اگر آپ کا موبائل پانی میں گر جاتا ہے تو اسے چلانا بے حد آسان ہے بس ان باتوں پر عمل کریں

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) قیمتی موبائل فون کی حفاظت کے لیے ہر کوئی فکر مند رہتا ہے اور کوشش یہی رہتی ہے کہ فون ہاتھ سے گر کر ٹوٹ نہ جائے ایسی صورت میں فون قابل مرمت تو ہوجاتا ہے لیکن اگر یہی فون پانی میں گر جائے تو قابل مرمت نہیں رہتا۔ تاہم کچھ ایسے سادے سے طریقے ہیں جنہیں آزما کر پانی میں گرنے کے باوجود فون کو قابل استعمال بنایا جا سکتا ہے اور حغیران کن طور پر یہ طریقے گھر میں ہی آزمائے جا سکتے ہیں اور کسی راکٹ سائنس کی بھی ضرورت نہیں۔ موبائل کو پانی سے نکالیے اور خشک کیجیے جیسے ہی موبائل پانی میں گر جائے تو اسے فوری طور پر پانی سے نکال لیا جائے اور تولیے یا کسی کپڑے کی مدد سے فوری طور اوپری سطح کو مکمل طور پر خشک کر لیا جائے۔ فون کو فوری طور پر آن نہ کریں فون کو پانی سے باہر نکالنے اور اوپری سطح کو مکمل خشک کیے جانے کے باوجود اسے فوری طور پر آن نہ کیجیے اس طرح پانی قطرے سرکٹ میں جا کر شارٹ سرکٹ کا باعث بن سکتے ہیں اور اس طرح فون مکمل طور پو ناکارہ بن سکتا ہے اس لیے فون کو کسی صورت آن نہ کریں جب تک کہ درج ذیل طریقے استعمال نہ کر لیں۔ بیٹری کو خشک کیا جائے اوپری سطح کو مکمل طور پر خشک کرنے کے بعد موبائل کے کور کو ہٹا کر بیٹری کو باہر نکال لیا جائے اور اسے تولیے کی مدد سے صاف کرکے خشک کر لیا جائے۔ سم کارڈ نکالیں موبائل کے بیٹری کو خشک کرنے کے بعد اس میں سم بھی نکال لی جائے اور اسے بھی خشک کیا جائے اسی طرح میموری کارڈ کو بھی نکال کر خشک کیا جائے اور بیٹری، سم اور میموری کارڈ کو ہلکی دھوپ میں رکھ دیا جائے تاہم یاد رہے انہیں زیادہ گرم نہیں ہونے دیں اور فوری طور پر اُٹھالیں۔ ویکیوم کلینیئر اور پنکھے کی مدد لیں موبائل کے اندرونی حصوں کو پانی کے ننھے ننھے قطروں کو صاف کرنے کے لیے ویکیوم کلینیئر کی مدد بھی لی جا سکتی ہے جس کے لیے کچھ فاصلے پر ویکیوم کلینیئرز کو رکھ کر موبائل کو اندر سے مکمل طور پر خشک کرلیا جائے گا۔ چاول کو آزمائیں موبائل کو پانی سے مکمل طور پر خشک کرنے کے لیے ایک آزمودہ گھریلو ٹوٹکا اسے کچے چاول کے ڈبے میں دبا دیا جائے تو تین دن کے اندر اندر چاول موطائل کئ اندرونی حصوں میں چھپے پانی کے قطروں کو بھی اپنے اندر جذب کر لیں گے اور فون مکمل طور پر خشک ہوجائے گا۔ سلیکا جیل بھی فائدہ مند ہے فون کے اندر موجود پانی کے ننھے ننھے قطروں کو خشک کرنے کے لیے چاول کے ساتھ ساتھ سلیکا جیل کو بھی استعمال کیا جا سکتا ہے جس کے لیے دوائی کے ساتھ آنے والی سلیکا جیل کی تھیلی میں ذروں کو نکال کر موبائل میں ڈال دیا جائے تو یہ ذرے پانی قطروں کو خشک کر دیتے ہیں لیکن یہ طریقہ چاول کے مقابلے میں کم محفوظ ترین ہے۔ اب فون آن کیا جا سکتا ہے ان طریقوں کے استعمال بعد اس بات کا یقین کر لیا جائے کہ فون مکمل طور پر خشک ہوچکا ہے اس کے بعد فون کو آن کیا جا سکتا ہے تاہم پہلے بیٹری کو چارج کر لینا زیادہ مناسب رہے گا۔