اسلامی فوجی اتحاد کبھی کامیاب نہیں ہونے دینگے ۔۔۔؟راحیل شریف کے پیچھے کیا سازش ہو رہی ہے۔۔۔نا قابل یقین انکشاف

اسلام آباد(ڈیلی خبر ) قرآن مجید میں زیتون اور انجیر کا ذکر یاد آتا ہےاورشام ، ترکی کا سرحدی علاقہ زیتون کے باغات سے بھرا ہوا ہے۔عرب کی موجودہ صورتحال میں خطرے کو سعودی عرب اور قطر کے اختلافات نے مزید بڑھادیا ہے۔ سعودی عرب نے کئی اہم عرب ممالک کو اپنے ساتھ ملا کر قطر کا اقتصادی بائیکاٹ شروع کردیا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ ساتھ ایران کی حکومت نے بھی حالات کی نزاکت کا احساس نہیں کیا۔ ان ممالک کے حکمرانوں کی انا پرستی ا مت مسلمہ کی ایک پوری نسل کو فرقہ وارانہ لڑائی کی آگ میں جھونک سکتی ہے اور یہی مسلمانوں کے دشمنوں کا اصل ایجنڈا ہے۔یاد کیجئے ! کچھ عرصہ قبل جب سعودی عرب کی سربراہی میں اسلامی ممالک کا ایک فوجی اتحاد تشکیل دیا جارہا تھا تو پاکستانیوں کی اکثریت نے نواز شریف حکومت کو احتیاط کا مشورہ دیا تھا۔ پھر ڈونلڈ ٹرمپ سعودی عرب پہنچے۔ انہوں نے شاہ سلمان کے ساتھ مل کر تلواروں کے سائے میں رقص کیا اور ابھی اس رقص کا ذکر ختم بھی نہ ہوا تھا کہ اسلامی اتحاد ٹوٹ گیا اور ایک دوسرے کے خلاف صف بندی ہوگئی ہے۔ پاکستانیوں کی اکثریت کا خیال تھا کہ سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف کو نئے فوجی اتحاد کی کمان نہیں سنبھالنی چاہئے لیکن عام پاکستانیوں کی رائے کو کچھ خاص لوگوں نے’’قومی مفاد‘‘ کے منافی قرار دے کر مسترد کردیا۔ نئے حالات نے ثابت کیا کہ زبان خلق نقارہ خدا ہوتی ہے۔ ’’قومی مفاد‘‘ کے نام پر پاکستان کی ساکھ کو عالمی طاقتوں کے مفادات کی بھینٹ چڑھانے کا سلسلہ بند ہونا چاہئے۔فیلڈ مارشل بننے والے راحیل شریف کو سعودی عرب سے واپس بلانے کی ہمت کسی میں نہیں ہے تو وہ خود ہی واپس آجائیں اور پاکستان کو مسلمانوں کی باہمی لڑائی کا فریق نہ بنائیں۔ پاکستان کے آئین کی دفعہ 40کے مطابق ریاست پاکستان عالم اسلام کا اتحاد مضبوط بنانے کی پابند ہے۔سعودی عرب اور قطر کی لڑائی شروع ہوجانے کے بعد کسی پاکستانی کا اس لڑائی کے ایک فریق کے ساتھ کھڑا ہونا دفعہ40کی خلاف ورزی ہے