معروف بھارتی لیجنڈر ی اداکار رنجیت سنگھ کو ان کے گھر والوں نے گھر سے کیوں نکالا تھا ؟ سالوں بعد انکشاف نے مداحوں کو آبدیدہ کر دیا

لکھنؤ(ڈیلی خبر) بالی ووڈ میں بطور ولن شہرت حاصل کرنے والے اداکار رنجیت نے کہا کہ 1971 میں ریلیز ہونے والی فلم’’شرمیلی‘‘ میں ریپ سین فلمانے پر والدین نے گھر سینکال دیا تھا۔ماضی کے لیجنڈری اداکار رنجیت نے کئی فلموں میں اداکاری کے جوہر دکھا چکے ہیں اور تمام ہی چوٹی کے ہیروز کے ساتھ فلموں میں کام کرنے کا اعزاز حاصل ہے جب کہ اداکار رنجیت سنگھ نے 200 فلموں میں ولن کا کردار کرکے شہرت حاصل کی تاہم اب لیجنڈری اداکار نے فلمی دنیا میں قدم رکھنے کے بعد پیش آنے والے دلچسپ واقعات سے پردہ کشائی کی ہے۔بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق رنجیت کا اپنے انٹرویو میں کہناتھا کہ 1970 میں فلم’’ساون بھادو‘‘تھی جس میں میرے کردار کی تعریف کی گئی تھی لہذا دوسری فلم ’’شرمیلی‘‘ کے پریمیئر کے لیے والدین کودہلی بلایا جہاں فلم کے دوران ریپ سین آتے ہی پورا خاندان اٹھ کر گھر چلاگیا جس کے بعد میں گھر پہنچا تو پورا خاندان ایسے بیٹھا تھا جیسے کوئی بہت بڑا گناہ کر آیا ہوں جب کہ والدہ کا کہنا تھا کہ عصمت دری کرکے آئے ہو اسی لیے اس گھر سے فوراً نکل جاؤ۔انہوں نے کہا کہ ریپ مناظر دیکھنے کے بعد والدین سمیت رشتے داروں نے مجھ سے بات چیت کرنا بند کردی تھی جب کہ ایک اور واقعے میں والدہ فلم میں میری موت کے مناظر دیکھ کر حقیقت سمجھ بیٹھیں تھیں اور ’’میرا بیٹا مرگیا‘‘ بول کر دھاڑیں مار کر رو رہی تھیں تاہم والدین کو فلموں کی حقیقت کے بارے میں بہت سمجھانے پر آگاہی حاصل ہوئی ۔