بہت بڑی خبر: پاک فوج کا اسپیشل دستہ داعش کی سرکوبی کے لیے بیرون ملک بھیجنے کا فیصلہ ہوگیا

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) سعودی عرب میں پاک فوج کی ایک بریگیڈ بجھوانے کے بعد اس کے پاک فوج وہاں کس کے تابع کام کرے گی؟ اور وہاں پر پاک فوج کی کونسی ذمہ داریاں ہونگیروزنامہ دنیا کے مطابق سینئر صحافی ہارون الرشید کا کہنا ہے کہ حکومتِ پاکستان نے ایک بریگیڈ سعودی عرب بھجوانے کا فیصلہ کیا ہے جو ایک بہت بڑی اور غیر متوقع پیش رفت ہے، خاموشی سے ہونے والی بات چیت کے بعد اس معاملے میں باقاعہ طور پر ایک تجویز ریاض سے موصول ہوگئی ہے، وزیر اعظم سے تبادلہ خیال کے بعد عسکری قیادت نے آمادگی کا اظہار کر دیا ہے اگرچہ ابتداء میں اس کے کچھ تحفظات تھے ۔ سپہ سالار قمر جاوید باجوہ کے دورہ سعودی عرب میں مملکت کی ذمہ دار شخصیات نے ان سے بھی بات چیت کی تھی اور فیصلہ یہ ہوا کہ پاک فوج کسی جارحانہ عمل کا حصہ نہیں بنے گی، دوسرے الفاظ میں پاک فوج سعودی عرب میں رہ کر اپنے فرائض سرانجام دے گی تاہم بہت سی تفصیلات ابھی طے ہونا باقی ہیں، اہم ترین یہ کہ یہ فوج کس طرح اور کس کے احکامات بروئے کار لائے گی؟ اس سلسلے میں ایک متفقہ ضابطہ کار طے کرنے کے لیے غور و فکر اور مذاکرات کا عمل جاری ہے ۔ حکومت پاکستان اور عسکری قیادت کے سامنے نیٹو فورسز کا ماڈل موجود ہے، جس میں فیصلے اتفاقِ رائت سے صادر کیے جاتے ہیں ۔ یہ بھی طے پاچکا ہے کہ سابق آرمی چیف راحیل شریف سعودی عرب چلے جائیں گے جہاں وہ مشترکہ اسلامی فوج کے اتحاد کی قیادت کریں گے لیکن ابھی تک یہ طے نہیں ہوسکا وہاں انکی ذمہ داریاں کیا ہونگی اور وہ کس کے احکامات وصول کریں گے۔ سعودی عرب روانہ کرنے پر پاک فوج میں بعض سطحوں پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں اور کچھ تحفظات اب بھی موجود ہیں۔ احساس یہ کہ اس معاملے کو گزشتہ سال ڈنگ سے نہ نبھایا گیا۔ مملکت سعودی عرب کو کئی طرح کے چیلنجز کا سامنا ہے، دولت اسلامیہ (داعش) کی دہشتگردی کا عنفریت سامنے ہے اور اسکے علاوہ بحرین، کویت اور خود مملکت میں فرقہ وارانہ ہنگام یمن سے کشیدگی کا سلسلہ جاری ہے جبکہ ایران سے بھی، خود شاہی خاندان میں اختلافات موجود ہیں۔ گزشتہ ایک دہائی کے اندر مصر، لیبیا، عراق اور یمن سمیت خطے کے اکثر ممالک میں حکومتیں گرائی گئیں یا وہ خانہ جنگی کا شکار ہوچکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سعودیوں نے عراق اور یمن کے ساتھ منسلک علاقوں سمیت اپنی 6500 کلومیٹر طویل سرحدوں پر باڑ لگانے کا فیصلہ کیا۔ عراق کے ساتھ اسکی 814 کلومیٹر طویل باڑ کے لیے بعض اوقات عظیم دیوار( گریٹ وال آف سعودی عریبیہ) استعمال کی جاتی ہے جو خاص طور پر دولتِ اسلامیہ کو روکنے کے لیے تعمیر کی گئی ، شام کے ساتھ بھی سعودی تعلقات نا خوشگوار ہیں، جہاں روس اور ایران کی مدد سے بشارالاسد کی پوزیشن اب قدرے مضبوط ہے اگرچہ بحران کا خاتمہ نہیں ہوسکا۔ سرمائے کا فیاضانہ استعمال عشروں سے سعودی عرب عالمِ اسلام، بالخصوص عرب ممالک میں رسوخ بڑھانے کی حکمتِ عملی پر پیرا ہے، ادھر فروری 1979ء میں ایران کے اسلامی انقلاب بالخصوص ایران عراق جنگ کے بعد ایرانی حکومت بھی اپنے انقلابی رجحانات پھیلانے کی سعی میں رہی ہے، سعودیوں کے برعکس ایرانیوں نے مسلکی تعلق اور اسلامی انقلاب کے نعرے کو استعمال کرنے کی کوشش کی۔ صرف افغانستان میں ہی بھارتی ایجنسی راء پاکستان مخالف سرگرمیاں نہیں کروا رہی بلکہ ایران سے پاک سر زمین پر داخل ہونے والا بھارتی جاسوس کلبھوشن یادو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ بھارتی خفیہ ایجنسیاں ایران کو بھی پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کی خواہا ہیں جبکہ پاکستانی حکومت کی جانب سے بہترین وقتوں میں اس صورتحال سے نمٹنے کے کوئی بھی منصوبہ بندی نہیں کی جاسکی۔