کم بجلی خرچ کرنے والے انرجی سیورز: مگر یہ دراصل کتنی خطرناک چیز ہیں ؟ خبر پڑھ کر آپ کے ہوش اڑ جائیں گے

پشاور (ویب ڈیسک) دودھیا روشنی کا آج کل سب سے بڑا منبع ہے انرجی سیورز ہیں، لیکن یہ بہت کم لوگوں کے علم میں ہے کہ انرجی سیورز میں استعمال ہوتا ہے پارہ انسانی جسم کیلئے انتہائی خطرناک ہے۔ پارے کا استعمال اور برقی اشیاء میں بھی کیا جا رہا ہے لیکن اس سے نہ صرف ٹی بی بلکہ کینسر اور پھیپھڑے کے مہلک امراض بھی پھیل رہے ہیں۔2011ء میں کئے جانے والے ایک سروے کے مطابق پاکستان میں اس وقت پانچ کروڑ 65 لاکھ سے زائد دودھیا روشنی دینے والے بلب استعمال کئے جا رہے ہیں۔ جن میں استعمال کیا جانے والا پارہ انتہائی خطرناک ہے۔ انرجی سیور کے ناکارہ ہونے کے بعد انہیں تلف کرنے کا کوئی نظام اور قانون بھی وطن عزیز میں موجود نہیں ہے۔ فیکٹریوں میں کام کرنے والے ورکرز بھی ان کے نقصانات سے بے خبر ہیں۔بین الاقوامی اداروں کی جانب سے اب پارے سے بنی برقی اشیاء پر پابندی کیلئے عالمی سطح پر مہم چلائی جا رہی ہے۔ انرجی سیور کو ناکارہ ہونے کے بعد کھلے عام پھینک دیا جاتا ہے لیکن اس کے کتنے مضر اثرات ہو سکتے ہیں، شہریوں کو اس کا کوئی اندازہ نہیں ہے۔