’مجھے جنسی دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا‘ معروف اداکارہ نے ایسا انکشاف کردیا کہ ہر کسی کی آنکھوں میں آنسو آگئے

لاس اینجلس(نیوز ڈیسک)ہالی وڈ میں ہاروے وائن سٹین کا سکینڈل تو اب سامنے آیا ہے، جس پر بڑا تہلکہ برپا ہوا، لیکن شوبز سے وابستہ اداکاراﺅں کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کے واقعات ہرگز کوئی نئی بات نہیں۔ اداکارہ نیٹلی پورٹمین نے تو اس بارے میں یہاں تک کہہ دیا ہے کہ اس انڈسٹری سے وابستہ چائلڈ سٹارز کے لئے بھی اپنی عزت بچانا آسان کام نہیں۔ خود اپنے ساتھ پیش آنے والے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے انہوںنے بتایا ہے کہ محض 12 سال کی عمر میں جب انہوں نے پہلی فلم میں کام کیا تو اس کے بعد انہیں اتنا ہراساں کیا گیا کہ وہ اسے جنسی دہشتگردی کہیں گی۔
اخبار ’دی مرر‘ کے مطابق ایل اے ویمن مارچ کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے نیٹلی نے بتایا کہ کس طرح انہیں جنسی طور پر ہراساں کیا جاتا رہا اور ان کی زندگی اور کیریئر پر اس کا کیا اثر پڑا۔ نیٹلی نے اپنی بارہویں سالگرہ فلم ’لیون‘ کے سیٹ پر منائی تھی۔ اس فلم میں وہ ایک خطرناک قاتل سے دوستی کرتی ہیں تاکہ اپنے والدین کے قاتلوں سے بدلہ لے سکیں۔ اس قاتل کا رول مشہور اداکار جین رینی نے ادا کیا تھا۔

نیٹلی نے کمسنی کے دور میں اپنے ساتھ پیش آنے والے واقعات کے بارے میں بات کرتے ہوئے بتایا ”جب مجھے پہلے پرستار کا خط موصول ہوا تو میں بہت خوش تھی لیکن اسے پڑھ کر میری وحشت کی انتہا نہ رہی۔ خط میں اس شخص نے غیر معمولی تفصیلات کے ساتھ لکھا تھا کہ کس طرح وہ مجھے جنسی زیادتی کا نشانہ بنانا چاہتا ہے اور اس عمل کے دوران کیا کیا میرے ساتھ کرنا چاہتا ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ فلم کی ریلیز کے بعد ایک ریڈیو سٹیشن نے میری عمر کا کاﺅنٹ ڈاﺅن شروع کردیا تاکہ یہ بتایا جاسکے کہ کب میں 18 سال کی ہوں گی اور جنسی رضامندی کی قانونی عمر کو پہنچوں گی۔ کئی فلم مبصرین تو اتنے بے شرم تھے کہ میرے نوخیز نسوانی حسن پر تبصروں میں بھی عار محسوس نہیں کرتے تھے۔ مجھے 13 سال کی کم عمر میں بھی محسوس ہورہا تھا کہ ہر طرف سے ہوس پرست مرد میرا گھیراﺅ کررہے تھے اور میں ان کی ہوس سے بچنے کے لئے متفکر
تھی۔ اس جنسی ہراس نے مجھے بے حد محتاط بھی کردیا اور میں نے فیصلہ کیا کہ اپنے کیریئر میں کبھی جنسی کردار قبول نہیں کروں گی، حتیٰ کہ بوس و کنار کا کوئی سین بھی نہیں کروں گی۔ مجھے اس بات کی شدید ضرورت محسوس ہوتی تھی کہ میں اپنے جسم کو ڈھانپ کررکھوں، تاکہ میں اپنے اردگرد لوگوں کو پیغام دے سکوں کہ میں کوئی شے نہیں ہوں جسے وہ اپنی جنسی تسکین کے لئے استعمال کرلیں بلکہ عزت اور تحفظ کی حقدار انسان ہوں۔ یہ جنسی دہشتگردی کا ماحول تھا لیکن خوش قسمتی سے میں اپنے محتاط رویے کی بدولت خود کو محفوظ رکھ پائی۔“