معروف گلوکارہ نے شوبز سے کنارہ کشی کرلی ،اب کیا کررہی ہیں؟ جان کر مسلمان داد دیئے بغیر نہ رہ سکیں گے

بیروت (ویب ڈیسک) لبنان کی معروف پاپ سٹار امل حجازی نے گلوکاری سے کنارہ کشی اختیار کرنے کے بعد پیغمبر اسلام حضرت محمد کی مدح میں ایک نعت کے ساتھ اپنے نئے کریئر کا آغاز کردیا ہے ، حال ہی میں لبنانی گلوکارہ امل حجازی کے گلوکاری سے ریٹائر ہونے اور اسلامی شعار کے مطابق زندگی گزارنے کے فیصلے نے ان کے لاکھوں مداح کو حیران کر دیا تھا۔برطانوی میڈیا کے مطابق امل حجازی نے اپنا پہلا ریکارڈ 2001 میں جاری کیا تھا اور اس کے ایک سال بعد انھوں نے اپنا دوسرا البم جاری کیا تھا جو کہ بہت مقبول ہوا اور نئی صدی کی پہلی دہائی کے اواخر تک وہ عرب دنیا کی اہم ترین سٹارز میں شمار ہونے لگیں۔حجازی کا 2002 میں ریلیز ہونے والا البم ’زمان‘ عربی پاپ کے سب سے زیادہ فروخت ہونے والے ریکارڈز میں سے ایک تھا۔ ستمبر میں گلوکاری کی مقبول صنف سے ان کے ریٹائر منٹ کے اعلان نے ان کے مداح کو سکتے میں ڈال دیا تھا۔

انھوں نے اپنے فیس بک اکاؤنٹ پر لکھا کہ’اللہ نے بالآخر میری دعاؤں کو قبولیت بخشی۔‘ اس کے ساتھ انھوں نے حجاب میں اپنی ایک تصویر بھی پوسٹ کی‘‘۔انھوں نے لکھا کہ’میں کئی سال تک اپنے محبوب فن اور اپنے عزیز مذہب کے درمیان متصادم رہی۔ میں اپنی اس اندرونی کشمکش کے ساتھ جی رہی تھی کہ اللہ نے میری دعاؤں کو قبولیت بخشی۔’انھوں نے اپنے نئے انداز کے ساتھ سوشل میڈیا پر گذشتہ روز نعت کا ویڈیو جاری کیا ہے۔یہ گیت پیغمبر اسلام کے یوم ولادت پر اظہار عقیدت ہے اور اسے اب تک 80 لاکھ سے زیادہ مرتبہ دیکھا اور ڈھائی لاکھ سے زیادہ مرتبہ شیئر کیا جا چکا ہے۔ایک فیس بک صارف ابو محمد ال اصطل نے عربی زبان میں جواب دیا کہ’وہ جو کر رہی ہیں، جائز نہیں ہے۔ ایک خاتون کا گانا جائز نہیں ہے۔ اگر وہ اذان دے گی تو اس پر خدا کی لعنت ہوگی۔‘ایک دوسری صارف زینب مسلمانی نے انگریزی میں لکھا کہ’لوگو بیدار ہو جاؤ اور جس چیز کو خدا نے حرام کیا ہے اس کے لیے اس کی تعریف نہ کرو، انھیں ہدایت کی ضرورت ہے نہ کہ حوصلہ افزائی کی۔ ہمارا مذہب بہت سے لوگوں کے لیے مذاق بن کر کیوں رہ گیا ہے۔‘بہر حال بہت سے مداحوں نے تعریفی کلمات سے ان کا خیر مقدم کیا ہے۔دینا میشک نے انگریزی میں لکھا: ’آپ ایک ایسی خاتون کو تنقید کا نشانہ کیسے بنا سکتے ہیں جس نے خود کو مذہب میں ممنوع چیز سے روکا، حجاب زیب تن کیا اور پیغمبر کی شان میں گیت گائے۔‘