پانامہ کے فیصلے سے کچھ دیرقبل…مولانافضل الرحمن میدان میں آگئے….بڑا مطالبہ کر دیا

اسلام آباد(ویب ڈیسک)مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ پانامہ ایشو پر قوم کا وقت ضائع کیا جا رہا ہے۔ پاناما فیصلہ کا انتظار کرنے سے کوئی طوفان نہیں آئے گا۔ بدھ کو صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ ہم مشال خان قتل کی شدید مذمت کرتے ہیں لیکن اس واقعے کی آڑ میں ناموس رسالت قانون میں کسی بھی قسم کی تبدیلی قابل قبول نہیں، ملالہ واقعہ ہو یا مشال کیس، یہ سیکولرایجنڈے کی کڑیاں ہیں۔انہوں نے کہا کہ عبدالولی خان یونیورسٹی میں توہین رسالت و مذہب کے الزام میں شامل خان کے قتل میں ملوث مجرموں کو قرار واقعی سزا دی جائے تاکہ آئندہ کوئی اسلام کو غلط اور ناجائز مقاصد کے لئے استعمال نہ کرسکے۔ ہم نے ہمیشہ ایسے واقعات کی مذمت کی ہے تشدد کے واقعات کبھی بھی ملک اور معاشرے کے لئے مفید نہیں ہیں لیکن جو لوگ اس واقعہ کو سہارا بنا کر توہین رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قانون میں تبدیلی کے راستے ہموار کرنا چاہتے ہیں، ان کو واضح پیغام دینا چاہتے ہیں کہ یہ مہم جوئی سر نہیں ہو سکتی۔قومی وطن پارٹی کے سربراہ آفتاب احمد شیرپاؤ نے کہا کہ پانامہ کیس کے فیصلے پر تبصرہ کرنا قبل از وقت ہوگا تاہم ہم چاہتے ہیں پانامہ کیس کا فیصلہ آئین اور قانون کے مطابق ہو پانامہ کیس ہائی پروفائل کیس ہے،اس کا آئندہ انتخابات پر اثر پڑے گا،اس ملک کا وزیراعظم اور ان کا خاندان پانامہ کیس کے متعلق عدالت عظمیٰ کے ریمارکس سے عوام کی توقعات بڑھ گئی ہیں تاہم ابھی عام انتخابات میں ایک سال پڑا ہے،آگے بڑھنے کی ضرورت ہے ضروری نہیں کہ وزیراعظم نوازشریف نااہل ہوجائیں تو انتخابات فوری طور پر کروادئیے جائیں،عام انتخابات مقررہ وقت پرہوں گے