کیا گرفتار غیرملکی سمگلر لڑکی پولیس کی حراست میں بھی مسلسل سوشل میڈیا استعمال کررہی ہے؟ انٹرنیٹ پر ہنگامے کے بعد انتہائی حیران کن انکشاف سامنے آگیا

لاہور(ڈیلی خبر) لاہور ایئرپورٹ پر منشیات سمیت پکڑی جانیوالی چیک ری پبلک کی شہری تریزا ہزلکووا کے بارے میں توآپ کو معلوم ہی ہوگا جن کی سیلفیاں بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوچکی ہیں لیکن اسی اثناءمیں یہ دعویٰ بھی سامنے آگیا کہ وہ گرفتاری کے دوران ہی سوشل میڈیا مسلسل استعمال کررہی ہیں لیکن اب حیران کن انکشاف سامنے آیاہے کہ یہ ٹوئیٹ جعلی ہیں اور ماڈل کا اکاﺅنٹ ہی ڈیلیٹ ہوچکا ہے ۔
تفصیلات کے مطابق گزشتہ ہفتے لاہورایئرپورٹ سے دبئی کی کوشش میں 9کلوگرام ہیروئن سمیت پکڑی جانیوالی چیک ریپبلک کی21سالہ خوبرو لڑکی بظاہراپنی حراست کے دوران بھی سوشل میڈیا استعمال کرتی رہی جس کے بارے میں بتایاجارہاہے کہ وہ ایک ماڈل ہے ۔ کسٹمز کی سپیشل عدالت نے ملزمہ کو 12جنوری کو 14دن کیلئے جیل بھجوادیا تھااور تب سے ماڈل مسلسل ٹوئٹر اور فیس بک استعمال کررہی ہے جس میں وہ قانونی معاونت کی درخواست کرتے ہوئے دعویٰ کررہی ہے کہ وہ معصوم ہے اور مزید بتایاکہ اس کے ملک کے لوگوں نے اس سے ملاقات کی ہے ۔ یکے بعد دیگرے کئی ٹوئیٹس کے بعد مبینہ طورپر ماڈل نے لکھا کہ یہ میراآخری ٹوئیٹ ہے اور ” غصے میں ہوں، پریشان اور پرامید بھی ، میری آزادی تک اب تک کا میرا آخری ٹوئیٹ“۔

اپنے ٹوئیٹس میں ماڈل نے لکھاکہ”میرے گھر پر موجود تمام لوگوں کو پیار، میں ٹھیک ہوں ، میرے وکیل اور سفارتخانے کی خواہش ہے کہ میں رابطے ختم کروں، آپ بھی میری مدد کریں“اور یہ بات انہوں نے انگلش اور چیک زبان دونوں میں کی ۔
لوگواب مجھے مدد کی بہت ضرورت ہے ۔۔۔ میں بے گناہ ہوں جیسا کہ آپ جانتے ہیں (امید ہے کہ یہ غلط فہمی جلد دور ہوجائے گی ۔۔۔ مجھے یہ معلوم نہیں تھا کہ وہ وہ قیمتی سٹف نہیں ہے جیسا کہ پال نے مجھے بتایاتھا)۔

میں بے گناہ ہوں، میں یہ بار بار ان لوگوں سے کہتی ہوں جو میرے منصف ہیں۔

” میں مدد کرنے پر اسلامی جمہوریہ پاکستان کے لوگوں کی بہت شکرگزار ہوں‘۔

ایک ٹوئیٹ میں انہوں نے یہ بھی استفسار کیا کہ ”میرے لیے ۔ ۔ ۔کوئی زبان سمجھ سکتا ہے “۔
ان ٹوئیٹس اور پھر ماڈل کی آخری ٹوئیٹ کے بعدجب اکاﺅنٹ کی جانچ پڑتال کیلئے اس کی پروفائل کا جائزہ لینے کی کوشش کی گئی توانکشاف ہوا کہ مذکورہ اکاﺅنٹ ہی سرے سے ڈیلیٹ ہوچکا ہے اور اگر اس کو کھولنے کی کوشش کریں تو ایک پیغام پڑھنے کو ملتاہے جس کے مطابق ” معذرت، یہ صفحہ موجود نہیں ہے“۔