میں نے نیدرلینڈ کے خلاف یہ سخت قدم اس لئے اٹھایا کیونکہ۔۔۔‘ طیب اردگان نے ایسی بات بتادی کہ سن کر ہر مسلمان ترکی کی حمایت میں اٹھ کھڑا ہوگا

انقرہ (مانیٹرنگ ڈیسک) ترکی اور نیدر لینڈز کی سفارتی لڑائی اب انتہائی خطرناک مرحلے میں داخل ہوگئی ہے۔ اس کا اندازہ ترک صدر رجب طیب اردگان کی جانب سے جاری کئے گئے ایک تہلکہ خیز بیان سے کیا جاسکتا ہے، جس میں انہوں نے نیدرلینڈز کو یورپ میں مسلمانوں کے سب سے بڑے قتل عام کا ذمہ دار قرار دے دیا۔ انہوں نے اپنے ایک خطاب میں مشرقی بوسنیا میں پیش آنے والے اس المناک واقعے کا ذکر کیا جس میں 8ہزار سے زائد مسلمان مردوں اور لڑکوں کو بے دردی سے قتل کردیا گیا تھا۔ جب 1995ءمیں یہ دردناک واقعہ پیش آیا تو مشرقی بوسنیا میں نیدرلینڈز کے فوجیوں کی ایک بٹالین اقوام متحدہ کی امن فوج کے تحت تعینات تھی۔ ترک صدر کا کہنا تھا کہ یہ نیدرلینڈز کی فوج ہی تھی جس کی ناک کے نیچے ہزاروں بے گناہ مسلمانوں کا قتل عام کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا ”ہم نیدرلینڈز کو سربرنیکا قتل عام کے حوالے سے جانتے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ 8ہزار بوسنیائی مسلمانوں کا قتل کرنے والوں کا کردار کس قدر بھیانک ہے۔“ترک صدر کے اس بیان پر نیدرلینڈز میں ہنگامہ برپاہوگیا ہے۔ نیدرلینڈز کے وزیراعظم مارک رٹ نے ترک صدر کے بیان کو ”تاریخ کی نفرت انگیز تحریف“ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا”ہم خود کو اس حد تک نہیں گرائیں گے۔ یہ بات مکمل طور پر ناقابل قبول ہے۔“ واضح رہے کہ ترکی میں عنقریب صدارتی اختیارات سے متعلق ریفرنڈم منعقد ہونے والا ہے۔ نیدرلینڈز نے اپنے ملک میں ترک رہنماﺅں کی سیاسی سرگرمیوں پر پابندی عائد کی، جس کے جواب میں ترکی نے بھی نیدرلینڈز کے سفارتکاروں اور وزراءپر پابندیاں عائد کیں۔ دونوں ممالک کے درمیان یہ تلخی گزشتہ چند روز کے درمیان انتہائی تیزی سے بڑھی ہے اور اب صورتحال مکمل سفارتی مقاطعے کی جانب بڑھ رہی ہے۔ دوسری جانب نیدرلینڈز میں بھی انتخابات سر پر ہیں، اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایسی صورت میں یہ توقع کرنا مشکل ہے کہ یہ تنازع جلد ختم ہوسکے گا۔