پاکستان میں بیٹھے حقانی نیٹ ورک کے افراد کے افغانستان میں حملے کے الزامات، پاک فوج نے امریکہ اور افغانستان کوواضح جواب دیدیا

راولپنڈی(مانیٹرنگ ڈیسک) ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ پاکستان میں حقانی نیٹ ورک کی موجودگی کا الزام بے بنیاد ہے، یہ کہنا غلط ہے کہ پاکستان میں بیٹھے حقانی نیٹ ورک کے افراد افغانستان میں حملے کررہے ہیں کیونکہ حقانیوں کا تعلق افغانستان سے ہے ۔ ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ ملک میں جمہوریت چلنا ضروری ہے اگر جمہوریت کے ثمرات عوام تک پہنچتے رہیں تو جمہوریت کو کوئی خطرہ نہیں،وقت پر انتخابات الیکشن کمیشن کو کرانے ہیں ،آئینی حدود میں انتخابات سے

متعلق جو بھی احکامات ملیں گے اس پر عمل درآمد کریں گے، بھارتی جارحیت کا سرحد پر بھرپور جواب دیا جارہاہے، کوئی مس ایڈونچر ہوگا تو اس کا جواب دینگے اور دیا جاتا رہے گا،مقبوضہ کشمیر میں آزادی کی جدوجہد بھارت کے قابو سے باہر ہورہی ہے ،ایل او سی پر بھارتی جارحیت کا ایک مقصد مسئلہ کشمیر سے دنیا کی توجہ ہٹانا ،دوسرا مقصد دہشت گردی کے خلاف جنگ سے ہماری توجہ ہٹانا ہے، پاکستان میں حقانی نیٹ ورک کی موجودگی کا الزام بے بنیاد ہے۔نجی ٹی وی کے مطابق ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ ملک میں جمہوریت چلنا ضروری ہے اگر جمہوریت کے ثمرات عوام تک پہنچتے رہیں تو جمہوریت کو کوئی خطرہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ آرمی چیف جنرل قمر باجوہ بھی جمہوریت کے حامی ہیں انہوں نے ہمیشہ کہا ہے کہ وہ آئین اور قانون پر یقین رکھتے ہیں اسی لئے وہ سینیٹ میں جانیوالے پہلے آرمی چیف بھی ہیں۔انہوں نے کہا کہ وقت پر انتخابات الیکشن کمیشن کو کرانے ہیں البتہ آئینی حدود میں انتخابات سے متعلق جو بھی احکامات ملیں گے اس پر عمل درآمد کریں گے۔انہوں نے کہا کہ آرمی چیف نے لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری کا دورہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی جارحیت کا سرحد پر بھرپور جواب دیا جارہاہے۔بھارت نے کئی بار سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزیاں کیں۔ انہوں نے کہا کہ کوئی مس ایڈونچر ہوگا تو اس کا جواب دیں گےاور دیا جاتا رہے گا انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں آزادی کی جدوجہد بھارت کے قابو سے باہر ہورہی ہے جبکہ ایل او سی پر بھارتی جارحیت کا ایک مقصد مسئلہ کشمیر سے دنیا کی توجہ ہٹانا اور دوسرا مقصد دہشت گردی کے خلاف جنگ سے ہماری توجہ ہٹانا ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک میں استحکام بہت ضروری ہے، ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ فوج عوام کی فوج ہے اور عوام کی بہتری کیلئے فوج کو جو کرنا پڑے گا کریں گے۔