جن ججز نے پی سی او کا حلف اٹھایا ہو وہ کیسے انصاف دے سکتے ہیں، نوازشریف

اسلام آباد(ڈیلی خبر): سابق وزیراعظم نواز شریف کا کہنا ہے کہ جو اصولوں پر کھڑے رہتے ہیں کبھی ناکام نہیں ہوتے جب کہ جن ججز نے پی سی او کا حلف اٹھایا ہو وہ کیسے انصاف دے سکتے ہیں.اسلام آباد میں لیگی ایم این ایز کی عیادت کے بعد میڈیا سے گفتگو میں نواز شریف کا کہنا تھا کہ جو اصولوں پر کھڑے رہتے ہیں کبھی ناکام نہیں ہوتے، تکلیف ہوتی ہے جب پیپلز پارٹی جیسی جماعت آمروں کے قوانین کو سپورٹ کرے، پیپلز پارٹی سے ہونے والے میثاق جمہوریت پر اب بھی قائم ہوں جب کہ نہ کبھی این آر او کیا اور نہ ہی کروں گا۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ تحریک انصاف سے زیادہ توقع نہیں ہے، ان کی سیاست جمہوریت کے لیے نہیں ہے جب کہ میں جو بھی جدوجہد کر رہا ہوں اپنی ذات کے لیے نہیں پاکستان کے لیے کر رہا ہوں، اپنی ذات پر ملک اور قوم کو ترجیح دیتا ہوں، انہوں نے کہا کہ میں تحریک انصاف کی طرف دیکھنا بھی پسند نہیں کرتا، تحریک انصاف، جھوٹ، بہتان اور الزام تراشی کی سیاست کرتی ہے۔

نواز شریف کا کہنا تھا کہ جن ججز نے پی سی او کا حلف اٹھایا ہو وہ کیسے انصاف دے سکتے ہیں جب کہ عدالتوں سے انصاف کی امید نہیں ہے،وقت بدل گیا اور اب کوئی آمر کے اقدامات کو تحفظ نہیں دے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ میری نااہلی ختم کرنے والا بل ملک کا مستقبل روشن بنانے والا بل ہے جب کہ آئین، قانون اور جمہوریت کے لیے ہر قربانی دینے کے لیے تیار ہوں۔اس سے قبل احتساب عدالت میں پیشی کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیراعظم نے کہا کہ عدلیہ کے فیصلوں کی وجہ سے معیشت پر ضرب پڑی اور ہماری حکومت کو چین کے ساتھ کام نہیں کرنے دیا گیا، گاڈ فادر اور اطالوی مافیا کے الفاظ عدالتوں کو زیب نہیں دیتے، ججوں نے پاناما کے بجائے اقامہ پر سزا دی، ہمارے لیے عدالت کا پیمانہ کچھ اور ہے۔سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی پر افسوس ہے اس نے آمروں کے قانون کو سپورٹ کیا، مجھے پی ٹی آئی سے گلہ نہیں کیونکہ وہ سیاسی جماعت نہیں اور جمہوریت کےقریب سے بھی نہیں گزری، میں اپنی جماعت اور اتحادیوں کو مبارکباد دیتا ہوں، آپ نے کل دیکھ لیا پارلیمنٹ نے اہم فیصلہ کیا کہ وہ آمروں کے کالے قوانین کو تحفظ دینے کے لیے تیار نہیں۔نواز شریف کا کہنا تھا کہ عدالتوں کا دہرا معیار سامنے آرہا ہے، کھیل کے اصول مساوی ہونے چاہئیں، پی ٹی آئی رہنماؤں عمران خان، جہانگیر ترین اور علیم خان کے خلاف بھی کرپشن کے مقدمات ہیں، ہمارے خلاف تو فیصلے جلدی آ جاتے ہیں، ان کے فیصلے کب آئیں گے، خیبرپختونخوا کا وزیراعلیٰ سرکاری خرچ پر جلوس کی قیادت کرنے آتا ہے۔
سابق وزیراعظم نے مزید کہا کہ ہمارے دور میں اللہ کے فضل کرم سے خوشحالی و بجلی آئی اور بے روزگاری ختم ہوئی، جبکہ ملک میں جی ڈی پی ریٹ 3 سے بڑھ کر 5 فیصد ہوگیا، 2014 سے دھرنے جاری ہیں اور کسی نہ کسی شکل میں چلتے رہے، حکومت کو چین سے کام نہیں کرنے دیا گیا لیکن دھرنوں کے باوجود ہم نے ڈلیور کیا اور بجلی فراہم کی۔دریں اثنا اسلام آباد کی احتساب عدالت میں شریف خاندان کے خلاف دائر کرپشن سے متعلق 3 نیب ریفرنسز کی سماعت ہوئی۔ سابق وزیر اعظم نواز شریف، ان کی صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن صفدر حاضری سے استثنیٰ کے باوجود سماعت کے لیے احتساب عدالت میں پیش ہوئے۔ نواز شریف نے کمرہ عدالت میں صحافیوں سے پوچھا کہ آج کی کیا تازہ خبر ہے، جس پر صحافیوں نے جواب دیا کہ آپ حاضری سے استثنیٰ ملنے کے باوجود آج عدالت کے سامنے پیش ہو گئے۔سماعت کے آغاز پرنواز شریف اور مریم نواز نے حاضری سے استثنیٰ کی مدت میں تبدیلی کی درخواست جمع کرائی۔ درخواست میں مریم نواز نے موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ حاضری سے استثنیٰ کی مدت 5 دسمبر سے 5 جنوری کی جائے۔ عدالت نے درخواستوں پر نیب سے جواب طلب کرتے ہوئے تینوں ملزمان کو 28 نومبر کو دوبارہ طلب کرلیا۔ آج سماعت میں تین گواہوں ملک طیب، شہباز اور مظہر بنگش کے بیانات قلمبند ہوگئے اور ان پر جرح بھی مکمل ہوگئی۔ وکیل نے کہا کہ نواز شریف کو 5 دسمبر سے 12 دسمبر جبکہ مریم نواز کو 5دسمبر سے 5 جنوری تک استثنی دیا جائے۔
15 نومبر کی سماعت میں عدالت نے سابق وزیراعظم نوازشریف کو 20 سے 27 نومبر تک ایک ہفتے کے لیے لندن جانے کی اجازت دی تھی جب کہ مریم نواز کو ایک ماہ کے لیے حاضری سے استثنیٰ دیا تھا۔دوران سماعت نواز شریف کے وکیل اور نیب پراسیکیوٹر میں گرما گرمی ہوئی اور تلخی اس قدر بڑھ گئی کہ جج محمد بشیر کو یہ کہنا پڑگیا کہ کیا وہ سماعت ادھوری چھوڑ کر چلے جائیں۔ نیب کے گواہ پر جرح کے دوران نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ ان کے گواہ کو کنفیوز کیا جا رہا ہے۔ خواجہ حارث نے کہا کہ نیب پراسیکیوٹر بے جا مداخلت کرتے ہیں اس پر مجھے اعتراض ہے، جب تک گواہ نہ بولے یہ اسے کیوں لقمہ دیتے ہیں۔نیب پراسیکیوٹر افضل قریشی نے کہا کہ ہم لقمہ دینے کے لئے ہی کھڑے ہیں ، کیا خواجہ صاحب گواہ سے کچھ بھی پوچھیں اور ہم خاموش رہیں؟ ۔ جج محمد بشیر نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے لڑنا ہے تو پھر میں چلا جاتا ہوں اور یہ تو سادہ سا گواہ ہے۔نواز شریف کے عدالت پہنچنے پر کارکنان نے پھولوں کی پتیاں نچھاور کرکے ان کا استقبال کیا۔ نواز شریف کو عدالت کی جانب سے 7 روز کے لیے استثنیٰ حاصل تھا تاہم پروگرام میں تبدیلی کے باعث وہ آج عدالت میں پیش ہوگئے۔ عدالت نے استغاثہ کے چار گواہان کو طلب کیا تھا۔ گواہان میں ملک طیب، شہباز، مظہر بنگش اور راشد شامل ہیں۔واضح رہے کہ نواز شریف نیب ریفرنسز کیس میں ساتویں مرتبہ اور ان کی صاحبزادی مریم نوازاور کیپٹن صفدر نویں باراحتساب عدالت میں پیش ہوئے ہیں۔