فیض آباد دھرنا کیس۔ خادم رضوی اور افضل قادری کو گرفتار کر نے کا حکم

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)فیض آباد دھرنا کیس کی انسداد دہشتگردی اور سپریم کورٹ میں سماعت ، انسداد دہشتگردی عدالت نےتحریک لبیک یا رسول اللہ کے سربراہ خادم رضوی کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیدیا، خفیہ اداروں کو یہ نہیں پتہ کہ خادم رضوی کا ذریعہ معاش کیا ہے؟رپورٹ دیکھ کر خوف آر ہا ہے، یہ خطیب ہے، بزنس مین ہے ، کیا ہے؟اربوں کی جائیداد تباہ کر دی اور کسی کو پتہ نہیں یہ شخص کرتا کیا ہے، جسٹس فائز عیسیٰ کے ریمارکس۔ تفصیلات کے مطابق آج فیض آباد دھرنا کیس کی انسداد دہشتگردی اور سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی۔ انسداد دہشتگردی کی عدالت نے عدالت میں پیش نہ ہونے پر تحریک لبیک یارسول اللہ کے سربراہ اور سرپرست علامہ خادم رضوی اور پیر افضل قادری کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔ سپریم کورٹ میں مقدمے کی سماعت کرتے ہوئے جسٹس فائز عیسیٰ نے خادم رضوی سے متعلق خفیہ اداروں کی رپورٹ میں ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ کیا خفیہ اداروں تک کو نہیں پتہ کہ خادم رضوی کا ذریعہ معاش کیا ہے؟یہ شخص خطیب ہے، مولوی ہے ، بزنس مین ہے ، کیا ہے یہ؟رپورٹ دیکھ کر خوف آرہا ہے، پاکستان کو بنانا مشکل جب کہ تباہ کرنا کھیل بن چکا، اربوں کی جائیداد تباہ کر دی گئی اور کسی کو پتہ نہیں یہ شخص کرتا کیا ہے؟کیا اس شخص کا کوئی بینک اکائونٹ ہے؟اٹارنی جنرل کہاں ہیں، اگر کوئی ایسی بات ہےخفیہ معاملات ہیں تو ان کیمرہ بریفنگ دی جائے؟عدالت کے استفسار پر ڈپٹی اٹارنی جنرل نے بتایا کہ اٹارنی جنرل امریکہ میں ہیں جس پر عدالت نے حکم دیتے ہوئے کہا کہ جو بھی عدالت میں پیش کرنا ہے اٹارنی جنرل آفس کے ذریعے پیش کیا جائے ، عدالت نے سماعت 2ہفتے کیلئے ملتوی کر دی۔