اگر میں نے سب بتادیا تو آپ رونا شروع ہوجائیں گے:عامر خان

لندن (اسپور ٹس ڈیسک)پاکستانی نژاد برطانوی باکسر عامر خان کے خاندانی مسائل کو میڈیا کی خبروں سے غائب ہوئے ابھی چند روز ہی ہوئے تھے کہ اب وہ ایک اور مشکل میں گرفتار ہوگئے۔گزشتہ سال مئی میں میکسیکن باکسر کنیلو سے میچ ہارنے کے بعد ان کی ٹیم، جس میں ان کے والد شاہ خان، انکل تاز خان اور بہترین دوست ساج محمد موجود تھے، نے بھی ان کا ساتھ چھوڑ دیا، جس کا انکشاف عامر خان نے ایک انٹرویو کے دوران کیا۔باکسنگ نیوز کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے عامر خان نے کہا کہ ‘تاز اور ساج اب مزید کام نہیں کررہے، ساج میرے بہترین دوست تھے جنہوں نے مجھے چھوڑ دیا، انہوں نے مجھے کسی اچھے مقصد کے لیے نہیں چھوڑا، لیکن میں نے ان سے کہا، دیکھیں اگر آپ لوگ کام نہیں کررہے تو میں بھی آپ لوگوں کو کچھ نہ کرنے پر پیسے نہیں دوں گا’۔عامر نے مزید کہا ‘شاید انہیں لگا کہ مجھے چھوڑنے کے لیے یہ ان کا بہترین وقت ہے، عامر کا کیریئر ختم ہورہا ہے اور ہم اس طرح ان سے الگ ہوجاتے ہیں اور یہی ان سب نے کیا، ان سب کو ایک بھاری چیک کی ضرورت تھی اور پھر وہ الگ ہوگئے’۔عامر خان نے مزید کہا ‘میرے ساتھ کچھ مزاحیہ سا کیس ہوا، مجھے ایک سرور کے استعمال کرنے پر 8 گرینڈ کا بل موصول ہوا، میں نے کہا 8 گرینڈ؟ جس کے بعد میں نے دوبارہ میل کی اور سوال کیا کہ یہ بل کس کا ہے؟’جس کے بعد مجھے جواب ملا، یہ آپ کے آفس میں لگے سرور کا بل ہے، میں نے سوچا میں ایک فائٹر ہوں، مجھے کسی آفس کی ضرورت نہیں’۔عامر خان کے مطابق ‘میں تو رِنگ میں فائٹ کرتا ہوں، مجھے سرور کی کیا ضرورت؟ اس آفس کے نام پر پتہ نہیں میں کیا کچھ دیتا جارہا ہوں، یہ سرور پرانی میلز کے لیے تھا جنہیں میں اب دیکھتا بھی نہیں’۔انہوں نے کہا کہ جب آپ کروڑوں کما رہے ہوں تو لوگ ان چھوٹے اخراجات کو بھول جاتے ہیں جو ان میں شامل ہوتے رہتے ہیں۔مئی میں ہارنے کے بعد عامر خان اپنے مالی معاملات کا ذمہ اٹھانا چاہتے جس کے باعث تاز اور ساج علیحدہ ہوئےاس حوالے سے عامر نے کہا ‘میں مئی میں میچ ہارا، لیکن سب کچھ اکتوبر اور نومبر میں تبدیل ہوگیا، کیوں کہ میں نے اپنی ٹیم سے کہا کہ میں ہر چیز کا کنٹرول خود اپنے ہاتھ میں لینا چاہتا ہوں اور وہ مجھے چھوڑ کر چلے گئے’۔عامر کے مطابق ‘میں نے ساج سے کہا میں تمہیں اپنے ساتھ رکھنا چاہتا ہوں، میں تمہیں اب بھی پیسے دوں گا اور اپنے کیریئر کے بعد بھی تمہارا خیال رکھوں گا، میں چاہتا ہوں تم ہر کام کا سسٹم اپنے ہاتھ لو، لیکن اس نے مجھے انکار کیا، شاید یہ سوچ کر کہ اب میں ختم ہوچکا ہوں’۔عامر خان نے مزید کہا ‘جب اس نے مجھے انکار کیا تو یہ میرے منہ پر ایک طمانچے کے برابر تھا کیوں کہ میں نے ہمیشہ اس کی مدد کی، مجھے ایسا لگا کہ جب مجھے ضرورت ہوگی تو وہ بھی میرے ساتھ ہوگا، جن لوگوں کو میرے ساتھ ہونا چاہیے تھا وہ مجھ سے الگ ہوگئے’۔انہوں نے اس حوالے سے مزید کہا کہ ‘مجھے اپنی چیزوں کا اسی وقت سے خود خیال رکھنا چاہیے تھا، جب میں 21 یا 22 سال کا تھا، میں دوبارہ اس کے بارے میں سوچنا بھی نہیں چاہتا، میں سمجھ رہا تھا سب کچھ ٹھیک چل رہا ہے’۔عامر کا کہنا تھا کہ ‘میرے ساتھ کیا کیا ہوا اگر میں نے سب بتادیا تو آپ رونا شروع ہوجائیں گے، جب پیسے آنا شروع ہوتے ہیں تو بہت سے لوگ تبدیل ہوجاتے، جب یہ ختم ہوجاتے ہیں تو آپ کو ان کا صحیح رنگ نظر آتا اور جب میں ہارا، سب نے یہی سوچا کہ میں ختم ہوگیا، میں نے سب کا اصل رنگ دیکھا اور اسی لیے مجھے یہ تبدیلیاں کرنی پڑیں’۔عامر خان کی باکسر مینی پیکیو کے ساتھ 3 کروڑ 20 لاکھ پاؤنڈ (4 ارب 18 کروڑ 85 لاکھ پاکستانی روپے) کے لیے ہونے والی سپر فائٹ اُن کے دوبارہ ابھرنے کا راستہ ہے۔اس حوالے سے انہوں نے کہا ‘کنیلو کے ساتھ میری لڑائی کے بعد میری ٹیم کو ایسا لگا جیسے اب میں ختم ہوچکا ہوں، لیکن یہ موقع ہے سب کو غلط ثابت کرنے کا۔انہوں نے مزید کہا کہ ‘میں ابھی ختم نہیں ہوا، میں صرف 30 برس کا ہوا ہوں، میرے پاس اب بھی بہت سے سال باقی ہیں اور یہ وقت میرے ابھرنے کا ہے۔عامر خان کا کہنا تھا کہ ‘وہ اب خوش ہیں، ان سب سے انہوں نے بہت کچھ سیکھا ہے’۔