بلوچستان میں قتل کیے جانیوالے 15 پنجابی نوجوان دراصل کون تھے اور وہاں کیا کام کرتے تھے؟ بلوچستان لبریشن فرنٹ نے ذمہ داری قبول کرلی، قتل کی وجہ بھی بتادی

کوئٹہ ، لاہور(ڈیلی خبر) بلوچستان کے ضلع کیچ میں پنجاب سے تعلق رکھنے والے 15 افراد کی نعشیں برآمد ہوئی ہیں جنہیں گاڑی سے اتار کر گولیاں ماری گئی تھیں ، مقامی حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ ہلاک شدگان غیرقانونی طور پر ایران کے راستے خلیجی ممالک اور یورپ جانے کی کوشش کر رہے تھے لیکن دراصل کہانی کچھ اور نکلی اور بلوچستان لبریشن فرنٹ نے ہلاکتوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے وجہ بھی بتادی ۔
بلوچستان حکومت کے ترجمان انوار الحق کاکڑ نے بھی تصدیق کی کہ ہلاک شدگان کا تعلق پنجاب کے مختلف اضلاع سے ہے اور ہلاکت کی ذمہ دار کالعدم شدت پسند تنظیم بلوچستان لبریشن فرنٹ ہے، بلوچستان لبریشن فرنٹ نے بھی ایک بیان میں ذمہ داری قبول کی ہے۔
مائیکروبلاگنگ ویب سائٹ ٹوئٹر پر بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان نے ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہاکہ” بی ایل ایف کے جنگجوﺅں نے 15افراد کو گرفتار کرکے سزادی جو پاکستانی عسکری تعمیراتی کمپنی فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (ایف ڈبلیواو) کے ساتھ کام کررہے تھے ، ان کی ایف ڈبلیو او کیساتھ کام کرنے کی اعترافی ویڈیوز جلد جاری کی جائیں گی “۔

دوسری طرف جاں بحق ہونیوالے افراد کی لاشوں کی آبائی علاقوں میں منتقلی کے انتظامات مکمل کرلیے گئے ہیں جبکہ 15میں سے 11لاشوں کی شناخت کرلی گئی ۔ اہلخانہ کے مطابق مرنیوالے افراد بیرون ملک جارہے تھے تاہم بی ایل اے نے حیران کن دعویٰ کردیا۔ جاں بحق ہونے والوں میں محمد حسین کا تعلق واہ کینٹ، اظہر وقاص، خرم شہزاد اور ذوالفقار کا تعلق منڈی بہاءالدین، غلام ربانی اور احسن رضا کا تعلق ضلع گوجرانوالہ، سیف اللہ کا تعلق گجرات، محمد الیاس کا ڈسکہ، عبدالغفور اور طیب کا تعلق سیالکوٹ سے تھا جبکہ جن 4 افراد کی نعشوں کی شناخت نہیں ہو سکی ان میں سے دو کی عمریں 20 سے کم اور دو کی 35 سال کے قریب ہیں۔مقامی اخبار کے مطابق غیرقانونی طور پر ایران کے ذریعے یونان جانے والے گجرات کے نواحی گاﺅں ٹانڈہ کے علاقہ ڈب کا رہائشی 2 بچوں کا باپ 39سالہ سیف اللہ 20روز قبل گجرات سے کوئٹہ کے راستے تربت، ایران اور یونان جانے کیلئے گیا تھا۔ قتل ہونے والے چار افرادکا تعلق منڈی بہاءالدین کے علاقوں ملکوال، ریڑکابالا، چاڑاں والا اور واڑا چامیاں سے ہے، انہیں انسانی سمگلر نے ایک لاکھ روپے میں منڈی بہاءالدین سے یونان لیکر جانے کا جھانسہ دیا اور سنہرے خواب دکھاکر انہیں بلوچستان کے راستہ ایران لیکر جا رہا تھا۔