انشاءاللہ آنے والے سال میں لوڈشیڈنگ کا مکمل خاتمہ ہو گا۔جناب سپیکر نوشتہ دیوار آج بھی واضح ہے اور صرف پیغام تبدیل ہوا ہے، آج پرائس واٹر ہاﺅس کوپرز جیسے معتبر عالمی ادارے کہہ رے ہیں کہ پاکستان 2030ءتک دنیا کی 20 بڑی اقتصادی طاقتوں میں جی 20 میں شامل ہو جائے گا۔ پوری قوم اس متاثر کن تبدیلی کے کریڈٹ کی مستحق ہے اور میں اس ٹرن اراﺅنڈ پر اللہ کا بے پناہ مشکور ہوں جس کی مدد کے بغیر چار سال کے قلیل عرصہ میں یہ ناممکن تھا۔ جناب سپیکر میں اس معزز ایوان، وزیراعظم نواز شریف اور پوری قوم کو مبارکباد پیش کرتا ہوں کہ ایک طویل عرصے کے بعد اس سال حکومت پاکستان نے پہلی بار صرف قومی ترقیاتی کاموں کیلئے قرضے لئے۔ پہلے ہم ناصرف ترقیاتی ضروریات بلکہ غیر ترقیاتی اخرات کیلئے بھی قرض لیتے تھے اور یہ قرضے ہمیں معاشی تنزلی کی طرف جا رہے تھے جہاں ہمیں روزمرہ اخراجات پورے کرنے کیلئے ادھار لینا پڑتا تھا۔ ان قرضوں پر منافع کی ادائیگی کیلئے بجٹ کا کثیر حصہ خرچ کرنا پڑتا تھا۔یہ تبدیلی اچھے مالیاتی انتظام، محاصل بڑھانے پر مستقل توجہ اور غیر ترقیاتی اخراجات میں کمی کرنے سے حاصل ہوئی۔ یہ کوئی معمولی کامیابی نہیں۔ کسی بھی حکومت یا ادارے کیلئے ترقیاتی مقاصد کیلئے قرض لینے میں کوئی آڑ نہیں کیونکہ اس کے سماجی و معاشی فوائد اس پر دئیے جانے والے مارک اپ سے کہیں زیادہ ہوتے ہیں۔ پاکستان کی عوام اور ملک کے بنیادی ڈھانچے پر سرمایہ داری سے تیز تر اور پائیدار ترقی حاصل ہو گی۔ جناب سپیکر میں ایوان کو اس بات سے بھی آگاہ کرنا چاہتا ہوں کہ مسلم لیگ ن کے جنرل الیکشن 2013ءکے منشور کے مطابق پاکستان نے ستمبر 2016ءتک کا اصلاحاتی پروگرام کامیابی سے مکمل کر لیا ہے۔ اس دوران ملک میں انتہائی اہم اور مشکل سٹرکچر ریفارمز کو عملی جامہ پہنایا گیا۔ اس پروگرام کی تکمیل سے بین الاقوامی برادری کا ہمارے معاشی ایجنڈے پر اعتماد مضبوط ہوا۔ حکومت نے ملک کو خود انحصاری پر گامزن کر دیا ہے جس کا اعتراف عالمی برادری بھی کر رہی ہے اور جس کی عکاسی دنیا کی بڑی ریٹنگ ایجنسیز مثلاً فیچ، سٹینڈرڈ اینڈ پور اور موڈیز کی جانب سے پاکستان کی ریٹنگ بہتر کرنے سے بھی ہوتی ہے۔
پاکستانی معیشت کی 4 سالہ کارکردگی کا جائزہ
اب میں اس معزز ایوان کے سامنے پاکستانی معیشت کی چار سالہ کارکردگی جائزہ پیش کرتا ہوں۔ اس سال جی ڈی پی میں اضافے کی شرح 5.28 فیصد رہی جو 10 برسوں کی بلند ترین شرح ہے۔ چار سال پہلے معاشی ترقی کی شرح 3.68 فیصد تھی جبکہ رواں سال عالمی معیشت میں ساڑھے تین فیصد شرح سے اضافے کی توقع ہے۔ اس تناسب کا تکابلی جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان کی معاشی کارکردگی دنیا کے اکثر ممالک سے بہتر رہی۔ معاشی ترقی کی بلند شرح کے سبب پاکستان میں ہر لحاظ سے بہتری آئی۔ پہلی مرتبہ پاکستان کی معیشت کا حجم 300 ارب مریکی ڈالر سے تجاوز کر گیا ہے۔
الحمد اللہ زراعت کا شعبہ بہتری کی جانب گامزن ہے۔ حالیہ سال اس کی کارکردگی متاثر کن رہی، گزشتہ سال زرعی پیداوار میں کوئی قابل ذکر اضافہ نہیں ہوا تھا، اس کے مقابلے میں رواں سال ہونے والا 3.46 فیصد کا اضافہ حوصلہ افزاءہے۔ تمام بڑی فصلوں بشمول گندم، کپاس، گنا اور مکئی کی پیداوار میں واضح اضافہ ریکارڈ یاگیا۔ جمود کے شکار زرعی شعبے میں یہ
بہتری 2015ءمیں وزیراعظم نواز شریف کی جانب سے اعلان کردہ کسان پیکیج اور اس ایوان کے منظور کردہ بجٹ 2016-17ءمیں شامل غیر معمولی اقدامات کے باعث ہوئی۔ صنعتی سیکٹر میں 5.02 فیصد اضافہ ہوا اور کاروبار میں روزگار کے نئے مواقع میسر آئے۔ سروس سیکٹر میں 5.98 فیصد ترقی ہوئی جس میں بینکنگ، ریٹیل کمیونیکیشن، ٹرانسپورٹ اینڈ ہاﺅبنگ وغیرہ کے شعبہ جات شامل ہیں۔ پچھلے چار سالوں میں فی کس آمدنی 1334 ڈالر سے بڑھ کر 1629 ڈالر ہوئی، یعنی 22 فیصد کا اضافہ ہوا۔ جناب سپیکر 2008-13ءمیں افراط زر اوسطاً 12 فیصد رہا جبکہ رواں سال یہ شرح 4 فیصد متوقع ہے۔
مالی خسارہ
حکومت نے معیشت کے استحکام کیلئے مالی نظم و ضبط پر سختی سے عمل کیا جس کے نتیجے میں مالی سال 2012-13ءمیں ہونے والا 8.2 فیصد کا خسارہ کم ہو کر اس سال 4.2 فیصد رہ گیا ہے۔ ہم نے یہ کامیابی محصولات کی وصولی میں اضافے سے کی جس کی بنیاد انتظامی امور میں بہتری، براڈننگ آف ٹیکس سپیس اور کئی دہائیوں سے جاری مخصوص رعایتی ایس این آر او کے خاتمے سے تھی، اس کے علاوہ حکومت کے غیر ترقیاتی اخراجات میں بھی کمی کی گئی۔ ایف بی آر کے محاصل 2012-13ءمیں 1940 ارب روپے کے تھے جبکہ اس سال 3521 ارب روپے کا ٹارگٹ ہے اور اس طرح گزشتہ چار سال میں 81 فیصد ہوا جس کا مطلب ہے کہ اوسط 20 فیصد کا اضافہ ہوا، ٹیکس ٹو جی ڈی پی کا تناسب مالی سال 2012-13 میں 10.1 فیصد سے بڑھ کر 13.2 فیصد متوقع ہے۔ سٹیٹ بینک کا پالیسی ریٹ جون 2013ءمیں ساڑھے نو فیصد تھا، جو آج 45 سال کی کم ترین شرح 5.75 فیصد پر ہے۔ اسی طرح ایکسپورٹ ری فنانس کی سہولت کا ریٹ جون 2013ءمیں ساڑھے نو فیصد تھا اس کو جولائی 2016ءمیں 3 فیصد کیا جا چکا ہے اور اسی طرح لانگ ٹرم فنانس فیسیلٹی جس کا ریٹ 11.4 فیصد تھا، اسے کم کر کے تمام انڈسٹری کیلئے 6 فیصد اور ٹیکسٹائل کو ایکسپورٹ کے حوالے سے 5 فیصد کیا جا چکا ہے جس کے نتیجے میں نجی شعبے کو قرض کی فراہمی میںتیزی آئی اور حکومت کی یہ توجہ ہے کہ اس ریٹ کو اگلے سال جاری رکھا جائے۔ پالیسی ریٹ کم ہونے کی وجہ سے مئی 2017ءتک نجی شعبے کے قرضے کا حجم 507 ارب روپے ہے جبکہ 2012-13ءمیں یہ قرضہ صرف 93 ارب روپے تھا، اس کے نتیجے میں ملک میں کاروبار کو فروغ ملا۔ چار سال قبل زرعی قرضے کا حجم 336 ارب روپے تھا جو مالی سال 2016ءکے اختتام پر 600 ارب ہوا اور رواں سال اس کا ہدف 700 ارب مقرر ہے اور انشاءاللہ اسے حاصل کیا جائے گا۔ اس سال جولائی سے اپریل کے دوران درآمدات 37.8 ارب ڈالر ریکارڈکی گئیں جن میں گزشتہ سال کی اس مدت کے مقابلے میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ درآمدات میں غیر معمولی اضافہ مشینری کی درآمد میں تقریباً 40 فیصد تک اضافہ، صنعتی خام مال، پیٹرولیم مصنوعات کی بین الاقوامی قیمت میں اضافے، اور اس کے علاوہ توانائی اور انفراسٹرکچر سے متعلق سی پیک منصوبوں میں ہونے والی سرمایہ کاری کے نتیجے میں ہوا۔ مستقبل قریب میں یہ سب پاکستان کی معیشت کی بہتری کا عندیہ دیتی ہے۔ جناب سپیکر رواں سال پہلے دس مہینے میں ہما ری برآمدات میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 7.8 فیصد کمی ہوئی وہ کم ہو کر 1.28 فیصد پر آ چکی ہے۔ یہ بہتری حکومت کی طرف سے جنوری 2017ءمیں ایکسپورٹرز کو وزیراعظم کا 180 ارب روپے کابروقت جامع پیکیج دینے اور ان کی اپنی انڈسٹری کی کاوشوں کے نتیجے میں ہوئی۔
زرمبادلہ کے ذخائر
30 جون 2013ءکو سٹیٹ بینک کے پاس ذرمبادلہ کے ذخائر 6.3 ارب ڈالر تھے، آج بڑے تجارتی خسارے کے باوجود سٹیٹ بینک کے پاس آج 16 ارب سے زیادہ ذخائر ہیں جو کمرشل بینکوں کے ذخائر شامل کرنے کے بعد 21 ارب ڈالر کے قریب ہیں۔ جناب سپیکر ایکسچینج ریٹ 30 جون 2013ءکو 99.66 پیسے تھا اور یہ ریٹ چند ماہ میں بڑھ کر 111 روپے کے قریب پہنچا تاہم ہمارے معاشی انتظام اور ذرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے کے بعد یہ ریٹ دوبارہ 99 پر واپس آیا لیکن اگست سے دسمبر 2014ءمیں سیاسی ہنگامہ آرائی کی وجہ سے یہ ریٹ دوبارہ 104.80 روپے پر گیا اور ابھی تک یہ اسی سطح پر مستحکم ہے۔
گزشتہ چار برسوں کے دوران بیرون ملک کام کرنے والے پاکستانیوں نے بیش بہا ترسیلات بھیجیں جو 13.9 ارب ڈالر سے بڑھ کر 19.9 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔ یہ 40 فیصد کا اضافہ حکومت کے پاکستان ریمیٹنس اینیشی ایٹو سکیم کی بحالی اور ماضی کے بقایا جات کی ادائیگی کے ذریعے ممکن ہوا۔ موجودہ مالی سال کے پہلے دس ماہ میں 15.6 ارب ڈالر کی ترسیلات پاکستان آ چکی ہیں۔ خلیجی ممالک کی مشکل سیاسی و اقتصادی صورتحال کے باوجود رمضان اور عید کی وجہ سے آخری دو ماہ میں ترسیلات میں اضافہ متوقع ہے۔ میں اس موقع پر بیرون ملک محنت کرنے والے پاکستانیوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے پاکستان میں اپنے عزیز و اقارب کو ترسیلات بھیجنے کیلئے بینکنگ ذرائع کا استعمال کیا اور ان سے اپیل کرتا ہوں کہ آئندہ بھی صرف اور صرف بینکنگ ذرائع سے اپنی رقوم بھیج کر پاکستان کی معیشت میں اپنا حصہ ڈالیں۔
پاکستان سٹاک ایکسچینج
دس سال سے زیادہ عرصے سے زیر التواءمسائل کے حل کے بعد تین سٹاک ایکسچینجز کا انضمام جنوری2016ءمیں مکمل کر لیا گیا۔ تب سے پاکستان سٹاک ایکسچینج بہتری کی جانب گامزن ہے۔ ایم ایس سی آئی انڈیکس کے مطابق فرٹیئر مارکیٹ سے ترقی کر کے یکم جون 2013ءکو پاکستان کی سٹاک مارکیٹ ایمرجنگ مارکیٹ بن جائے گی۔ بلوم برگ نے 2016ءمیں پاکستان سٹاک ایکسچینج کو انضمام کے بعد ایشیاءمیں بہترین اور پوری دنیا میں پانچویں بہترین ایکسچینج قرار دیا۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ جب انتخابات ہوئے تو 11 مئی 2013ءکو انڈیکس 19916 تھا اور آج وہ بڑھ کر 52 ہزار پوائنٹس سے بڑھ چکا ہے۔ اس عرصے کے دوران مارکیٹ کیپٹلائزیشن 51 ارب ڈالر سے بڑھ کر 97 ارب ڈالر ہو گئی جس کا مطلب ہے کہ چار سال میں اس میں 90 فیصد بہتری آئی۔ نئی کمپنیوں کی رجسٹریشن کے حوالے سے اس سال مارچ تک یعنی نو مہینے میں 5855 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ ہوئیں جبکہ چار سال پہلے پورے مالی سال میں صرف 3960 کمپنیاں رجسٹرڈ کی گئی تھیں۔
معاشی قوانین کا نفاذ
کسی بھی معیشت کو اس کے حقیقی شرح نمو حاصل کرنے کیلئے مناسب قانونی اور ریگولیٹری فضاءکا مہیا ہونا ضروری ہے۔ ایک موثر قانونی ڈھانچے کی عدم موجودگی سے گورننس اور سروس ڈلیوری میں آنے والی رکاوٹوں کا احساس کرتے ہوئے ہم نے اپنے 4 سالہ دور حکومت میں 24 قوانین بنائے یا تبدیل کئے جن میں ” بے نامی ٹرانزیکشن پروہیبشن ایکٹ، سپیشل اکنامک زونز امینڈمنٹ ایکٹ، ڈیپازٹ پراڈکشن کارپوریشن ایکٹ، کریڈٹ بیورو ایکٹ، کارپوریشن ڈی سٹرکچر کمپنیز ایکٹ، نیشنل انرجی ایفیشنسی اینڈ کنزرویشن ایکٹ، اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ، گیس تھیفٹ کنٹرول اینڈ ریکوری آرڈیننس اور لمیٹڈ لائبلٹی پارٹنر شپ ایکٹ بہت اہم ہیں۔“ اس کے علاوہ ایک ترقی پذیر معیشت کیلئے درکار قانونی ڈھانچے میں مزید بہتری لانے کیلئے اس وقت 10 مزید قوانین پر کام کیا جا رہا ہے۔ اسی ہفتے پارلیمینٹ نے کمپنیز لاء2017ءپاس کیا جس پر دونوں ایوانوں کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتا ہوں اور مبارکباد پیش کرتا ہوں کہ یہ قانون 33 سالہ پرانے کمپنیز آرڈیننس 1984ءکا متبادل بنا ہے۔ یہ ایک بہت بڑی اصلاحات میں سے ایک ہے جو تمام کمپنی قوانین کو یکجا کر کے پاکستان میں کارپورائزیشن کو عالمی معیار کے عین مطابق ڈھالنے میں مدد دے گا۔ یہ قانون کاروبار شروع کرنے، کاروباری مراحل میں آسانی پیدا کرنے اور سرمایہ کاری کو محفوظ بنانے میں مددگار ہو گا۔ یہ چھوٹے حصہ داروں اور قرض مہیا کرنے والے معاملات کے تحفظ کی ضمانت مہیا کرے گا۔ چھوٹی کمپنیوں کو ریگولیٹری کمپلائنس میں آسانی پیدا کرے گا اور اس کے ساتھ ساتھ زراعت کے فروغ کیلئے نئی کمپنیز کے اندراج میں آسانی ہو گی۔ نئے قانون کے مطابق خواتین کی اہمیت کو پیش نظر رکھتے ہوئے انہیں سٹاک ایکسچینج میں اندراج شدہ کمپنیوں کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں نمائندگی دی جائے گی۔
کاروبار میں آسانیاں
ملک میں کمپنیوں کیلئے کاروباری آسانی پیدا کرنے کیلئے اصلاحات کی جا رہی ہیں جس کے نتیجے میں عالمی بینک کے کاروباری آسانی کی درجہ بندی یعنی انڈیکس میں پاکستان کی رینکنگ میں 4 درجے بہتری آئی ہے۔ ورلڈ بینک کی 2016ءمیں شائع ہونے والی رپورٹ میں بزنس انڈیکس میں 148 سے بہتر ہو کر 144 نمبر پرآیا۔ پوری دنیا میں نمایاں اصلاحات کرنے والے 10 ممالک میں پاکستان کو شامل کیا گیا۔ 2016ءکی جو اصلاحات ہو چکی ہیں اس کی بدولت جو اکتوبر 2017ءمیں انڈیکس شائع ہو گا ہمیں توقع ہے کہ پاکستان کی درجہ بندی مزید بہتر ہو گی۔
ڈاکومنٹیشن آف اکانومی
اس کی حوصلہ افزائی کیلئے پہلی بار 40 ہزار روپے مالیت کے رجسٹرڈ پرائز بانڈ کا اجراءکیا گیا۔ مالی سال 2017-18ءمیں مختلف مالیت کے دیگر رجسٹرڈ بانڈز بھی متعارف کرائے جائیں گے۔ یہ کامیابیاں جو آپ کو گنوائی ہیں یہ گزشتہ چار سال کے دور حکومت میں بروقت مگر مشکل فیصلوں کا نتیجہ ہیں، ہم اصلاحات کا سفر جاری رکھنے کیلئے پرعزم ہیں۔ اب بھی رواں سال کے دوران حکومت کی جانب سے کی گئی کئی اصلاحات کا ذکر کرنا چاہوں گا۔ حال ہی میں ہم نے اوپن گورنمنٹ پارٹنر شپ (او جی پی) پر دستخط کئے۔ یہ 70 سے زائد ممالک بشمول ترقی یافتہ جی 20 کی عالمی شراکت داری کا معاہدہ ہے۔ کوئی بھی ملک جو اس میں رکنیت کا ارادہ رکھتا ہو، ایک خاص معیار پر پورا اترنے کے بعد اسے رکنیت کیلئے پیشکش حاصل ہوتی ہے۔ ہمیں اس معیار کے 16 میں سے 15شق پوری کرنے پر 7 دسمبر 2016ءکو او جی پی میں شمولیت کیلئے پاکستان کو مدعو کیا گیا جو کہ ہماری حکومت نے قبول کیا۔ یہ شفافیت کیلئے ایک منہ بولتا ثبوت ہے۔
اسی طرح گزشتہ بجٹ کی تقریر میں ذکر کیا تھا کہ او ای سی ڈی کے ملٹی لیٹر کنونشن اور میوچول ایڈمنسٹریٹو اسسٹنٹز اینڈ ٹیکس میٹرز پر دستخط کرنے کی بھرپور کوشش کر رہے ہیں۔ یہ اقدام ٹیکس چوری کے خلاف ہمارے عزم پر مبنی تھا۔ جنوری 2014ءمیں وفاقی کابینہ سے کنونشن میں شمولیت کی منظوری کے بعد اس سفر کا آغاز کیا اور اس کنونشن کی کوآرڈینیٹو باڈی نے پاکستانی قوانین کا جائزہ لیا۔ ان کی سفارشات کی روشنی میں ہم نے فنانس بلز 2015ءاور 16 کے ذریعے اسی پارلیمینٹ میں انکم ٹیکس قوانین میں تبدیلیاں کروائیں جس کے بعد پاکستان کو جولائی 2016ءمیں اس کنونشن میں شامل کرنے کی دعوت موصول ہوئی اور 14 ستمبر 2016ءکو پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے اس میں شمولیت کی دستاویز پر دستخط کئے جس کے نتیجے میں آنے والے سالوں میں ہمارے ٹیکس کے معاملات میں بین الاقوامی سطح پر کافی زیادہ تفصیلات حاصل ہو سکیں گی۔ اس سے ہمارے ٹیکس گورننس میں بہتری آئے گی اور ٹیکس چوری کا موثر سدباب ہو گا۔
اسی طرح اوائڈنس آف ڈبل ٹیکسیشن ایگریمنٹ جو سوئٹزرلینڈ کے ساتھ ہے، اس کو 2005ءمیں معاہدہ ہوا جس پر 2008ءمیں عملدرآمد شروع ہوا تاہم یہ معاہدہ معلومات کے تبادلہ کیلئے عالمی معیار کے مطابق نہ تھا اور ہمیں کوئی معلومات نہ ملتی تھیں۔ لہٰذا اگست 2013ءمیں کابینہ اور حکومت نے اس معاہدے پر نظرثانی کا فیصلہ کیا اور اس کے متعلقہ آرٹیکلز میں تبدیلیاں سوئٹزر لینڈ کی حکومت کو تجویز کیں۔ پاکستان اور سوئٹزرلینڈ کے باہمی مذاکرات کے بعد یہ معاہدہ بھی 21 مارچ 2017ءکو طے پا گیا، یہ ترمیم شدہ معاہدہ آخری مراحل میں ہے اور جلد قابل عمل ہو جائے گا۔ اس معاہدے کے تحت ٹیکس مقاصد کیلئے مالی کھاتوں اور بینکنگ کی معلومات دریافت کرنی ممکن ہوں گی۔ میں یہاں اس بات کا ذکر کرنا چاہوں گا کہ اس معاہدے کی شرائط طے ہونے کی توقع سے زیادہ تاخیر اس وجہ سے ہوئی کہ سوئس حکومت اس کے بدلے غیر معمولی رعایتوں کی خواہشمند تھی اور مانگ رہی تھی۔ الحمد اللہ ہم نے کوئی بھی نئی رعایت دینے کے بغیر اس معاہدے کو 21 مارچ 2017ءکو سائن کیا۔ ان اقدامات کی بدولت ناصرف پوری دنیا میں پاکستان کی ساکھ میں اضافہ ہوا بلکہ اقوام عالم کو پیغام دیا گیا کہ پاکستان ہر سطح پر ٹرانسپرنسی، گڈ گورننس اور احتساب پر یقین رکھتا ہے۔ بنیادی معاشی کارکردگی کے جن اعداد و شمار کا میں نے ذکر کیا ہے ان سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ پچھلے چار سال میں میٹرو اکنامک سٹیبلٹی حاصل کرنے کے بعد ہماری حکومت کا فوکس وزیراعظم نواز شریف کے ویژن کے مطابق، ہائر انکلوسیو سسٹین ایبل گروتھ ہے۔ پچھلے چار سالوں کے دوران کی جانے والی سٹرکچرل ریفارمز میں سے چند کا ذکر کیا ہے۔ اگلے مالی سال میں اب تک جو اکنامک کامیابیوں کو برقرا ررکھنا ہے بلکہ اس میں مزید بہتری لانی ہے۔
اگلے سال کے چند اہم اہداف
مالی سال 2017-18ءمیں جی ڈی پی کی شرح میں 6 فیصد اضافے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ انویسٹمنٹ ٹو جی ڈی پی 17 فیصد، پی ایس ٹی پی پر ان پیسی ڈینٹڈ 1001 بلین کا ہدف ہے۔ انفلوایشن کا ہدف 6 فیصد سے کم ہے۔ بجٹ خسارہ 4.1 فیصد رکھنے کا منصوبہ ہے۔ اس میں سیکیورٹی کے حوالے سے ہر سال خرچ ہونے والے 90 سے 100 ارب روپے بھی شامل ہیں ورنہ یہ ہدف 3.8 فیصد بھی ہو سکتا ہے۔ ٹیکس ٹو جی ڈی پی 13.7 فیصد، زرمبادلہ کے ذخائر چار ماہ کی درآمد کے برابر، نیٹ پبلک ڈیٹ ٹو جی ڈی پی کو قانون کے دائرے کے اندر 60 فیصد تک رکھنا اور سوشل سیفٹی نیٹ کے اقدامات کو جاری رکھنا شامل ہیں۔ جن اہداف کا ابھی ذکر کیا ہے ان کے حصول کیلئے ہم نے بجٹ حکمت عملی ترتیب دی ہے جس کی تفصیل کچھ یوں ہے۔ ایف بی آر کے ریونیو اہداف میں 14فیصد اضافہ جبکہ وفاقی اخراجات میں 11 فیصد تک کے اضافے کا منصوبہ ہے۔ وفاقی حکومت کی نان ٹیکس ریونیو وصولیوں میں 7 فیصد کا اضافہ، موجودہ اخراجات کو قابو میں رکھتے ہوئے ہم ترقیاتی بجٹ میں مزید اضافہ کرنے کے قابل ہوں گے۔ اگلے مالی سال جیسا کہ میں نے عرض کیا کہ ترقیاتی پروگرام 1001 ارب روپے تجویز کیا گیا ہے۔ یہ رقم موجودہ مالی سال کے نظرثانی شدہ 715 ارب کے تخمینے سے 40 فیصد زیادہ ہے۔ اگر اس میں صوبائی تخمینہ شامل کریں تو 2017-18ءکا ترقیاتی بجٹ 2100 ارب روپے سے تجاوز کر جائے گا۔ ان کیساتھ ساتھ موجودہ اخراجات میں اضافہ افراط زر کی شرح سے کم رکھا جائے گا۔ زراعت، مالی شعبے، برآمدات، ٹیکسٹائل، سماجی شعبے اور روزگار کیلئے نئے اقدامات کا اعلان کیا جا رہا ہے۔ اس کا مقصد معاشی سرگرمیوں میں مزید اضافہ کرنا، روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا اور عوام کی آمدن میں مزید بہتری لانا ہے۔ زراعت، چھوٹے اور اوسط انٹرپرائزز اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبہ جات کو مزید فروغ دینے کیلئے ٹیکس مراعات کا اعلان کیا جا رہا ہے۔
توانائی
وزیراعظم نواز شریف کی قیادت اور کابینہ کمیٹی برائے توانائی کے ذریعے ان کی ذاتی نگرانی میں 2018ءکے موسم گرما میں موجودہ پانچ سالہ مدت کے اختتام تک تقریباً دس ہزار میگاواٹ اضافی بجلی نیشنل گرڈ میں شامل کی جائے گی۔ اس سے پاکستان میں لوڈشیڈنگ کا مکمل خاتمہ ہو گا۔ ائیرپورٹ، ہسپتال اور پانی صاف کرنے کے پلانٹ سمیت گوادر کی ترقی کیلئے سرمایہ کاری کی جائے گی۔ تقریباً 55 لاکھ ایسے خاندان جن کے پاس ذریعہ معاش نہیں، ان کیلئے سالانہ 19338 روپے فی خاندان بذریعہ خاتون خانہ مالی معاونت جاری رکھی جائے گی۔ اس مقصد کیلئے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت 121 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے جو کہ 2013ءکے 40 ارب روپے کے مقابلے میں 300 فیصد ہے۔ 2013ءمیں مستفید ہونے والے خاندانوں کی تعداد 37 لاکھ تھی، اب وہ 55 لاکھ ہو جائے گی، اس کے علاوہ پرائمری سکولوں کے 13 لاکھ بچوں کی مالی معاونت بھی ہے۔ حکومت 300 یونٹ ماہانہ بجلی استعمال کرنے والے کم آمدن صارفین کے بجلی کے بلوں کی ادائیگی سبسڈی کے ذریعے جاری رکھے گی۔ بلوچستان کے کسانوں کیلئے زرعی ٹیوب ویلوں کی بجلی کے استعمال پر سبسڈی جاری رکھے گی جبکہ پورے ملک میں زرعی ٹیوب ویل پر 5 روپے 35 پیسے فی یونٹ آف پیک ریٹ آئندہ مالی سال میں بھی جاری رہے گا۔ توانائی پر اس سبسڈی کی مد میں 118 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔ وزیراعظم کی مختلف سکیمیں، جو بزنس لون سکیم، ٹریننگ سکیم، سکل ڈویلپمنٹ پروگرام، لیپ ٹاپ پروگرام و دیگر کیلئے 20 ارب روپے رکھے جا رہے ہیں۔ وزیراعظم نواز شریف کی قیادت میں ملک کے عوام کی خدمت کیلئے پرعزم ہیں۔ یہ قوم ایک اچھے اور روشن مستقبل کی مستحق ہے، اس سلسلے میں اس بجٹ میں کچھ خصوصی تجاویز پیش کی جاتی ہیں۔
فلاحی سکیمیں
غربت سے باہر آنے والوں کیلئے بینظیر انکم سپورٹ کے تحت کاروبار شروع کرنے کیلئے خصوصی گرانٹ فوڈ انرجی انٹیک میتھاڈولوجی کے تحت 2002ءمیں غربت کا سروے کیا گیا جس کے مطابق پاکستان کا چوتھا شہری یا 60 فیصد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہی تھی جو کہ کم ہو کر 2014ءمیں 9.3 فیصد ہو گئی تاہم پاکستان نے ورلڈ بینک کی کاسٹ آف بیسک نیڈ پر بھی غربت ناپنے کیلئے طریقے کو اپنایا۔ اس کو گلوبل ایجنسیز نے اس کا پورا کام کیا اور اس طریقہ کار کے مطابق 2002ءمیں غربت کی شرح 64 فیصد سے زیادہ تھی جو 2014ءمیں کم ہو کر 29.5 فیصد رہ گئی ہے۔ جہاں حکومت معاشرے کے کم آمدن افراد کو معاشرتی تحفظ فراہم کر رہی ہے وہیں انکم سپورٹ پروگراموں سے مستفید ہونے والوں کے نئے ہنر سیکھنے اور اپنے کاروبار شروع کرنے کی حوصلہ افزائی بھی ہو رہی ہے تاکہ وہ اپنے پاﺅں پر کھڑے ہو سکیں۔ اس سلسلے میں حکومت ایک نئی سکیم متعارف کروا رہی ہے۔ آئندہ سال مستفید ہونے والے ایسے خاندانوں کی تربیت اور 50 ہزار روپے کی مالی معاونت فراہم کی جائے گی جو اپنا ذاتی کاروبار شروع کرنا چاہتے ہیں۔ اس طرح وہ اس پروگرام سے گریجوایٹ کر جائیں گے اور ابتدائی طور پر ڈھائی لاکھ خاندانوں کو یہ گرانٹ دینے کی تجویز ہے۔
دور دراز علاقوں میں بجلی کی فراہمی
بجلی کے ترسلی نظام سے دوری پر بسنے والے چھوٹے شہروں کے مکینوں کو بجلی کی فراہمی کیلئے حکومت ورلڈ بینک کے تعاون سے سولر انرجی سے چلنے والے آف گرڈ نظام متعارف کرائے گی اور اس نظام میں بلوچستان پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔
شعبہ زراعت
زراعت ہمارے ملک کے لوگوں اور معیشت کیلئے نہایت اہم ہے۔ دیہی معیشت کیلئے زراعت کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے وزیراعظم نے 2015ءمیں 341 ارب روپے پر مبنی ایک جامع کسان پیکیج کا اعلان کیا جس کے تحت چاول اور کپاس پیدا کرنے والے کسانوں کیلئے بلاواسطہ امداد، زرعی مشینری کی درآمد پر 42 فیصد ٹیکس کو کم کر کے 9 فیصد، کول چین مشینری پر سیلز ٹیکس میں 17 فیصد سے کمی کر کے 7 فیصد، زرعی اجناس کے تاجروں کیلئے تین سال کی ٹیکس چھوٹ، شمسی ٹیوب ویل استعمال کرنے والے کسانوں کیلئے بلاسود قرضے، جراثیم کش ادویات اور بیج پر سیلز ٹیکس میں کمی، زرعی قرضوں پر سود میں کمی، فصلوں پر کم لاگت بیمہ اور زرعی قرضوں کے حجم میں اضافے شامل تھے۔ زرعی شعبے میں مزید بہتری کیلئے حکومت نے 2016-17ءکے بجٹ کے ذریعے کئی اہم اقدامات بھی کئے جن میں کروپ لون انشورنس سکیم، لائیو سٹاک انشورنس سکیم، پولٹری سکیم پر کسٹم ڈیوٹی میں رعایت، جراثیم کش ادویات پر سیلز ٹیکس کا خاتمہ، کول چین مشینری پر کسٹم ڈیوٹی کا خاتمہ اور کھاد کی قیمتوں میں قابل ذکر کمی، نتیجتاً یوریا کی کھاد پچھلے سال بجٹ کے اعلان کے بعد 1800 روپے سے کم ہو کر فی بوری 1400 روپے اور ڈی اے پی کی بوری 42 روپے سے کم ہو کر 25 روپے ہوئی۔ کھاد کی قیمتوں میں یہ کمی ٹیکسوں میں چھوٹ اور کیش سبسڈی کے ذریعے ممکن ہوئی۔ ان اقدامات کے بہتر نتائج کا اندازہ کھاد کی کھپت اور زرعی پیداوار میں اضافے سے لگایا جا سکتا ہے جو صفر سے 3.46 فیصد بڑھی۔ ان اقدامات کی وجہ سے پچھلے سال جمود کا شکار رہنے والے زرعی شعبے میں موجودہ سال 3.46 فیصد کی شرح سے ترقی، تمام سکیموں کی وجہ سے ہوئی، اور یہ تمام سکیمیں آئندہ مالی سال میں بھی جاری رہیں گی۔
آئندہ بجٹ میں کچھ نئے اقدامات بھی تجویز کئے جا رہے ہیں۔ زرعی قرضوں کیلئے مارک اپ اس وقت 14 سے 15 فیصد کے قریب ہے۔ اس بات کا اعلان کرتے ہوئے خوشی ہے کہ یکم جولائی 2017ءسے زرعی ترقیاتی بینک اور نیشنل بینک آف پاکستان نئی سکیم کے تحت ساڑھے بارہ ایکٹر اراضی رکھنے والے کسانوں کو 9.9 فیصد سالانہ کی کم شرح پر قرضے دیں گے۔ سکیم کی خصوصیات یہ ہیں کہ فی کسان 50 ہزار روپے قرضہ ہو گا، 20 لاکھ قرضے زرعی ترقیاتی بینک، نیشنل اور دیگر بینک مہیا کریں گے، سٹیٹ بینک آف پاکستان اس نئی سکیم پر عملدرآمد کو یقینی بنائے گا۔
زرعی قرضوں کے ہدف میں اضافہ
پیداواری لاگت کے استعمال میں چھوٹے کسانوں کو زرعی قرضوں کی فراہمی بہت بڑا چیلنج ہے۔ کسانوں کی سہولت کیلئے مالی سال 2017-18ءمیں ز رعی قرضوں کا حجم پچھلے سال کے 700 ارب سے بڑھا کر 1001 ارب کیا جا رہا ہے۔ جو کہ قرضوں کے حجم میں 43 فیصد اضافہ ہے۔
کھاد کی قیمتوں میں استحکام
کسانوں کی مزید آسانی کیلئے حکومت نے نیشنل فرٹیلائزر مار کیٹنگ کمپنی کے پاس دستیاب تمام امپورٹڈ یوریا کو 1000 روپے فی بوری کی رعایتی قیمت پر فروخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ڈی اے پی پر دی جانے والی سبسڈی کی فراہمی میں آسانی کی خاطر یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ ڈی اے پی پر فکس سیلز ٹیکس کو 400 روپے سے کم کر کے 100 روپے کیا جائے اور اس مد میں خزانے کو 13.8 ارب روپے کا بوجھ برداشت کرنا ہو گا۔ مالی سال 2017-18ءمیں ٹیکس میں کمی اور سبسڈی کے ذریعے یوریا کی زیادہ سے زیادہ قیمت 1400 روپے مقرر کی گئی اور اسے برقرار رکھا جائے گا اور اس مد میں متوقع خرچ 11.60 کروڑ روپے ہو گا۔ اسی طرح ٹیکسوں میں ردوبدل کے ذریعے این پی، این پی کے، ایس ایس پی اور کین کی قیمتیں بھی اپنی موجودہ سطح پر برقرار رکھی جائیں گی۔
قرضوں کی حصولی کیلئے زمین کے مالکانہ حقوق کے ریکارڈ کا استعمال
قرضوں کے حصول میں آسانی پیدا رکنے کیلئے سٹیٹ بینک ایسے اقدامات کر رہا ہے جس کے ذریعے بینکنگ سسٹم کو لینڈ ریکارڈ مینجمنٹ سسٹم کیساتھ منسلک کیا جائے تاکہ کسان جو زمین رکھنا چاہیں اس لئے انہیں سہولت ہو۔ اس کے ذریعے کسانوں کو بینکوں سے قرضہ لینے میں سہولت ہو گی۔ پلانٹ بریڈرز رائٹس رجسٹری کا قیام زیر عمل ہے جس سے کسانوں کو اعلیٰ معیار کا بیج دستیاب ہو گا۔ اس کا مقصد فصلوں کی پیداوار کو بڑھانا ہے۔
ہاﺅسنگ کا شعبہ
جناب سپیکر ملک میں اس وقت 10 لاکھ سے زیادہ مکانات کی کمی ہے اور ہر سال مکانوں کی ڈیمانڈ میں ہر سال 3 لاکھ اضافہ ہو رہا ہے۔ طویل المدت قرضے کی دستیابی اس میں بڑی رکاوٹ ہے اور بینک لمبی مدت کے قرضے دینے سے گھبراتے ہیں۔ گھر بنانے میں حائل اس رکاوٹ کو ڈدور کرنے کیلئے رسک شیبرنگ گارنٹی سکیم کا آغاز کیا جائے گا۔ اس کے تحت گھر بنانے کیلئے دس لاکھ روپے تک کی فنانسنگ پر حکومت بینکوں اور ڈویلپمنٹ فنانشل انسٹی ٹیوشن کو 40 فیصد تک لون کو کریڈٹ گارنٹی کرے گی۔ اس مقصد کیلئے بجٹ میں 6 ا رب روپے مختص کئے گئے ہیں اور اس سہولت کو مائیکرو بینک کے ذریعے مہیا کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔حکومت نے انفراسٹرکچر کی ضروریات پوری کرنے کیلئے مختلف بنیادوں پر ترقیاتی اخراجات میں اضافہ کیا ہے۔ سرکاری شعبہ میں انفراسٹرکچر کی مالی ضروریات پوری کرنے کیساتھ ساتھ حکومت مختلف قواعد و پالیسی تبدیلیوں کے ذریعے نجی شعبہ کی انفراسٹرکچر کیلئے سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی بھی کر رہی ہے۔ ان اقدامات میں پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ فریم ورک، انفراسٹرکچر فنانس کیلئے نئی ریگولیشنز اور نے اداروں کا قیام شامل ہے۔نئے اداروں میں ایک پاکستان ڈویلپمنٹ فنڈ کو فعال کیا جا رہا ہے جو پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ اور پبلک سیکٹرز کے پراجیکٹس میں سرمایہ کرے گا۔ بین الاقوامی ڈویلپمنٹ پارٹنرز نے بھی اس فنڈز میں حصہ لینے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔ پاکستان انفراسٹرکچر بینک، نجی شعبے کے قابل عمل منصوبوں کو انفراسٹرکچر کی مد میں قرض فراہم کرنے کیلئے پاکستان انفراسٹرکچر بینک قائم کیا جا رہا ہے۔ اس بینک میں پاکستان کا 20 فیصد حصہ ہو گا جبکہ آئی ایف سی، جو ورلڈ بینک کا ادارہ ہے اس کا بھی 20 فیصد شراکت دار ہو گا جبکہ باقی 60 فیصد دوسرے نجی ادارے اور فنانشل انسٹی ٹیوشن پارٹنر ہوں گی۔پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ ایکٹ پارلیمان سے منظوری کے بعد نافذ ہو چکا ہے اور فنانسنگ کیلئے ریگولیٹری فریم ورک مہیا کرتا ہے۔ اس سے حکومت نجی شعبے کی شراکت کے ساتھ بڑے منصوبوں کی تکمیل کروا سکے گی۔
مالیاتی شعبہ
مالیاتی شعبے میں حالیہ سالوں میں ہمارے فنانشل سیکٹر نے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا، اس میں مزید بہتری کیلئے مندرجہ ذیل اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ زیادہ تر لوگوں کو مالی سہولت کی دستیابی کیلئے حکومت نیشنل فنانشل سٹریٹجی پر عمل کر رہی ہے اور اس سلسلے میں آئندہ سال مندرجہ ذیل ایکشن لئے جا رہے ہیں۔
مائیکرو فنانس انسٹی ٹیوشن کے ذریعے کم آمدنی والے طبقوں کو قرض کی فراہمی کیلئے سٹیٹ بنک میں آٹھ ارب روپے سے فنڈ قائم کیا جائے گا۔موبائل بینکنگ ای گیٹ ویز سسٹم کے ذریعے ادائیوں کو آسان بنانے کیلئے حکومت نے 2 ارب روپے کی لاگت سے سٹیٹ بینک میں جدید ای گیٹ سٹم قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت متعلقہ اداروں کو فنی تربیت بھی فراہم کی جائے گی۔برانچ لیس بینکنگ سے جو رقوم نکالنے پر ودہولڈنگ ٹیکس ختم کیا جا رہا ہے۔ پاکستان مائیکرو فنانس انویسٹمنٹ کمپنی جو اکتوبر 2016ءمیں کے ایف ڈبلیو کے ساتھ مل کر آغاز کیا جس کا مقصد چھوٹے لوگوں قرض دینا اور اضافی سرمایہ فاہم کرنا ہے امید ہے کہ ان چھوٹے قرضوں کی تعداد تین سال میں دگنی ہو جائے گی۔ عوام کو قدرتی آفات سے نمٹنے اور اس حوالے سے تیا ررہنے میں مدد دینے کیلئے ڈیزاسٹر رسک مینجمنٹ فنڈ قائم کیا گیا ہے اور 52 ارب 58 کروڑ روپے سے فنڈ قائم کر دیا گیا ہے۔
چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار
چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبارکسی بھی معیشت کیلئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں لیکن بدقسمتی سے ہمارے ہاں چھوٹے کار وبار کی ترقی میں کافی رکاوٹیں حائل ہیں۔ اگر کوئی ترقی ہوئی ہے تو غیر رسمی شعبہ میں ہوئی ہے اور اس سلسلے میں مندرجہ ذیل نئے اقدامات کا اعلان کیا جا رہا ہے۔ اس شعبے میں سب سے بڑا مسئلہ قرض کی دستیابی ہے اور عام طور پر بینک ایس ایم ایز کو قرض دینے سے کتراتے ہیں کیونکہ اس میں بہت زیادہ رسک ہوتا ہے۔
بینکوں کو ایس ایم ایز کیلئے قرض دینے کی سہولت پیدا کرنے کیلئے حکومت نے سٹیٹ بینک آف پاکستان میں ساڑھے تین ارب روپے سے ایک ایس ایم ای کیلئے رسک میٹی گیشن فسیلٹی متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے جس کے تحت اسلامی اور روائتی طریقے سے قرض دئیے جائیں گے۔مارکیٹ کی بدلتی ضروریات سے مطابقت کیلئے لازمی ہے کہ چھوٹے کاروبار جدید ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کرے۔ سپلائی چین یا چھوٹی صنعتوں کی ٹیکنالوجی میں مسلسل جدت اور بہتری ان کے منافع بخش رہنے کیلئے ضروری ہے۔ ان ضروریات کے پیش نظر حکومت ایس ایم ایز کیلئے پانچ سو ملین روپے کا اینویویشن چیلنجز فنڈ کے قیام کا اعلان کر رہی ہے جس کا انتظام پاکستان کی اہم ٹیکنالوجی یونیورسٹی کے تعاون سے پیشہ وارانہ طرز پر کیا جائے گا۔سیکیور ٹرانزیکیشن رجسٹری، ایس ایم ای اور زراعت کیلئے قرض کی فراہمی کی خاطر حکومت نے پارلیمان سے فنانشل انسٹی ٹیوشن سیکیور ٹرانزیکشن ایکٹ 2016ءمنظور کرایا ہے جس کے تحت الیکٹرانک رجسٹری قائم کی جائے گی جس کے ذریعے ایس ایم ای اور زراعت کے شعبوں میں چھوٹے کاروباری جائیداد کے عوض قرض حاصل کر سکیں گے۔ وفاقی حکومت آئندہ مالی سال کے دوران اس رجسٹری کا قیام عمل میں لائے گی۔
ترقیاتی پروگرام
اس سال کا ترقیاتی پروگرام وزیراعظم نواز شریف کی ویژن کے مطابق ، ہائر سسٹین ایبل، ہیومن ریسورس ڈویلپمنٹ، انفراسٹرکچر کی بہتری، فوڈ سیکیورٹی، واٹر اینڈ انرجی مینجمنٹ پر مشتمل ہے۔ وفاقی حکومت نے ترقیاتی اخراجات 2012-13 کے 324 بلین کے مقابلے میں تین گنا ہو کر 1 ہزار ایک کروڑ روپے کی تجویز پچھلے مالی سال کے نظرثانی شدہ توقع سے 40 فیصد زیادہ ہے۔ وفاقی اور صوبائی ترقیاتی پروگرام کا مجموعی حجم 1539 ارب روپے سے بڑھ کر 2113 ارب کیا جا رہا ہے جس کا مطلب ہے کہ حکومتی شعبہ نے اپنے ترقیاتی اخراجات میں 37 فیصد اضافہ کیا ہے۔ اس سے معیشت میں لاکھوں لوگوں کو روزگار کے مواقع ملیں گے۔ ترقیاتی اخراجات میں اضافے سے نجی شعبے میں بھی سرمایہ کاری میں اضافہ ہو گا۔ ماضی میں توانائی اور انفراسٹرکچر کے شعبوں کو نظرانداز کیا جاتا رہا۔ ہماری حکومت نے اس روایت کو یکسر بدل دیا اور آج وفاقی ترقیاتی بجٹ کا بیشتر حصہ انفراسٹرکچر اور توانائی کیلئے مختص کیاجا تا ہے۔ یہ ہماری معاشی پالیسی میں بہت بڑی تبدیلی ہے اور مستقبل کے معاشی ترقی کے اہداف کی بنیاد ہے۔ انفراسٹرکچر کیلئے کل پی ایس ٹی پی کا کل 67 فیصد مختص کیا ہے۔ اولین ترجیح ٹراسپورٹ اور کمیونیکیشن کے شعبوں کو دی گئی ہے جس کیلئے 411 ارب مختص کئے گئے ہیں۔ اس میں قومی شاہراہوں کیلئے 320 ارب روپے، ریلوے کیلئے 43 ارب روپے اور دیگر منصوبے، ایوی ایشن کیلئے 44 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔
جناب سپیکر 19 سال کے وقفے کے بعد مردم شماری کا عمل جاری ہے اور فیلڈ کا کام مکمل ہو چکا ہے اور اس وقت اس کا آفس ورک جاری ہے لیکن عمر کے لحاظ سے آبادی کے تناسب میں بڑی تبدیلی متوقع نہیں۔ ہماری آبادی کا بیشتر حصہ 20 سال سے کم عمر نوجوانوں پر ہی مشتمل رہے گا۔ اس لئے ہمارے ترقیاتی پروگراموں کی توجہ انسانی اور سماجی سرمائے کی ترقی، تعلیم، صحت، خواتین کو بااختیار بنانے، غربت کے خاتمے، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور عدم مساوات ختم کرنے پر مرکوز ہے۔
توانائی
جناب سپیکر اب میں وفاقی حکومت کے ترقیاتی بجٹ کے چند اہم پروگرام پر روشنی ڈالوں گا۔ توانائی کی کمی تیز تر ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے اور حکومت لوڈشیڈنگ کے خاتمے کیلئے انتھک محنت کر رہی ہے۔ وزیراعظم نواز شریف خود اس کی سپرویژن کر رہے ہیں۔ ہم نے 2018ءتک 10 ہزار میگاواٹ کی بجلی نیشنل گرڈ میں شامل ہو گی اور اس کے بعد 15 ہزار میگاواٹ کے منصوبوں پر عملدرآمد مختلف مرحلوں پر ہو رہا ہو گا۔ یہ بہت بڑی بات ہے، یہ وہ ملک تھا جو 1200 میگاواٹ سرپلس تھا اور پھر 14 سے 18 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ہونا شروع ہو گئی۔ اگلے سال یہ لوڈشیڈنگ ماضی کا قصہ ہو گی اور اس کے بعد 15 ہزار میگاواٹ مزید شامل ہوگا۔ اس ضمن میں حکومت 401 ارب روپے تجویز کر رہی ہے جس میں واپڈا کے 317 ارب روپے کی سرمایہ کاری شامل ہے اور ایک نیا پروگرام انرجی فار آل متعارف کرایا جا رہا ہے جس کیلئے ابتدائی طور پر ساڑھے بارہ ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔ داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کیلئے 54 ارب روپے، پہلے مرحلے میں 2160 میگاواٹ بجلی پیدا ہو گی۔ ایل این جی سے بجلی پیدا کرنے والے 2 منصوبوں بلوکی اور حویلی کیلئے تقریباً 70 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں اور دونوں منصوبوں سے 2400 میگاواٹ بجلی مہیا ہو گی۔ دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیر کیلئے 21 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں اوراس سے 4500 میگاواٹ بجلی ملے گی۔ نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ 19.6 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں اور اس سے 969 میگاواٹ بجلی ملے گی۔ تربیلا ہائیڈرو پاور فور کیلئے 16.4 ارب روپے مختص کئے جا رہے ہیں جس سے 1410 میگاواٹ اضافی بجلی پیدا ہو گی۔ جامشورو میں 1200 میگاواٹ بجلی کے کول پاور پراجیکٹ کیلئے 16.2 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ کراچی میں 2200 میگاواٹ کے دو ایٹمی توانائی کے ٹو اور کے تھری منصوبے، 600 میگاواٹ کے چشمہ سول نیوکلیئر پاور پلانٹ کے علاوہ ان پر کام جاری ہے۔
جناب سپیکر بجلی کی پیداوار اور مانگ میں فرق ہمارے چیلنج کا صرف ایک پہلو ہے۔ ماضی میں بجلی کی ترسیل اور تقسیم پر بھی کوئی اہم سرمایہ کاری نہیں کی گئی جس کے نتیجے میں اگر ہم بجلی کی پیدوار بڑھا بھی لیں تو صارفین تک اسے پہنچانے کے قابل نہیں ہوں گے۔ اس سال ہم صورتحال کی بہتری کیلئے ہنگامی اقدامات کئے ہیں۔ مٹیاری لاہور سے ٹرانسمیشن لائن کی تعمیر کی جا رہی ہے اور گرڈ سٹیشنوں اور ترسیلی نظام میں بھی بھرپور سرمایہ کاری کی جا ری ہے۔
پانی
اگر پانی کے شعبوں میں سرمایہ کاری نہ کی گئی تو پاکستان کو پانی کی کمی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس کیلئے حکومت ترجیحی بنیادوں پر ڈیم بنانے اور نہروں اور واٹر کورسز کو تعمیر اور بہتر کرنے پر توجہ دے رہی ہے۔ اوپر بیان کئے گئے بڑے منصوبوں کے علاوہ پانی کے شعبے کیلئے 38 ارب روپے مختص کر رہے ہیں جس کا زیادہ تر حصہ آر بی او ڈی ون، آر بی او ڈی ٹو اور کچھی کنال پر خرچ ہو گا۔ مشترکہ طور پر ان تینوں منصوبوں پر 17.7 ارب روپے لاگت آئے گی۔ اور ان کے علاوہ صوبوں میں پانی کی کمی کو پورا کرنے کیلئے بلوچستان، خیبرپختونخواہ، پنجاب اور سندھ میں پانی کے کئی نئے منصوبے شروع کئے جا رہے ہیں۔
قومی شاہراہیں
پاکستان اپنے محل وقوع کی وجہ سے پورے خطے کو آپس میں ملانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس قدرتی طور پر حاصل حیثیت کا زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے اور اسے معاشی ترقی میں بدلنے کیلئے پچھلے چار سال میں ہماری حکومت کی توجہ مواصلاتی نظام میں سرمایہ کاری پر رہی۔ اس مقصد کیلئے پچھلے سال کے 188 ارب روپے کے مقابلے میں جو آنے والے مالی سال میں 320 ارب روپے مختص کئے جا رہے ہیں۔ یاد رہے کہ چار سال پہلے اس شعبے میں صرف 51 ارب روپے مختص کئے جاتے تھے۔ اس شعبے کیلئے مندرجہ ذیل اہم منصوبے یہ ہیں۔ لاہور، عبدالحکیم سیکشن 230 کلومیٹر لمبی شاہراہ کیلئے 48 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔ ملتان سے سکھر موٹروے کے 387 کلومیٹر سیگمنٹ کیلئے 35 ارب روپے، سکھر، حیدر آباد سیکشن کیلئے اڑھائی ارب روپے مختص کئے جا رہے ہیں۔ یہ منصوبے نجی شراکت کے ذریعے زیر تعمیر ہیں۔ کراچی، حیدر آباد موٹروے پر تیزی سے کام جاری ہے اور اس کے ایک حصے کا افتتاح کر دیا گیا ہے۔ جناب سپیکر ڈیرہ اسماعیل خان موٹروے کیلئے 38 ارب روپے،فیصل آباد سے خانیوال تک 184 کلومیٹر لمبی ایکسپریس وے کیلئے 10 ارب روپے، برہان حویلیاں ایکسپریس کیلئے 3 ارب روپے، ٹھاکوٹ حویلیاں کیلئے 26 ارب، ڈیرہ اسماعیل خان، مغل گوٹھ ژوب شاہراہ کیلئے 2.7 ارب روپے، بلوچستان میں خضدار اور پنجگور کے علاقے میں ہوشاب، گواد، تربت وغیرہ کیلئے اڑھائی ارب روپے رکھے گئے ہیں۔
ریلویز
ریلوے مسافروں اور سامان کی سستی، تیز اور آرام دہ ترسیل کا ذریعہ ہے، لہٰذا اس کی ترقی ہماری حکومت کی اہم ترجیحات میں شامل ہے۔ گزشتہ چار سالوں کے دوران ریلوے میں متاثر کن تبدیلیاں لائی جا چکی ہیں۔ ہر سال آمدنی بڑھ رہی ہے۔ مسافروں اور سامان کی نقل و حمل میں نت نئی خدمات کا اجراءکیا جا رہا ہے اور نئی انجن اور بوگیاں شامل کی جا رہی ہیں۔ حکومت اس قومی اثاثے کو دوبارہ بحال کرنے کیلئے پرعزم ہے۔ اگلے مالی سال میں 42.9 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔ اگلے سال کے بجٹ میں مندرجہ ذیل ریلوے کے منصوبے ترجیحاتی بنیاد پر شامل ہیں۔
75 نئے انجنوں کی خریداری کیلئے 15.8 ارب، 830 بوگیوں اور 250 مسافر کوچز کیلئے ساڑھے چار ارب، پشاور تا کراچی ریلوے لائن، جو تکنیکی طور پر ایم ایل ون کے نام سے مشہور ہے، پاکستان کے انفراسٹرکچر میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس کی بہتری اور اپ گریڈیشن کیلئے چین کیساتھ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کئے گئے ہیں۔ یہ ایک عظیم منصوبہ ہے جو پاکستان میں ریلویز کو جدید خطوط پر استوار کرے گا۔ ایم ایل این لائن کی بحالی اور اپ گریڈیشن کی ابتدائی ڈیزائن کیلئے اگلے مالی سال میں4.2 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔ ریلوے کی بہتری پر آپ کے توسط سے وزیر ریلوے کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔