ٹرمپ نے خواتین کیخلاف جو باتیں کی ہیں وہ ناقابل قبول،اپنی بات کہنے سے نہیں ڈروں گی:برطانوی وزیر اعظم تھریسامے

لندن(ڈیلی خبر)برطانوی وزیر اعظم تھریسامے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سامنے ڈٹ گئی ہیں،انہوں نے کہا ہے کہ ٹرمپ نے خواتین کیخلاف جو باتیں کی ہیں وہ ناقابل قبول ہیں،اپنی بات کہنے نہیں ڈروں گی۔برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق جمعے کے روز وزیر اعظم تھریسامے اور ڈونلڈ ٹرمپ کی وائٹ ہاو¿س میں ملاقات متوقع ہے۔تھریسا مے ڈونلڈ ٹرمپ کے صدارت سنبھالنے کے بعد پہلی بین الاقوامی رہنما ہیں جو کہ امریکہ کا دورہ کر رہی ہیں،ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور سکیورٹی کے معاملات پر بات چیت متوقع ہے۔تھریسا مے نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان خصوصی رشتے کا مطلب یہ ہی تھا کہ دونوں جانب سے مشکل باتیں کی جانے کی چھوٹ ہے، خواتین کے حقوق کے تحفظ کا ان کا اہم ٹریک ریکارڈ ہے۔ امریکہ سمیت دنیا بھر میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف ’خواتین مارچ‘ کے لیے لاکھوں مظاہرین جمع ہو رہے ہیں۔انہوں نے کہا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ سے مل کر ماضی میں امریکہ اور برطانیہ کے مضبوط رشتے کو آگے بڑھانے کی توقع ہے، ڈونلڈ ٹرمپ کے خواتین کے بارے میں بیانات کو اس ملاقات میں زیرِ بحث لاﺅں گی،میں پہلے ہی کہہ چکی ہوں کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے خواتین کے بارے میں جو باتیں کی ہیں ان میں سے کچھ انتہائی ناقابلِ قبول ہیں اور ان میں سے کچھ کے لیے انھوں نے معافی بھی مانگی ہے۔تھریسا مے کا کہنا تھا کہ امریکی صدر ک ساتھ برابری پر ملاقات اور مذاکرات کر کے وہ خواتین کے کردار کے بارے میں ایک اہم پیغام دے رہی ہیں،اپنی جانب سے جدید غلامی اور گھریلو تشدد سے متعلق متعارف کروائے گئے قوانین کا حوالہ دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اقتدار میں آ کر خواتین کے مفادات کا خیال رکھنے کا ان کا ریکارڈ موجود ہے۔واضح رہے دنیا بھر میں 600 کے قریب ریلیاں ہوئی ہیں جو ڈونلڈ ٹرمپ کے عہدہ صدارت پر فائز ہونے کے پہلے دن نکالی گئی ہیں،ان ریلیوں کا مقصد خواتین کے حقوق کو اجاگر کرنا ہے جن کے بارے میں مظاہرین کو خدشہ ہے کہ نئی انتظامیہ کے زیراثر ان حقوق کو خطرہ لاحق ہے۔