غیبی آوازیں سننے والے عاشق رسول ﷺکی ایسی کرامات جو آپ کے ایمان کو تازہ کردیں

(ڈیلی خبر)آپ کی آواز اور لہجہ میں اتنی زبردست کشش تھی کہ اس کو کرامت کے سوا اور کچھ بھی نہیں کہا جاسکتا۔ حضرت امیر المومنین عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ جب حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کو دیکھتے تو فرماتے: ’’اے ابو موسیٰ ہم کو اپنے رب کی یاد دلاؤ‘‘ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ یمن کے باشندے تھے‘ مکہ مکرمہ میں آکر اسلام قبول کیا۔ پہلے ہجرت کرکے حبشہ چلے گئے‘ پھر حبشہ سے کشتیوں پر سوار ہوکر تمام مہاجرین حبشہ کے ساتھ آپ بھی تشریف لائے اور خیبر میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے 20 ہجری میں ان کو بصرہ کا گورنر مقرر فرمایا اور حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کی شہادت تک یہ بصرہ کے گورنر رہے۔ 52 ہجری میں آپ کی وفات مکہ مکرمہ میں ہوئی۔ (اکمال ص618) غیبی آواز سنتے تھے: آپ کی یہ ایک خاص کرامت تھی

کہ غیبی آوازیں آپ کے کان میں آیا کرتی تھیں چنانچہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کا بیان ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ سمندری جہاد میں امیر لشکر بن کرگئے۔ رات میں سب مجاہدین کشتیوں پر سوار ہوکر سفر کررہے تھے کہ بالکل ناگہاں اوپر سے ایک پکارنے والے کی آواز آئی: ’’کیا میں تم لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے اس فیصلہ کی خبر دے دوں جس کا وہ اپنی ذات پر فیصلہ فرماچکا ہے؟ یہ وہ ہے کہ جو اللہ تعالیٰ کیلئے گرمی کے دنوں میں پیاسا رہے گا۔ اللہ پر حق ہے کہ پیاس کے دن (قیامت) میں ضرور ضرور اس کو سیراب فرمادے گا۔‘‘ (حجۃ اللہ ج2، ص872 بحوالہ حاکم) لحن داؤدی: آپ کی آواز اور لہجہ میں اتنی زبردست کشش تھی کہ اس کو کرامت کے سوا اور کچھ بھی نہیں کہا جاسکتا۔ حضرت امیر المومنین عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ جب حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کو دیکھتے تو فرماتے: ’’اے ابو موسیٰ ہم کو اپنے رب کی یاد دلاؤ‘‘ یہ سن کر حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ قرآن شریف پڑھنے لگتے ان کی قرأت سن کر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کے قلب میں ایسی نوری تجلی پیدا ہوجاتی کہ انہیں دنیا سے دوری اور اپنے رب کی حضوری نصیب ہوجاتی تھی۔ حضرت بریدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کا بیان ہے کہ حضور اقدس ﷺ نے حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کی قرأت سنی تو ارشاد فرمایا کہ حضرت داؤد علیہ الصلوٰۃ والسلام کی سی خوش الحانی اس شخص کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کی گئی ہے۔ (کنزالعمال ج16 ص218) خشک نالہ میں ناگہاں سیلاب: حضرت غالب بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کا وطن مکہ مکرمہ ہے اور یہ فتح مکہ سے پہلے ہی مسلمان ہوگئے تھے۔ فتح مکہ میں یہ حضور اقدس شہنشاہ کونین ﷺ کے ہمرکاب تھے اور آپ نے ان کو مکہ مکرمہ کے راستوں کے درستی اور کفار کے حالات کی جاسوسی کے کام پر مامور فرمایا۔ پھر فتح مکہ کے بعد ساٹھ سواروں کا افسر بنا کر آپ نے ان کومقام کدید میں بنی الملوح سے جنگ کیلئے بھیج دیا۔حضرت جندب بن مکیث جہنی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت غالب بن عبداللہ لیثی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کو ایک چھوٹے سے لشکر کا امیر بنا کر جہاد کیلئے بھیجا۔ میں بھی اس لشکر میں شامل تھا۔ ہم لوگوں نے مقام ’’کدید‘‘ میں قبیلہ بنی الملوح پر حملہ کیا اور ان کے اونٹوں کو مال غنیمت بنا کر واپس آنے لگے۔ ابھی ہم لوگ کچھ دور ہی چلے تھے کہ بنو الملوح کے تمام قبائل کا ایک بہت بڑا لشکر جمع ہوکر ہمارے تعاقب میں آگیا۔ ہم لوگ ایک نالے کے پار آگئے جو بالکل ہی خشک تھا اور ہم لوگوں کو بالکل ہی یقین ہوگیا کہ اب ہم لوگ ان کافروں کے ہاتھوں میں گرفتار ہوجائیں گے مگرکفار جب نالہ کے پاس آئے تو باوجودیکہ نہ بارش ہوئی نہ بدلی کسی طرف سے نظر آئی‘ اچانک نالہ پانی سے بھرگیا اور اس زور و شور سے پانی کا بہاؤ تھا کہ اس نالہ کو پار کرنا انتہائی دشوار تھا چنانچہ کفار کا لشکر نالہ کے پاس ٹھہر گیا اور ایک کافر بھی نالہ کو پار نہ کرسکا اور ہم لوگ نہایت ہی اطمینان اور سلامتی کے ساتھ مدینہ منورہ پہنچ گئے۔ (حجۃ اللہ ج 2، ص872 بحوالہ ابن سعد) خشک نالہ میں اچانک پانی بھر جانا یہ حضرت غالب بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کی کرامت ہے اور ان کی اسی کرامت کی وجہ سے تمام صحابہ اکرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی جان بچ گئی۔ زیادہ آزمائشیں کس پر آتی ہیں؟:حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہٗ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضور اقدس ﷺ سے عرض کیا: یارسول اللہ! لوگوں میں سب سے زیادہ آزمائشیں کس پر آتی ہیں؟‘‘ حضور اقدس ﷺ نے فرمایا: ’’ سب سے زیادہ آزمائشیں انبیاء (علیہ الصلوٰۃ والسلام) پر اور پھر نیک لوگوں پر اور پھر ان کے مثل لوگوں پر آتی ہیں‘ آدمی کو اس کے دین کے اعتبار سے آزمایا جاتا ہے‘ اگر وہ دین میں مضبوط تو اس کے آزمائش میں زیادتی کردی جاتی ہے اور اگر وہ دین میں کمزور ہو تو اس کی آزمائش میں بھی کمی کردی جاتی ہے۔ بندے پر مصائب اور آزمائشیں آتی رہتی ہیں یہاں تک کہ وہ زمین پر اس حال میں چلتا ہے کہ اس کے ذمہ ایک گناہ بھی نہیں ہوتا۔‘‘ (رواہ احمد‘1400) حضور نبی کریم ﷺ کا کھانا مبارک: حضرت سعد رضی اللہ عنہٗ فرماتے ہیںکہ ایک مرتبہ حضور ﷺ کے پاس کھانا لایا گیا جو ایک بڑے برتن میں تھا۔ حضور ﷺ نے اس میں سے کھانا تناول فرمایا لیکن اس میں سے کچھ کھانا بچ گیا۔ اس موقع پر حضور اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’اس کشادہ راستہ سے ایک جنتی آدمی آئے گا جو اس باقی ماندہ کھانے کو کھائے گا‘‘ حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ فرماتے ہیں کہ میں اپنے بھائی عمیر رضی اللہ عنہٗ کو وضو کرتا چھوڑ آیا تھا اور میرا خیال تھا کہ وہی آکر اس (مبارک) کھانے کو کھائیں گے لیکن حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہٗ تشریف لائے اور اس (مبارک) کھانے کو تناول فرمالیا۔