بی جے پی نے تاثر بنادیا کہ کانگریس مسلم جماعت ہے، سونیا گاندھی

نئی دہلی:(ڈیلی خبر) کانگریس کی سابق صدر سونیا گاندھی نے کہا ہے کہ بھاتیہ جنتا پارٹی میرے خاندان کو مسلمانوں کا ہمدرد اور کانگریس کو مسلمانوں کی جماعت بناکر پیش کرنے کی کوشش کر رہی ہے حالانکہ ہم مندر جاتے ہیں اور دیگر ہندو رسومات کی پیروی بھی کرتے ہیں البتہ ہم انتہا پسند نہیں۔مقتول بھارتی وزیراعظم راجیو گاندھی کی اہلیہ اور اپوزیشن جماعت کانگریس کی سابق صدر سونیا گاندھی نے حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی پالیسی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ مودی سرکار اپوزیشن کو دبانے کے لیے اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آئی ہے، اپوزیشن رہنماؤں پر دباؤ ڈالا جارہا ہے اور اُن کے مذہبی نظریات کو بڑھا چڑھا کر منفی انداز سے پیش کیا جا رہا ہے یہ عمل ملک میں رواداری اور ہم آہنگی کو سخت نقصان پہنچائے گا۔انہوں نے کہا کہ میں اور راہول جس شہر جاتے ہیں، پہلے وہاں کے مشہور مندر کی زیارت کرتے ہیں اور پھر دیگر کام نمٹاتے ہیں لیکن ہم نے آج سے پہلے کبھی مندر جانے کی تصاویر شیئر نہیں کیں لیکن آج بی جے پی کی پالیسی کے باعث حالات یہاں تک پہنچ گئے ہیں کہ راہول کو مندر جانے کی تصاویر بھی شیئر کرنا پڑ رہی ہیں، کیا 2014 سے قبل کا بھارت ایسا تھا، ہر گز نہیں، یہ سب بی جے پی حکومت کی پالیسی کا نتیجہ ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم دو مرتبہ مسند اقتدار پر براجمان ہوئے لیکن کبھی ایسی صورت حال پیدا نہیں ہوئی، ملک میں رواداری اور بھائی چارے کی فضا قائم تھی جبکہ بھارت دنیا بھر میں ایک سیکولر ملک کے طور پر جانا جاتا تھا۔واضح رہے کہ سونیا گاندھی نے کانگریس کی صدارت کا عہدہ اپنے صاحبزادے راہول گاندھی کے لیے گزشتہ برس دسمبر میں چھوڑ دیا تھا۔