نواز شریف پھنس گئے،آصف زرداری نے فوج سے ڈیل کر لی ، اسٹیبلشمنٹ نواز شریف اور مریم نواز کےجیل جانے کی منتظر کیوں ہے؟ آئی ایس آئی عمران خان کو اقتدار میںلانے کیلئے کیا کام کر رہی ہے؟اعزاز سید کے تہلکہ خیز انکشافات

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان کے معروف صحافی اعزاز سیدہفت روزہ اخبار جہاں میں اپنے کالم میں لکھتے ہیں کہ سینٹ انتخابات کے دوران بلوچستان میں ارکان صوبائی اسمبلی کی مبینہ بندر بانٹ جاری تھی کہ ایک شخص نے اس صوبے میں تعینات ایک سرکاری افسر کو بتایا کہ وہ بھی سینٹ کے انتخابات میں حصہ لینا چاہتا ہے۔ سرکاری افسر نے کہا کہ مجھے پچیس کروڑ روپے دے دو،دیکھو تمہیں الیکشن کیسے جتواتا ہوں۔ سرکاری افسر کو پچیس کروڑ تو نہ ملے مگر جس سے مطالبہ کیا گیا تھا اس نے معاملہ طشت ازبان کر دیا۔ ڈھاکا کے بعد بلوچستان اسمبلی فتح کرنے والوں کا اگلا منصوبہ یہ تھا کہ سندھ اور خیبرپختونخواہ کی اسمبلیوں کو بھی تڑوا دیا جائے گا۔ آصف علی زرداری نے پس چلمن کرداروں کو بتایا کہ پہلے عمران خان اپنی صوبائی اسمبلی توڑنے کا اعلان کریں۔ عمران خان سمجھے کہ شاید یہ زرداری صاحب کی چال ہے، انہوں نے پہلے سندھ اسمبلی کے خاتمے کا مطالبہ کر دیا۔ پہلے آپ، پہلے آپ کی گردان میں معاملہ الجھ گیا اور اسٹیبلشمنٹ ایک بار پھر کامیاب نہ ہوئی۔ آصف علی زرداری چونکہ’’ان‘‘کو خوش کرنا چاہتے تھے اس لئے وہ سندھ اسمبلی نہ توڑنے کے معاملے پر فوری طور پر اسلام آباد کی آبپارہ مارکیٹ کے ساتھ کھلی ایک دکان کے نائب منتظم جن کے قریبی عزیز نے وفات پائی تھی کے گھر چلے گئے۔ نائب منتظم کے ہاں فاتحہ خوانی کی گئی اور منایا بھی گیا۔ ویسے بھی کسی پنجابی کے گھر کوئی شخص چلا جائے تو معاملہ رفع دفع ہو ہی جاتا ہے اور جانے والے کو فیض بھی مل ہی جاتا ہے۔ یہی ہوا۔ اب نائب منتظم زرداری صاحب سے خوش ہیں اور زرداری صاحب سے خوش ہیں اور زرداری صاحب آئندہ وزیراعظم بننے کے خواب دیکھ رہے ہیں۔ بلاول ابھی چھوٹا ہے، اصل کھلاڑی تو میں ہوں۔ خیال ہے آصف علی زرداری صاحبکا۔یہ بات بھی گردش میں ہے کہ کس طرح آبپارہ مارکیٹ کے ساتھ کھلی دکان کے نائب منتظم نے ایک دکان چھوڑی اور سملم لیگ کے پورے چوبیس ارکان کو تحریک انصاف کے سینئر رہنما کے گھر بلا لیا اور عمران خان کو بتایا کہ یہ تمام لوگ ان کی جماعت میں شامل ہو کر اقتدار کا فیض حاصل کریں گے ۔ لوگ بھی سیانے تھے ، وقتی طور پر تو وعدہ وعید کیا اور چل دئیے۔ بعد میں اکثریت کسی فیض کے چکر میں آئے بغیر ٹوٹ گئی۔صرف چار تحریک انصاف میں شامل ہوئے، باقیوں نے تحریک انصاف سے فیضیاب ہونے سے انکار کر دیا۔ لوگ بھی تیز ہیں، تیل بھی دیکھ رہے ہیں اور تیل کی دھار بھی۔ خیال یہ تھا کہ بلوچستان کی اسمبلی ٹوٹی تو باقی سب خود سے جھولی میں آن گرے گا۔ مسلم لیگ ن ٹوٹ جائے گی اور نواز شریف گلیوں میں مرزا یار کی طرح اکیلے پھریں گے، ایسا کچھ نہیں ہوا۔ پارٹی ابھی تک برقرار ہے لیکن سوال یہ ہےکہ کیا پارٹی کو توڑنے کی آخری کوشش نہیں کی جائے گی؟جواب یہ ہے کہ جناب بالکل کی جائے گی۔ تمام باتوں کا انحصار ہے، احتساب عدالت کی طرف سے سنائی جانے والی سزا کے وقت اور پارٹی کے اتحاد پر ۔ نیب کے ایک سینئر پراسیکیوٹر کا کہنا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ اگلے دس سے پندرہ روز میں اپنے گواہوں کے بیانات اور کراس ایگزامینیشن مکمل کروا لیں گے ۔ نیب کی پراسیکیوشن ٹیم سمجھتی ہےکہ شریف خاندان کی طرف سے تینوں کیسز میں شاید کوئی نیا گواہ آئے گا۔ نہ نیا ثبوت کیونکہ نیب پہلے ہی انہیں اپنی رپورٹوں میں شامل کر چکی ہے۔ اگر ایسا ہوا تو احتساب عدالت کچھ روز فیصلہ لکھنے میں بھی لگائے گی۔ معاملہ اپریل کے آخر یا زیادہ سے زیادہ مئی کے آخر میں آجائے گا۔ حکومت کی مدت یوں تو یکم جون کو ختم ہونا ہے مگر بیوروکریسی اور پولیس آخری دس دنوں میں آنکھیں اپنےماتھے پر رکھ لیں گے۔ سزا کے بعد نواز شریف مریم نواز کے ہمراہ جیل جائیں گے تو پارٹی توڑنے کا عمل ایک بار پھر شروع کیا جائے گا۔ اگر پارتی قائم رہتی ہے اور نواز شریف اپنی سزا اور گرفتاری کے مرحلے کو اپنے حق میں استعمال کر لیتے ہیں تو یہ اسٹیبلشمنٹ کیلئے ڈرائونا خواب ہو گا اور اگر پارٹی بکھر گئی تو نواز شریف پھنس جائیں گے۔ بعض واقفان حال سمجھتے ہیں کہ نواز شریف کیجماعت کسی بڑی ٹوٹ پھوٹ کا شکار نہیں ہو گی اور پنجاب بھی نواز شریف کے ساتھ کھڑا ہو گا، چاہے وہ جیل ہی کیوں نہ چلے جائیں۔ ایک بات جس کا فی الحال کوئی امکان نظر نہیں آرہا، وہ یہ ہے کہ نواز شریف اور آصف علی زرداری ایک بار پھر ہاتھ ملائیں گے۔ یہ سب شاید اس وقت ہو گا کہ جب نواز شریف جیل میں ہونگے اور آصف علی زرداری ان سے جیل میں ملاقات کیلئے اڈیالہ جیل پہنچیں گے۔بہرحال ووٹوں کا ملنا فطری ہے، چاہے وہ کسی بھی ماحول میں ملیں۔ حیران کن بات تو یہ ہے کہ اس وقت پنجابی اسٹیبلشمنٹ ، پنجابی سیاستدان کے پیچھے لگی ہے اور اس پنجاب سیاستدان کا کہنا ہے کہ عوام جن میں ایک بڑا طبقہ پنجابیوں کا ہے وہ اس کا ساتھ دیں گے نہ کہ پنجابی اسٹیبلشمنٹ کا۔ سچ یہ ہے کہ پختون، بلوچ اور سندھی سب اپنا اپنا حق ادا کر چکے، اب باری پنجاب کی ہے کہ وہ کرتا کیا ہے؟جوں جوں حکومت کے خاتمے کے دن قریب آرہے ہیں توں توں گرمی اور اقتدار کے کھیل میں شامل فریقین کے اضطراب میں بھی اضافہ ہو رہا ہے ۔ کھیل پر تمام کی نظر ہے اور ہر چال پھونک پھونک کر چلی جا رہی ہے۔ آبپارہ کی دکان پر بھی رش ہے اور ادھر ادھر کی مارکیٹوں میں بھی تیزی آچکی ہے۔ ہم بھی کوشش کر رہے ہیں کہ سب کہے بغیر آپ کو سب بتا بھی دیں۔