الیکشن2018ء کے بائیکاٹ کا خطرہ بڑھ گیا،تحریک انصاف کے بعد ایک اور اہم سیاسی جماعت نے انکار کردیا

لاہور(ڈیلی خبر) پاکستان مسلم لیگ کے صدر و سابق وزیراعظم چودھری شجاعت حسین نے کہا ہے کہ ان کی پارٹی انتخابی اصلاحات کا حکومتی بل مسترد کرتی ہے، جب تک آئندہ الیکشن کو صاف و شفاف بنانے کیلئے مطلوبہ اصلاحات نہیں کی جاتیں حکومت کے مجوزہ بل پر دستخط نہیں کریں گے۔ چودھری شجاعت حسین نے ایک بیان میں کہا کہ حکومت انتخابی اصلاحات کے نام پر جو بل پارلیمنٹ میں پیش کرنا چاہتی ہے اس میں کوئی چیز نئی نہیں،بنیادی بات یہ ہے کہ الیکشن کمیشن کے موجودہ نظام میں چیف الیکشن کمشنر کی حیثیت برائے نام اوروہ مجبور محض ہے جس کے پاس کوئی اختیار نہیں، وہ الیکشن کمیشن کے باقی ارکان کی اکثریتی رائے کا پابند ہے یعنی اگر کمیشن کے ارکان کی اکثریت کسی جیتے ہوئے رکن اسمبلی کو ناکام قرار دیدے تو چیف الیکشن کمشنر بھی جیتے ہوئے رکن اسمبلی کی دادرسی نہیں کر سکتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ انتخابی اصلاحات کی پارلیمانی کمیٹی کی اب تک سو میٹنگز ہو چکی ہیں جن پر قومی خزانے سے سو کروڑ روپیہ خرچ کرنے کے باوجود صفر نتیجہ افسوسناک ہے، یہ بات بھی سمجھ سے باہر ہے کہ ان میٹنگز کی کارروائی کو ان کیمرہ یعنی خفیہ رکھا گیا ہے جیسے پارلیمانی کمیٹی الیکشن ریفارمز نہیں بلکہ نیوکلیئر ریفارمز کر رہی تھی، پاکستان مسلم لیگ کا مطالبہ ہے کہ پارلیمانی کمیٹی کی اب تک کی تمام کارروائی کو پبلک کیا جائے تاکہ عوام جان سکیں کہ انتخابی اصلاحات کے نام پر حکومت قوم کے ساتھ کیا مذاق کرنے جا رہی ہے۔ چودھری شجاعت حسین نے کہا کہ انتخابی اصلاحات کمیٹی میں پاکستان مسلم لیگ کی نمائندگی سینیٹر مشاہد حسین سید کر رہے تھے جو ان دنوں انڈونیشیاء میں ہیں، میں نے ان کو ہدایت کر دی ہے کہ پاکستان مسلم لیگ کا کوئی نمائندہ حکومتی بل پر دستخط نہیں کرے گا۔واضح رہے کہ اس سے قبل تحریک انصاف بھی انتخابی اصلاحات کا حکومتی بل مسترد کرچکی ہے۔