پیوٹن،شی جن پنگ کی ڈرامائی کامیابی ،امریکہ یورپ خاموش،کیا نیو ورلڈ آرڈر ٹوٹ رہا ہے؟

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)جنوبی ایشیاء کی دو بڑی خبریں دنیا میں زیر بحث ہیں ان خبروں کا تعلق اگرچہ انتخابی عمل سے مگر ا س کے اثرات پوری دنیا پر مرتب ہوتے نظر آرہے ہیں، چین کے صدر شی جن پنگ کے تاحیات صدر منتخب ہونے کے فوراً بعد روس کے صدرولادیمیر پیوٹن کا چوتھی بارچھ سال کیلئے بھاری اکثریت سے صدر منتخب ہو جانا بھی امریکہ،یورپ اور برطانیہ میں ایک بڑی حساس خبر کے طور پر دیکھا جار ہا ہے،صدر پیوٹن عین اس وقت تقریباً چھہترفیصد ووٹ لے کر چوتھی بار صدر منتخب ہوئے ہیں جب دنیا میں روس اپنی کھوئی ہوئی حیثیت منواتا ہوا نظر آرہا ہے، خاص طور پر شام میں روس کی مداخلت سے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو جس طرح ہزیمت اٹھانا پڑی اس کے بعد مشرق وسطیٰ میں روس کا کردار نہ صرف گہرا ہوا بلکہ روس کے اندر بھی صدر پیوٹن کی کامیاب معاشی پالیسیوں کے نتیجے میں ایک ٹھہراؤ کے ساتھ ساتھ عام آدمی آگے بڑھتا نظر آرہا ہے، صدر پیوٹن نے اپنی انتخابی مہم کو بھی اسی نعرے کیساتھ کامیاب بنایا کہ وہ عام آدمی کا معیار زندگی بدلنے کیساتھ روس کا دفاع بھی ناقابل تسخیر بنانے کیلئے کوشاں رہیں گے،سینئر صحافی سی آر شمسی کے مطابق عالمی مبصرین صدر پیوٹن کی کامیابی اور چین میں صدر شی جن پنگ کو ایک بڑے لیڈر کے طور پر تسلیم کئے جانے کے بعد جنوبی ایشیاء میں دو بڑی طاقتورسیاسی شخصیات کی کامیابی کو خطے میں استحکام سے تعبیر کررہے ہیں، یقیناً روس کرشماتی قیادت میں مستحکم ہو رہا ہے اس نے ماضی کی کمزوریوں پر قابو پاتے ہوئے عالمی سیاست میں جارحانہ انداز اختیار کر کے اپنے اثر ورسوخ کو نمایاں کر دیا ہے،چین نے صدر پیوٹن کی کامیابی کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ ماضی میں روس کے ساتھہمارے تعلقات شاندار رہے ہیں مستقبل میں بھی یہی امید رکھتے ہیں،تاہم ماسکو اور بیجنگ کی قربت میں دونوں ملکوں کی قیادت کی بالغ نظری واضح ہے جنہوں نے اپنے اختلافات کو کافی عرصہ سے ’’کولڈ سٹوریج‘‘ میں رکھ کر دوستی کے راستے کھولے ہیں،یہاں یہ ذکر کرنا بھی ضروری ہے کہ نوے کی دہائی میں جب امریکہ نے ’’نیو ورلڈ آرڈر‘‘ کا اعلان کیا تو اس وقت چین کے وزیراعظم لی پنگ سے بیجنگ میں ایک ملاقات کے دوران ’’راقم‘‘پر واضح کیا تھا کہ ہم ’’نیو ورلڈ آرڈر‘‘ نہیں ’’نیو انٹرنیشنل آرڈر‘‘ چاہتے ہیں، اس وقت چین کا یہ دعویٰ محض خواب نظر آتا تھا لیکن آج کے بدلتے ہوئے عالمی تناظر میں یہ خواب حقیقت بنتا دکھائی دے رہا ہے البتہ ابھی چین اور روس کو جدید ٹیکنالوجی کی ترقی میں امریکہ کا مقابلہ کرنے میں وقت درکار ہے مگر اس کے باوجود دفاع، معاشی طور پر ابھرتی ہوئی ان دونوں طاقتوں نے ’’یونی پولر ورلڈ‘‘ کا تصور قدرے دھندلا رہا ہے،مشرق وسطیٰ میں بھی روس نے ایران کا ساتھ دے کر ایران کیلئے بھی راستے کھولے ہیں چین بھی ایران کی پالیسیوں کا ہمنوا نظر آتا ہے،ایران کیلئے ان دونوں ملکوں کی حمایت اس نازک مرحلے پر تقویت بن رہی ہے،مشرق وسطیٰ کی سیاست میں روس کے ساتھ ساتھ ایران بھی اپنے قدم جما رہا ہے جو یقیناً امریکہ کے زیر اثر عرب ممالک کیلئے کوئی اچھا شگون نہیں، صدر پیوٹن کے دوبارہ صدر منتخب ہونے پر پاکستان سمیت کئی ممالک نےمبارکباد کے پیغامات بھیجے ہیں مگر پیوٹن کی اس فتح پر واشنگٹن اور یورپ میں گہری خاموشی ہے،جبکہ روس اور برطانیہ کے درمیان کشیدگی پہلے انتہا کو چھو رہی ہے جس کی وجہ ایک روسی ’’ڈبل ایجنٹ‘‘ کی برطانیہ میں پراسرار ہلاکت بتائی جاتی ہے، برطانیہ نے اس کا الزام روس پر عائد کرتے ہوئے اپنے ملک سے تئیس روسی سفارتکاروں کو نکال دیا ہے ، جواباً کسی تاخیر کے صدر پیوٹن نے بھی برطانوی سفارتکاروں کو اتنی ہیتعداد میں ملک چھوڑنے کا حکم دیدیا ہے،مبصرین کے مطابق اس بڑی تبدیلی کے بعد خطے میں آنیوالی متوقع تبدیلیوں کے تناظر میں پاکستان کو اپنی خارجہ پالیسی کو مزید وسعت اور زمینی حقائق کے مطابق ڈھالنے میں تاخیر نہیں کرنی چاہئے اور نہ ہی ماضی کی اس غلطی کو دہرانا چاہئے جب لیاقت علی خان روس کا دعوت نامہ نظر انداز کر کے واشنگٹن چلے گئے تھے، نتیجے میں آج بھی پاکستان اس ایک غلطی کا خمیازہ بھگت رہا ہےمگر تاریخ نے ایک بار پھر پاکستان کو موقع فراہم کیا ہے کہ وہ اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات اعتماد کی بنیاد پر استوار کرے، یورپ اور امریکہ سے بھی متوازن تعلقات کو یقینی بنانے کیلئے واضح پالیسی اور سمت کا تعین ضروری ہے کیونکہ روس اور چائنا پر دباؤ برقرار رکھنے کیلئے امریکہ بھارت کو خطے کا تھانیدار بنانے کیلئے کوشاں ہے اس کی یہ کوشش کہاں تک کامیاب ہوتی ہے یہ کہنا قبل ازوقت ہے مگر صدر پیوٹن کی کامیابی اور بیجنگ میں صدر شی جن چنگ کی موثر قیادت کی موجودگی میں متوقع تبدیلی کو روکنا اب امریکہ کیلئے آسان نہیں ہوگا لہٰذا پاکستان کو اپنی خارجہ پالیسی کے خدو خال اس انداز میں ترتیب دینے ہونگے جن میں امن،خوشحالی اور عالمی برادری کیساتھ اعتماد کے رنگ بھرے جا سکیں!