دنیا کا سب سے طاقتور ایٹم بم کس ملک کے پاس ہے اور یہ کتنی تباہی مچاسکتا ہے؟ جواب آپ کے تمام خیالات غلط ثابت کردے گا، یہ امریکہ نہیں بلکہ۔۔۔

ماسکو (نیوز ڈیسک)آج کل دنیا کے طاقتور ترین بموں کا خوب چرچاہورہا ہے۔ پہلے امریکہ نے ”تمام بموں کی ماں“ کہلانے والا طاقتور بم افغانستان کے صوبہ ننگر ہار میں گرا کر تہلکہ برپا کر دیا اور اس کے بعد روس کے ایم او پی بم کا انکشاف سامنے آیا، جسے ”تمام بموں کا باپ“ قرار دیا گیا۔ کہا جاتاہے کہ یہ ”تمام بموں کی ماں“ سے بھی چار گنا زیادہ طاقتور ہے۔ روس نے اسی انکشاف پر اکتفا نہیں کیا بلکہ اب اس خوفناک ہتھیار کا راز بھی دنیا کے سامنے کھول دیا ہے جسے انسانی تاریخ کا طاقتور ترین ایٹم بم قرار دیا جا سکتا ہے۔ اس کا نام ”زار بمبا“ یا ”بگ ایوان“ ہے اور اس کی طاقت 50 میگا ٹن بتائی گئی ہے، یعنی یہ امریکہ کی جانب سے دوسری جنگ عظیم کے دورن جاپانی شہر ہیروشیما پر گرائے گئے ایٹم بم سے ساڑھے تین ہزار گنا طاقتور ہے۔’جب جنگ ہوگی تو کوئی امریکی فوجی اپنی جگہ سے ہل بھی نہ سکے گا اور ہم اس ہتھیار سے سب تباہ کردیں گے‘ روس دنیا کا خطرناک ترین ہتھیار منظر عام پر لے آیا، پل بھر میں کیا کرسکتا ہے؟ جان کر امریکی فوج کے واقعی ہوش اُڑجائیںرپورٹ کے مطابق جب اس بم کو ٹیسٹنگ کے لئے آرکیٹک سرکل میں گرایا گیا تو اس کے ساتھ خصوصی طور پر ایک پیراشوٹ باندھا گیا تاکہ اس کے پھٹنے سے قبل بمبار طیارے کو علاقے سے کم از کم 28میل کی دوری پر نکل جانے کا موقع مل سکے۔ کہا جاتا ہے کہ جب ٹیسٹ سائٹ پر یہ بم پھٹا تو آگ کے شعلے 35 میل کی بلندی تک گئے۔ ان شعلوں کو 650 میل کی دوری پر موجود لوگوں نے بھی دیکھا جبکہ گہرے سیاہ دھویں کے مرغولے ماﺅنٹ ایورسٹ سے بھی زیادہ بلند تھے۔ روسی میڈیا کا کہنا ہے کہ اس ایٹمی تجربے کے نتیجے میں ٹیسٹ سائیٹ سے 34 میل کی دوری پر واقع ایک گاﺅں مکمل طور پر تباہ ہوگیا۔ خوش قسمتی سے اس گاﺅں کے رہنے والوں کو تجربے سے پہلے ہی محفوظ مقام پر منتقل کردیا گیا تھا۔