لاہور میں سٹیج اداکارہ قسمت بیگ کا بے رحمانہ قتل تو آپ کو یاد ہو گا؟اب اُسی قتل کیس سے متعلق شرمناک انکشاف ہو گیا

لاہور (ویب ڈیسک)ایڈیشنل سیشن جج سیف اللہ سوہل نے ادکارہ قسمت بیگ کے قتل کیس میں گواہوں کے منحرف ہونے پر پانچوں ملزم بری کرنے کا حکم دے دیا۔ملزموں پر اداکارہ کو 2016 میں فائرنگ کر کے قتل کرنے کا الزام تھا۔عدالت کے روبرو اداکارہ کی والدہ اور بہنوئی پیش ہوئے۔دونوں نے عدالت کو بتایا کہ رانا مزمل اور اس کے دیگر چار ساتھی ہماری بیٹی کے قاتل نہیں ہیں۔ہم اللہ کی رضا کے لیے ملزموں کو معاف کرتے ہیں۔اداکارہ کے لواحقین کی جانب سے کیس سے منحرف ہونے پر ملزموں نے عدالت میں بریت کی درخواست دائر کر دی۔جس کو عدالت نے گواہوں اور ورثا کے بیانات کی روشنی میں دیکھتے ہوئے منظور کر لیا اور رانا مزمل سمیت پانچوں ملزموں کو بری کرنے کا حکم دے دیا۔ قسمت بیگ کے قتل کیس میں مدعی اور ملزموں کے درمیان 60لاکھ روپے میں معاملات طے پا گئے۔ اخبار کے مطابق ملزم مزمل بٹ نے کیس کے مدعی اور قسمت بیگ کے بہنوئی شاہد محمود کو 60 لاکھ روپے دئیے جس کے عوض مقتولہ کے بہنوئی شاہد محمود نے صلح کی اور عدالت میں ملزموں کی شناخت کرنے سے انکار کر دیا اسکے علاوہ ملزم مزمل بٹ قسمت بیگ کے 2 بچوں اور اسکی والدہ کے گھر کے تمام اخراجات بھی برداشت کرے گا۔اخبارکے مطابق ملزموں نے صلح کے لیے ایک گھر اور پلاٹ دینے کی بھی حامی بھری ہے۔ ملزموں اور مدعیوں کے درمیان ہونے والی ڈیل کو بہت خفیہ رکھا گیا ہے مدعیوں نے اس ڈیل کے حوالے سے پولیس کو بھی آگاہ نہیں کیا۔ اس حوالے سے ایس پی سی آئی اے کا کہنا ہے کہ ہمیں اس ڈیل کے بارے میں کوئی خبر نہیں ہے یہ معاملات مدعی اور ملزموں کے درمیان طے پائے ہیں۔ واضح رہے کہ چند ماہ قبل ہربنس پورہ کے علاقے میں ملزم مزمل بٹ کے کہنے پر اسکے ملازم نے اداکارہ قسمت بیگ کو تھیٹر سے گھر واپس جاتے ہوئے گولیاں مار کر زخمی کردیا تھا جو بعدازاں ہسپتال پہنچ کر دم توڑ گئی تھی جس پر ساتھی اداکاروں نے مال روڈ بلاک کرکے شدید احتجاج کیا اور حکومت سے اداکار ہ کے ملزموں کو کیفرکردار تک پہنچانے کا مطالبہ کیا تھا۔